حقوقِ نسواں

کے پی نے قبائلی پٹی میں خواتین کی کارجوئی کو فروغ دینے کے لیے منصوبہ شروع کیا ہے

ظاہر شاہ شیرازی

image

ایک خاتون اور لڑکا، 12 اکتوبر 2020 کو پشاور میں ایک باغ میں جاپانی پھلوں کے درخت کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ [عبدل مجید/ اے ایف پی]

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کی طرف سے، صوبے کے نئے انضمام شدہ اضلاع میں خواتین میں کارجوئی کو فروغ دینے کے لیے ایک پہلکاری، انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے تعریف حاصل کر رہی ہے۔

کے پی کی حکومت ایک خصوصی پروگرام شروع کر رہی ہے جس کا مقصد علاقے میں جنگ اور عسکریت پسندی سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے ملازمتوں اور آمدن پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

کے پی کے منصوبہ بندی اور ترقی کے شعبہ کے مطابق، یہ پہل کاری جس کا نام "رکاوٹوں کے باجود چمکتی ہوئی خواتین کارجو" ہے اور اسے دو قبائلی اضلاع، کرم اور خیبر میں شروع کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے انضمام شدہ علاقوں کے گورننس پروجیکٹ، جو کہ اس پہل کاری کا سپانسر ہے، میں صنف کے بارے میں سینئر سیکٹر سپیشلسٹ ثمینہ آفریدی نے کہا کہ "یہ پروگرام برداری کی بنیاد پر خواتین راہنماوں یا 'مشرانائی' کی شناخت اور تربیت کرے گا جو حدف شدہ شعبوں کے گرد 20 سے 30 خواتین پر مبنی کارجوئی گروہ کو منتظم کرے گا۔

image

انضمام شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے متعلقہ فریقین اور ترقیاتی ماہرین نے 20 اکتوبر کو پشاور میں، قبائلی علاقوں میں جنگ اور دہشت گردی سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے ملازمتوں اور آمدن کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کرنے کے لیے درکار ضروریات پر بات چیت کی۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

انہوں نے کہا کہ اس سے "خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا، ان کی پیسے کمانے کی صلاحیتوں کو بڑھانا اور قبائلی معاشرے میں ان کے کردار کو بڑھانا ہے۔

انہوں نے 6 دسمبر کو کہا کہ "ان "مشرانائی" کو ان کی صلاحیتوں، تعلیم، سماجی مرتبے اور معاشرے میں ان کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا"۔

آفریدی جو کہ اس منصوبے کی قیادت کر رہی ہیں نے کہا کہ کرم اور خیبر کے قبائلی اضلاع میں تقریبا 3,000 خواتین اس پروگرام کے تحت معاشی وسائل میں اضافے تک رسائی سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہنرمند خواتین کی تعداد بڑھانے، خواتین کی تنظیمی اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور خواتین کے گروہوں کو مقامی حکومتوں، کاروباری برادری اور ترقیاتی تنظیموں کے ساتھ جوڑنے کے علاوہ، مشترکہ اقتصادی مفاد کے گرد، خواتین کارجوُوں کے 150 گروہ بنائے جائیں گے"۔

معاشی خودمختاری

آفریدی نے کہا کہ یہ پروگرام پسماندہ گروہوں اور انضمام شدہ اضلاع میں رہنے والے اقلیتی گروہوں کے ارکان پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلکاری ضروری ہے کیونکہ انضمام شدہ اضلاع میں زنانہ لیبر فورس کی شرکت صرف 5.9 فیصد ہے جس کے مقابلے میں مردانہ لیبر فورس کی شرکت 38.6 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم معلومات، صلاحیتوں اور مالیات تک خواتین کو حاصل محدود رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں"۔

آفریدی نے کہا کہ حکام ابتدائی مرحلے پر کامیابی کا اندازہ لگانے کے بعد، اس پروگرام کو تمام قبائلی اضلاع تک وسیع کر دیں گے۔ وہ اسے اس وقت ایک کامیابی تصور کریں گے جب اقتصادی اور مالی طور پر خودمختار خواتین اپنے فیصلے خود کریں گی۔

سماجی بہبود کے لیے کے پی کے سیکریٹری منظور احمد نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقے میں خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ اپنے کاروبار شروع کریں۔

انہوں نے کہا کہ "خاتون کارجؤوں کے گروہ بنانا، انضمام شدہ علاقوں میں خواتین کی مدد کرنے اور انہیں مائکرو اور چھوٹے کاروباروں کی ترقی کی طرف بڑھانے کی طرف پہلا قدم ہو گا۔

کے پی کے سماجی بہبود کے شعبہ کی مدد سے، یہ گروہ سرکاری شعبوں، مالی اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کو جوڑیں گے تاکہ مہارت کی تربیت اور بغیر سود یا کم شرح سود کے قرضوں تک رسائی جیسے معاملات کو باسہولت بنایا جا سکے۔

زراعت، دستکاریاں، کھانوں کی تیاری اور پیکنک، نرسریاں اور باورچی خانہ کی باغبانی ایسے کچھ شعبے ہیں جنہیں اس پروگرام کے منتظمین نے ہدف کردہ شعبوں کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

قبائلی خواتین کی معاشی خودمختاریسے سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ بات کے پی میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم بلو وائنز کی صدر شاہین قریشی نے کہی۔

قریشی جو کہ خواتین کے اسٹیٹس کے بارے میں کے پی کے کمیشن کی سربراہ ہیں، نے کہا کہ "دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ غربت ہے اس لیے معاشی طور پر خودمختار خواتین کی نہ صرف خاندان میں فیصلے کرنے میں رائے شامل ہو گی بلکہ وہ انتہاپسندانہ عناصر کی سپلائی لائن کا بھی خاتمہ کر دیں گی جو نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر پیسوں کے لیے ہتھیار اٹھانے اور کرایے کے سپاہیوں کے طور پر لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ سماجی-اقتصادی کارجوئی کو فروغ دینا جو خواتین کو مرکزی کردار دیتی ہے، سے "جنگ اور عسکریت پسندی کے شکار منضمم قبائلی اضلاع کی معیشت کو یقینی طور پر ترقی ملے گی اور عسکریت پسندوں کی بھرتی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا جنہیں سہولیات اور مراعات سے جنگ کی طرف بہلا کر لے جایا گیا تھا"۔

خاندانوں کو غربت سے نکالنا

انضمام شدہ ڈسٹرکٹ اورکزئی سے تعلق رکھنے والی سرگرم کارکن نوشین جمیل اورکزئی نے بھی اس پہلکاری کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ پروگرام قبائلی خواتین کو اعتماد دے گا اور وہ فیصلے کرنے کے عمل میں شامل ہونے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گی"۔

انہوں نے کہا کہ "منصوبے ہمیشہ کاغذ پر بہت اچھے ہوتے ہیں مگر حقیقی تبدیلی لانے کے لیے حکومت کو ان کے نفاذ کو یقینی بنانا ہو گا کیونکہ قبائلی علاقوں کی خواتین ہمیشہ سے شدید غربت کا شکار رہی ہیں۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب نگرانی ہونی چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ "انضمام شدہ علاقوں میں ہنرمند خواتین ان خاندانوں کی قسمت بدل سکتی ہیں جو جنگ اور دہشت گردی سے انتہائی زیادہ متاثر ہوئے ہیں". خواتین دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیںکیونکہ دہشت گرد لڑکیوں کے اسکولوں کو نشانہ بنانے اور انہیں گھروں سے باہر ہر طرح کی سرگرمیوں سے خارج کر کے، انہیں ہمیشہ سے محروم رکھنا چاہتے تھے"۔

اورکزئی نے کہا کہ "یہ پروگرام ان کے زخموں کو بھرنے اور انہیں دوبارہ زندگی کی طرف لانے کے لیے بہت اچھا پروگرام ہو گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

اچھا اقدام

جواب