صحت

چین نے کووڈ 19 کے آغاز کی تفتیش کرنے والے بین الاقوامی تفتیش کنندگان کا داخلہ روک دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

6 نومبر 2020 کو بیجنگ ہوائی اڈے میں ہوائی اڈے کے عملہ کا ایک رکن بین الاقوامی آمد کے خالی راستے سے چل رہا ہے۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

بیجنگ – کئی ماہ کے پیچیدہ مزاکرات کے باوجود بیجنگ نے بدھ (6 جنوری) کو آخری لمحات میں عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ٹیم کا داخلہ مسترد کر دیا، جس کے بعد ایک بین الاقوامی مشن شروع ہونے سے قبل ہی لڑکھڑا گیا، جسے کروناوائرس وبا کے آغاز سے متعلق معلوم کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

پردہ ڈالنے، سازش اور سراغ مٹائے جانے کے خدشہ کے الزامات کے پس منظر میں رواں ہفتے ایک دورے میں دس ماہرین کو چین پہنچنا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم غیبرییسیس نے کہا کہ تجزیہ کاروں میں سے چند ایک پہلے ہی چین کے لیے نکل چکے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے کسی ادارہ کی جانب سے بیجنگ کی ایک خال ہی ہونے والی سرزنش کے دوران انہوں نے جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس امر کو سامنے رکھتے ہوئے کہ دو ارکان نے پہلے ہی اپنے سفر کا آغاز کر دیا تھا، جبکہ دیگر آخری لمحات میں سفر نہ کر سکے، مجھے اس خبر سے نہایت مایوسی ہوئی۔"

image

ایک عمومی منظر میں 31 دسمبر کو بیجنگ میں چینی ریاستی کاؤنسل انفارمیشن آفس میں کووڈ 19 کرونا وائرس ویکسینیشنز پر منعقدہ ایک نیوز کانفرنس دکھائی گئی ہے۔ [لیو رامیریز/اے ایف پی]

image

یکم جنوری کو ووہان میں چینی ایک ان ڈور کنسرٹ میں رقص کر رہے ہیں۔ چینی حکومت نے اس وبا سے، جس پر اس نے 2020 میں پردہ ڈالا، نکل کر آگے بڑھنے پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی ہے۔ [نویل سیلس/اے ایف پی]

ڈبلیو ایچ او کے ایک اور عہدیدار نے بیجنگ کو شک کا فائدہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ویزہ کلیئرنس کا ہے، تاہم بیجنگ نے 6 جنوری کو کہا کہ تاخیر میں "صرف ویزا کا مسئلہ نہیں"۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہوا چُن ینگ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ماہرین کے گروہ کے دورہ سے متعلق مخصوص تاریخ اور مخصوص انتظامات" پر طرفین کے مابین مزاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا، "آغاز کا سراغ لگانے کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے۔ ہمیں اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ضروری کاروائیاں اور متعلقہ انتظامات کرنے ہوں گے کہ چین میں بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم کا کام سہولت سے چلے۔"

انہوں نے کہا کہ "ملک بین الاقوامی ماہرین کے گروہ کی چین آمد کے لیے سازگار حالات تشکیل دینے کے لیے ہر ممکن کوشش" کر رہا ہے۔

آغاز کی کہانی پر قابو

دنیا بھر میں 1.8 ملین افراد کی ہلاکت اور عالمی معیشتوں کی تباہی کا باعث بننے والے اس وائرس کے آغاز کی کہانی پر قابو رکھنے کے لیے حکومتِ چین پرعزم ہے۔

کرونا وائرس کے ابتدائی واقعات 2019 کے اواخر میں ووہان چین میں ریکارڈ کیے گئے تھے، جس سے چینی حکام پر اسے خفیہ طور پر بے ترتیبی سے نمٹنے کے الزامات سامنے آئے، جس کی وجہ سے یہ ان کی سرحدوں سے آگے تک پھیل گیا۔

2020 کے اوائل میں یہ جانتے ہوئے کہ ایک مہلک وبا آنے کو ہے، چینیوں نے تقریباً ایک ہفتے تک کوئی بات نہیں کی، جس سے وائرس نے وُوہان پر اپنے قدم جما لیے اور دنیا بھر میں پھیل گیا، جبکہ انہوں نے عمداً وبا پھوٹنے کے شواہد دبا دیے یا تباہ کر دیے۔

کووڈ 19 کا آغاز تلخ طور پر متنازع اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے الزامات اور قیاس آرائیوں— اور اس کے ساتھ ساتھ وائرس کے بیانیہ پر قابو رکھنے کے لیے پر عزم چینی حکام کی بدحواسی— کی دھند میں گم رہا ہے۔

ابتدائی طور پر سائنسدانوں نے کہا کہ یہ وائرس وُوہان شہر کے ایک ایسے بازار سے انسانوں میں آیا، جس میں گوشت کے لیے غیر روائتی جانور فروخت کیے جاتے تھے۔

اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ بازار وبا کا مقامِ آغاز نہ ہو بلکہ اس کے بڑھنے کی جگہ ہو۔

تنبیہ کرنے والوں کو خاموش کروایا جانا

ڈبلیو ایچ او ٹیم کی تحقیقات کے آغاز کے طے شدہ وقت سے چند ہی ہفتے قبل، شنگھائی کی ایک عدالت نے ایک چینی صحافی کو چین میں کووڈ 19 کی وبا پھوٹنے کے ابتدائی مراحل پر رپورٹنگ کرنے پر چار برس قید کی سزا سنائی۔

ایک سابق وکیل ژہانگ ژہان کو 28 دسمبر کو شنگھائی کی ایک عدالت میں وبا کے ابتدائی افراتفری کے مراحل میں رپورٹنگ کے دوران "جھگڑوں کا باعث بننے اور مسائل کے لیے اشتعال دلانے" کے الزام میں ایک مختصر شنوائی میں سزا سنائی گئی۔

فروری میں ان کی براہِ راست رپورٹس اور مضامین سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے، جنہوں نے ان حکام کی توجہ حاصل کی، جنہوں نے اس وبا کے پھوٹنے پر حکومت کے ردِّ عمل پر تنقید کو بے اثر کرنے کے لیے اب تک وائرس کی تنبیہ کرنے والے آٹھ افراد کو سزا دی ہے۔

بیجنگ نے اپنی سرحدوں کے اندر اس وائرس کو کنٹرول کرنے اوراپنی واپس لوٹتی معیشت میں اپنی "غیر معمولی" کامیابی پر خود کو مبارکباد دی ہے، جبکہ دیگر دنیا کے بیشتر ممالک دردناک لاک ڈاؤنز اور بڑھتے ہوئے واقعات سے نبرد آزما ہیں ۔

صحت کے بے نظیر عالمی بحران کے دوارن بیانیہ کو اپنے حق میں موڑنے کے لیے چین کے کیمیونسٹ حکام کا معلومات کے بہاؤ پر قابو رکھنا نہایت اہم رہا ہے، اس کے لیے ملک کی حکمران جماعت صدر ژی جن پنگ کو ان کی قیادت پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

مغربی جانچ پڑتال کو کم تر کرنے کی ایک کوشش میں کرسمس اور سالِ نو کے درمیان مخالفین کے خلاف غیر شفاف عدالتوں میں قانونی کاروائی کروانا چین کے کمیونسٹ حکام کی تاریخ رہی ہے۔

سچائی پر شک پیدا کرنا

اس وبا کے پھوٹنے سے اب تک، بیجنگ اس وائرس کے آغاز سے متعلق شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

مثال کے طور پر نومبر کے اوائل میں ریاست کے زیرِ انتظام پیپلز ڈیلی اخبار نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ "تمام دستیاب شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ کرونا وائرس وسطی چین کے شہر وُوہان سے شروع نہیں ہوا۔"

نومبر ہی میں بیجنگ نے فوری طور پر ایک اطالوی طبی جریدے کی ایک تحقیق کو جاری کیا جس نے تصدیق کی کہ ستمبر 2019 کے اوائل میں اٹلی میں کرونا وائرس زیرِ گردش تھا، اس سے تحقیق کے نتائج کی کلیدی تفصیلات ختم ہو گئیں اور وبا کے آغاز سے متعلق شبہات کو تقویت ملی۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام شواہد بتاتے ہیں کہ اس عالمی بحران کا محورومرکز وُوہان، چین ہے۔

اس بحران کے آغاز ہی سے بیجنگ نظریاتِ سازش کو فروغ دے کر اس وبا میں اپنے کردار سے تنقید کا رخ موڑنے کی بھرپور طریقے سے کوشش کرتا رہا ہے اور وائرس سے متعلق کھلم کھلا غلط معلومات سے خبروں اور سوشل میڈیا کو بھرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔

اس وبا کے پھیلنے اور اس بحران پر پردہ ڈالنے میں اپنے کردار کے باوجود حکومتِ چین ان کاوشوں کے جزُ کے طور پر کووڈ 19 وبا کے خلاف لڑائی میں اپنے "دلیرانہ کارناموں" کے بیانیہ کو بھرپور طریقے سے پھیلا رہی ہے۔

چین کے قومی عجائب گھر نے اگست میں ایک نمائش "اتحاد کی قوت" کا افتتاح کیا، جس میں ایسی تصاویر، مجسمے اور خوش نویسی کی نمائش کی گئی جو اس حکومت کے مطابق اس بحران سے نمٹنے میں اس کی کامیابی ہے.

چین کا ریاستی میڈیا دنیا کو یہ دکھانے پر بھی تلا ہوا ہے کہ ملک کرونا وائرس وبا سے نکل آیا ہے، لیکن ایسے ممالک جو تاحال کرونا وائرس کے زیرِ گردش ہونے کی وجہ سے سخت لاک ڈاؤنز سے متاثر ہو رہے ہیں اس میڈیا مہم کو غم و غصہ سے دیکھ رہے ہیں۔

بیجنگ نے اس وبا کے دوران اپنی نرم خوئی کی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے -- ترقی پزیر ممالک کو اپنی ویکسین دینے کا وعدہ کیا، اور ویکسین ڈپلومیسی میں ملوث ہوا .

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500