جرم و انصاف

ایک سال گزرنے کے باوجود، ایران نے یوکرینی جہاز کو گرائے جانے پر کسی کی بھی جوابدہی نہیں کی

اردشیر کوردستانی

جب ایرانی حکام نے آخیرکار تسلیم کیا تھا کہ ملکی فوج نے جہاز کو مار گرایا ہے تو ایران میں کئی دنوں تک حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے۔ لاکھوں ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے "آمر کے لیے موت" -- جو کہ رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف اشارہ ہے -- "جھوٹوں کے لیے موت" اور دوسرے بہت سے حکومت مخالف نعرے لگائے تھے۔

ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی طرف سے یوکرین کے مسافر جہاز کو، جو کہ تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوئے اڈے سے کیف جا رہا تھا، مار گرائے جانے کے تقریبا ایک سال کے بعد بھی، اسلامی جمہوریہ کی طرف سے کسی کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھرایا جانا ابھی باقی ہے۔

8 جنوری 2020 کو یوکرین انٹرنیشنل ایرلائنز کی پرواز 752 جو کہ تہران سے کیف جا رہی تھی، کو زمین سے فضاء میں مار کیے جانے والے ان دو میزائلوں نے مار گرایا تھا، جنہیں آئی آر جی سی کے میزائل توپ خانہ سے داغا گیا تھا۔ اس میں سوار تمام 176 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حادثے کے متاثرین میں 82 ایرانی شہری، 50 سے زیادہ ایرانی نژاد کینیڈین شہری اور یوکرین کے 11 شہری اور اس کے ساتھ ہی سویڈین، برطانیہ، افغانستان اور جرمنی کے شہری شامل تھے۔

یوکرین کا مسافر طیارہ، تہران کی طرف سے، عراق میں امریکی افواج پر میزائلوں کے حملے، جو کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی جو کہ آئی آر جی سی کی قدس فورس کے کمانڈر تھے، کی ہلاکت کے انتقام میں کیے گئے تھے، کا آغاز کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد گر گیا تھا۔

image

مار گرائے جانے والے یوکرینی جہاز کی باقیات 10 جنوری 2020 کو دیکھی جا سکتی ہیں۔ [ارنا]

image

جہاز کے کم عمر ترین مسافر، ایک سالہ ایرانی نژاد کینیڈین شہری کے جوتے، جو کہ اپنے والدین کے ساتھ جانبحق ہوا۔ [تصویر از Hamshahrionline.ir]

ویڈیو اور واقعاتی شہادتوں، جو کہ زمین سے فضاء میں مار کیے جانے والے میزائل کی طرف سے جہاز کو گرائے جانے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، کے باوجود، تہران نے کئی دنوں تک اس بات سے انکار جاری رکھا کہ پرواز 752 کو میزائل کے حملے میں مار گرایا گیا تھا۔

11 جنوری کو، ایرانی صدر حسن روحانی نے آخرکار سچ کو تسلیم کر لیا - - کہ آئی آر جی سی نے جہاز کو مار گرایا تھا۔

یہ اعتراف -- اور مبینہ پردہ پوشی کی کوشش کے سامنے آنے سے -- ایران میں کئی دنوں تک حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

لاکھوں ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے "آمر کے لیے موت" -- جو کہ رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف اشارہ ہے -- "جھوٹوں کے لیے موت" اور دوسرے بہت سے حکومت مخالف نعرے لگائے تھے۔

کچھ طالبِ علم مظاہرین نے آئی آر جی سی کو "نااہل" اور "لوگوں کے لیے باعثِ شرم" بھی قرار دیا تھا۔

اس کے بعد مہینوں تک، ایرانی حکام نے بین الاقوامی تفتیش کے ساتھ تعاون کو روکے رکھا اور وہ اب ان ایرانی نژاد کینیڈین خاندانوں پر تنقید کر رہے ہیں جو اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ہیں اور جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

غیر جواب شدہ سوالات

ایک آزادانہ کینیڈین رپورٹ جو کہ 15 دسمبر کو شائع ہوئی نے، خصوصی طور پر اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس سانحے کی رات کو ایران کی فضائی حدود کیوں کھلی تھیں کہا کہ " اس المناک حادثے کی بہت سی تفصیلات ابھی تک معلوم نہیں ہیں"۔

اس رپورٹ میں، جسے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے سابقہ وزراء میں سے ایک، رالف گڈیل جو کہ اس سانحے کے بارے میں حکومت کے خصوصی مشیر ہیں، نے لکھی ہے، مزید کہا گیا ہے کہ "ایران پر اس کی ذمہ داری اس لیے عائد ہوتی ہے کیونکہ -- کم از کم ابھی تک -- اس نے حقیقی آزادانہ، بامقصد اور شفاف طریقے سے، تفتیش (حفاظت، مجرمانہ یا دیگر) نہیں کی ہے"۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ "اس صورت حال کی ذمہ دار جماعت خود ہی تفتیش کر رہی ہے جو کہ زیادہ تر خفیہ ہے۔ اس سے اعتماد یا اعتبار پیدا نہیں ہوتا ہے"۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ "فوج کی طرف سے گرائے جانے کی صورت میں، اس کا یہ مطلب ہو گا کہ جو حکومت اس سانحے میں ملوث ہے (اس صورت میں ایران) حفاظت کی چھان بین پر پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے، مفادات کے واضح تنازعہ کے باوجود، آزادانہ، غیر جانب درانہ یا قانونی حثیت کو یقینی بنانے کے لیے بہت کم حفاظتی اقدامات موجود ہیں"۔

نومبر کے آغاز میں، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ "حادثے کی تفتیش کو تیز کرے" اور اس کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ کو شائع کرے۔

امریکہ میں قیام پذیر ایرانی صحافی شاہین محمدی نے کہا کہ اس حادثے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

حال ہی میں تہران میں ایک فوجی عدالت نے اس حادثے کے بارے میں سماعت کی تاکہ ایران میں متاثرین کے اہلِ خاندان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا سکے کہ وہ معاوضہ لے لیں اور اس بات کے بارے میں نہ سوچیں کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔

محمدی نے کہا کہ ایک باضابطہ تفتیش کے لیے ضروری ہو گا کہ آئی آر جی سی کے سینئر حکام عدالت میں آئیں اور اس بات کی وضاحت کریں کہ یہ حادثہ کیوں ہوا، احکامات کے سلسلے میں کہاں غلطی ہوئی، سچ کو بتانے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی -- یہ ایسی بات ہے جسے یہ گروہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اعلی عہدے داروں کو بچانا

آئی آر جی سی سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے اس وقت کہا تھا کہ خامنہ ای، جو کہ بظاہر تمام مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں کو اس واقعہ کے تین دن بعد، سچائی سے آگاہ کیا گیا تھا۔

ایک ریٹائرڈ ایرانی بحری تجزیہ کار، نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اسے جس طریقے سے سنبھالا گیا اس کا ایک واضح مقصد تھا: آئی آر جی سی اور دیگر حکام کو تنقید سے محفوظ رکھنا"۔

واقعہ کی تفصیلات کو اندھیرے میں رکھنا، حکومت کی طرف سے قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت ظاہر کرنے کی کوششوں کا مقصد پورا کرتا ہے۔

"بصورت دیگر، انہیں تکلیف دہ سوالات کا جواب دینا پڑتا جیسے کہ احکامات کے سلسلے میں خرابی کہاں آئی یا کس شہری اہلکار کو، اگر کوئی ہے، کو باخبر رکھا گیا تھا"۔

ایک اور منڈلاتا سوال اس تربیت کے بارے میں ہے جو میزائل توپ خانے کو چلانے والوں کو فراہم کی گئی تھی۔

ایرانی حکومت کی اپنی تفتیش میں کہا گیا ہے کہ میزائلوں کو داغے جانے سے پہلے، میزائل توپ خانے کو چلانے والوں کا اپنے کمانڈروں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔

برگیڈیر جنرل امیر علی حاجی زادہ، جو کہ آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر رہے ہیں، نے 11 جنوری کو کہا کہ "ایک غلطی ہوئی اور میں نے ذاتی طور پر اس کی تمام ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ جب مجھے خبر ملی تو میں نے خواہش کی کہ میں مر گیا ہوتا۔ میرے لیے جو بھی سزا مقرر کی جائے گی میں اسے قبول کر لوں گا"۔

ابھی بھی اپنے عہدے پر موجود، حاجی زادہ کو بظاہر اس غلطی کی، کوئی سزا نہیں ملی ہے جس کا اعتراف انہوں نے خود کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کی تمام فورسز اس رات انتہائی چوکنا تھیں اور "ہماری طرف سے فضاء کو سویلین ایر لائنز سے خالی کروا لینے کی متعدد درخواستوں کی، کچھ تحفظات کے باعث، اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تحفظات کیا تھیں۔

گھسیٹتے جانا

ذمہ داری قبول کر لینے کے باوجود، ایرانی حکام نے بعد میں ہونے والی تفتیش، کو گھسیٹا ہے جس میں یوکرین، کینیڈا اور فرانس -- جہاں جہاز کی پرواز کا ریکارڈ ڈی کوڈ کیا گیا اور پڑھا گیا تھا -- کے ماہرین شامل تھے۔

کینیڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک، اسلامی جمہوریہ نے اس وقت سے پہلے کی، جب جہاز کو میزائل نے نشانہ بنایا تھا، 25 سیکنڈ کی ریکارڈنگ میں سے صرف 19 سیکنڈ کی ریکارڈنگ سانجھی کی ہے۔

اسی طرح، یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے کیونکہ 24 دسمبر تک، تہران کو ابھی تک وہ دستاویزات اور شواہد، کیف کے ساتھ سانجھے کرنے ہیں جن کو سانجھا کرنے کے بارے میں اس نے نومبر میں ہونے والے دو طرفہ مذاکرات میں اتفاق کیا تھا۔

22 دسمبر کو، ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے خبر دی کہ ایرانی تفتیش کاروں نے، ان دوسرے ممالک کے نمائںدوں کو، جن کے شہری اس حادثے کا شکار ہوئے تھے، جہاز کے گرائے جانے کے بارے میں تکنیکی رپورٹ فراہم کر دی ہے۔

مگر یوکرین کے وزیرِ خارجہ دیمترو کولیبہ نے اس سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ کیف کو ابھی رپورٹ وصول نہیں ہوئی ہے۔

ایران، جس نے تاوان دینے پر اتفاق کیا تھا، نے اگلے سال کے بجٹ میں، جہاز کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خاندان کو معاوضہ دینے کے لیے 200 ملین یورو شامل کرنے کی تجویز کو بھی واپس لے لیا ہے۔ یہ بات یوکرین کے نائب وزیرِ خارجہ ییووین ینین نے 9 دسمبر کو بتائی۔

ان کے بقول ، معاوضے کی رقم پر ایرانی پارٹی کے ساتھ بات چیت ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

ایران اور پاکستان دونوں دہشتگردی کےلیے زرخیز زمین ہیں. ان کی افواج اور انٹیلی جنس دونوں عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں. ان کا خاتمہ ہونا چاہیے.

جواب