سلامتی

یمن کو پراکسی وار کا میدان بنانے کے سلیمانی کے خواب کی بھاری قیمت

نبیل عبداللہ التمیمی

image

2 دسمبر 2020 کو تعز کے مغرب میں ایک یمنی خاندان ایک غار کے باہر بیٹھا ہے جہاں انہوں نے غریب اور بے گھر ہونے کے باعث پناہ لے رکھی ہے۔ [احمد الباشا/اے ایف پی]

عدن – ایران کی علاقائی پراکسی وارز میں یمن کو میدانِ جنگ بنانے کے لیے، میجر جنرل قاسم سلیمانی کی تدبیر کی وجہ سے ان کی موت کے ایک برس بعد بھی یمن ایک بھاری قیمت چکا رہا ہے۔

معاشی اور سیاسی تباہی کے دہانے پر موجود، یمن کی حالیہ صورتِ حال میں، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران کی قدس فورس (آئی آر جی سی- کیو ایف) کے سابق کمانڈر سلیمانی کا ایک بڑا ہاتھ ہے۔

یمن ڈیٹا پراجیکٹ کے مطابق، ایران کی پشت پناہی کے حامل حوثیوں (انصاراللہ) کی جانب سے یمن میں بھڑکایا گیا بحران، 2015 سے اب تک 17,500 شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا باعث بنا۔ ہیومن رائٹس واچ نے خبر دی کہ 20 ملین سے زائد افراد خوراک سے متعلق عدم سلامتی کا سامنا کر رہے ہیں اور 10 ملین قحط کے خدشہ میں ہیں۔

ایران اور اس کے نائبین کو، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے کرنے پر، متواتر تنبیہات کے بعد 3 جنوری کو بغداد میں ایک امریکی حملے میں سلیمانی جاںبحق ہوئے۔

image

22 نومبر 2020 کو وسطی یمن میں مارب کے تقریباً 50 کلومیٹر شمال مغرب میں ایک جنگجو ایک ہیوی مشین گن اٹھائے ہوئے ہے جب یمنی حکومت کی وفادار افواج الجدان میں حوثی جنگجوؤں سے لڑ رہی ہیں۔ [اے ایف پی]

image

10 دسمبر کو ایرانی فوج کی جانب سے پوسٹ کی گئی بنا تاریخ کی، آرکائیو لی گئی تصویر میں قدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی دکھائے گئے ہیں۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

ان کی موت، مشرقِ وسطیٰ اور اس سے بھی آگے عسکریت اور ناچاقی کا بیج بونے کے لیے تہران کی کئی دہائیوں طویل مہم میں اہم لمحہ تھی۔

سلیمانی اور آئی آر جی سی نے حوثیوں کی مالی، عسکری اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق معاونت کی، جس سے وہ یمن میں ایران کے ایجنڈا کا نفاذ کر سکے، جس نے جنگ کو، جو اب چھٹے برس میں ہے، طول دے کر یمینیوں کی مصیبتوں کو کئی گنا بڑھا دیا۔

طاقت کا علاقائی عدم توازن

سعودی عرب کی جنوبی سرحد اور عالمی تجارت کے پھاٹک، آبنائے باب المندیب کے قریب، اس ملشیا کے ایک تزویری مقام کے حامل ہونے کی وجہ سے، آغاز ہی سے آئی آر جی سی کی نیت خطے میں طاقت کے توازن کو خراب کرنے کے لیے، حوثیوں کو ایک پراکسی فورس کے طور پر استعمال کرنے کی تھی۔

سیاسی تجزیہ کار ودّاح الجلیل نے کہا، "سلیمانی آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی مہارتوں کو حوثیوں میں منتقل کرنے اور ایسے مخصوص کام کرنے کے خواہشمند تھے، جن سے وہ رسوخ اور اختیار حاصل کر سکیں اور دنیا اور خطے کی سلامتی میں خلل ڈال سکیں۔"

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کا حصول بیلسٹک میزائل اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں (یو اے ویز) اور بین الاقوامی بحری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھائی جانے جیسی معیاری کاروائیوں کے ذریعے ہو گا۔

گزشتہ برس کے آغاز سے سعودی عرب کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جن میں 14 ستمبر 2019 کو ملک میں آرامکو کی تنصیبات پر ایک تباہ کن اور خلاف معمول حملہ شامل ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب نے ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں ایک سعودی سمندری آئل ٹرمینل میں اس وقت آگ بھڑک اٹھی جب حوثیوں کی بھیجی گئی، دھماکہ خیز مواد سے لدی دو کشتیوں کو عرب اتحادی افواج نے روکا۔

پھر 25 نومبر کو، جنوبی سعودی بندرگاہ شقیق پر لنگرانداز یونان کے زیرِ انتظام ایک آئل ٹینکر دھماکے سے لرز اٹھا۔ لندن میں قائم سمندری انٹلیجنس فرم ڈریاڈ گلوبل نے کہا کہ یہ دھماکہ حوثیوں کے بچھائے گئے ایک "بحری دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ" کی وجہ سے ہوا۔

جند روز قبل، حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے جدّہ میں آرامکو کے زیرِ انتظام ایک پلانٹ کو قدس- 2 میزائل سے نشانہ بنایا۔ آرامکو نے کہا کہ اس حملے سے آئل ٹینک میں ایک سوراخ ہو گیا، جس سے دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔

حزب اللہ کے ساتھ تربیت

الجلیل نےعراق، شام اور لبنان میں سلیمانی کی بھڑکائی گئی پراکسی وارز پر زور دیتے ہوئے کہا، " خطے میں آئی آر جی سی کے رسوخ کو پھیلانے کا کام قاسم سلیمانی کے سپرد تھا۔"

انہوں نے کہا، "اگرچہ یمن ان ممالک سے خاصے فاصلے پر ہے۔۔۔ سلیمانی نے اپنے تعلقات استعمال کیے اور ان ممالک میں خود سے منسلک ملیشیاؤں کو متحرک کیا تاکہ حوثیوں سے بات چیت کی جا سکے اور انہیں ماہرین اور معیاری اسلحہ منتقل کیا جا سکے۔"

انہوں نے کہا کہ انہوں نے تربیت و تجربہ حاصل کرنے کے لیے حوثی عسکری اور سیکیورٹی کمانڈروں کو لبنان، عراق اور ایران بھی بھیجا۔

2015 کے اوائل میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ حوثی اور حزب اللہ جنگجوؤں نے گزشتہ 10 برس تک مل کر تربیت حاصل کی۔ "انہوں نے ہمارے ساتھ ایران میں تربیت حاصل کی، پھر ہم نے انہیں یہاں [لبنان] اور یمن میں تربیت دی"۔

مئی 2015 میں سٹریٹیجک فکر سنٹر فار سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق، آئی آر جی سی حوثیوں کی ایلیٹ فورسز کو تربیت دینے میں براہِ راست ملوث ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تربیت دو مراحل میں دی گئی، جس میں سے پہلا سیشن 2011 اور 2012 میں ہوا، جو اعلیٰ اور درمیانے درجہ کے کمانڈروں پر مرتکز تھا۔ یہ تربیت لبنان، شام اور ایران میں ہوئی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دوسرا مرحلہ سادا میں حوثی کیمپس میں ہوا، جن میں حزب اللہ اور آئی آر جی سی کے فوجیوں نے تربیت میں حصہ لیا۔

غیر قانونی اسمگلنگ آپریشنز

سیاسی تجزیہ کار فیصل احمد نے کہا، "حوثیوں کو جو حمایت اور توجہ دینے میں سلیمانی کامیاب ہوئے، اس نے یمن کو تباہ کر دیا، اور خطے کے ممالک کو بھاری نقصان پہنچایا"۔

احمد نے کہا، "سلیمانی نے اپنے منصوبوں اور اسمگلنگ یونٹس کے ذریعے بلیسٹک میزائل۔۔۔ ماہرین، اسلحہ اور مادی معاونت پہنچائی۔"

اس جنگ میں ستمبر 2014 سے قبل، جب اس ملشیا نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، حوثیوں کے زیرِ استعمال زیادہ تر ہتھیار یمن میں نہیں دیکھے گئے۔

ایران نے اس ملشیا کو اسلحہ اسمگل کرنے کے لیے یمن کی 2,500 کلومیٹر ساحلی پٹی، یمنی جزائر اور بحری جہاز استعمال کیے۔

یمنی افواج نے 2013 اور 2015 میں یمنی علاقہٴ سمندری عملداری سے اسلحہ سے لدی دو ایرانی کشتیاں – جہان 1 اور جہان 2 ضبط کیں۔

رواں برس اپریل اور جون میں عرب اتحاد نے بحیرہٴ عرب میں حوثیوں کی جانب جاتے ہوئے اسلحہ کی دو ترسیلات ضبط کیں۔

موسمِ گرما میں یمنی کوسٹ گارڈز نے چار مختلف آپریشنز میں اسلحہ، گولہ بارود یا کوکین سے لدی متعدد کشتیاں پکڑیں۔

احمد نے کہا، "سلیمانی [کی موت نے]حوثیوں کے لیے بنائے گئے ان کے منصوبوں کا نفاذ آئی آر جی سی کے لیے ناممکن بنا دیا۔"

احمد نے مزید کہا، "یہ خلا اس حقیقت سے واضح ہے کہ ایران نے آئی آر جی سی آفیسر حسن ایرلو کو حوثیوں کی براہِ راست نگرانی کرنے اور یمنی شہروں، بین الاقوامی شپنگ راستوں اور سعودی معاشی تنصیبات کے خلاف عسکری کاروائیاں کرنے کے لیے اپنے سفیر کے طور پر بھیجا۔"

احمد نے کہا کہ ان افعال نے "جنگ کو طول دے دیا اور نتیجتاً یمن کو ہر سطح پر تباہ کرتے ہوئے، دنیا میں انسانیت سے متعلق بدترین بحران پیدا کر دیا۔"

علاقائی سلامتی کی شاہراہ

آباد سنٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر عبدالسلام محمد نے کہا، "آئی آر جی سی کی حکمتِ عملی امیر خلیجی ممالک سے قریب رہنے کے لیے یمن پہنچنا، اور اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایک ایسی فوج تیار کرنے کے لیے گنجان آباد علاقوں میں اپنی موجودگی رکھنا تھی، جو مقاماتِ مقدسہ اور تیل کے ذخائر کا قبضہ حاصل کرنے کے اس کے خواب کو حقیقت بنا سکے۔"

انہوں نے کہا کہ حوثی تحریک اس حکمتِ عملی کے لیے ایک "ضروری آلہ" تھی۔

انہوں نے ایران کے روحانی پیشوا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت تک اپنی "نفرت انگیز اور تباہ کن علاقائی حکمت ہائے عملی کی پیروی کرتا رہے گا جب تک خمینی حکومت اقتدار میں ہے۔"

محمد نے کہا، "نئے دارالحکومت گریں گے اور [ایران] کسی نئی جگہ کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد اسے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا مقصد ایک ایسی سیکیورٹی پٹی تشکیل دینا ہے جو جوہری ہتھیار رکھنے کے اعلان کے بعد اسے تحفظ فراہم کرے گی۔"

حکومتِ ایران نے 2 دسمبر کو ایک قانون منظور کیا جس میں حکم ہے کہ فوری طور پر یورینیم کی افزودگی میں اسلحہ کے درجہ سے قریب تر سطح تک اضافہ کیا جائے اور فروری کے اوائل میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس حکومت سے پابندیاں نہ اٹھائے جانے کی صورت میں بین الاقوامی جوہری معائنہ کنندگان کو نکال باہر کیا جائے۔

ایسے اقدام 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے سنگِ میل جوہری معاہدوں کے جزُ کے طور پر حکومتِ ایران کے وعدوں کے خلاف ہیں۔

محمد نے کہا، "سلیمانی کا کردار ایران کی حکمتِ عملی کے نفاذ کو تیز تر کرنا تھا، جس میں صنعا اور دمشق کے ساتھ ساتھ بیروت اور بغداد پر قبضہ تھا، اور ان کا قتل اس حکمتِ عملی کو تبدیل نہیں کرے گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "آئی آر جی سی میں ان کے متبادل موجود ہیں تاہم وہ اس قدر طاقتور نہیں۔"

قدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قانی اس سطح کا رسوخ تو نہیں رکھتے جو کبھی سلیمانی دکھاتے تھے، تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ان ہی جیسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500