معاشرہ

ریل کے منصوبے کی تنخواہوں میں عدم مساوات سے پاکستانی کارکنان اور چینی کمپنیوں کے مابین ایک نیا تنازع

پاکستان فارورڈ

image

2017 میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کی مخالفت کرنے والے لاہور کے تاجروں کے احتجاج کی ایک تصویر۔ لاہور کو او ایل ایم ٹی کی تعمیر کی قیمت اپنے چند دمکتے ہوئے عالی شان تعمیراتی خزانوں کی صورت میں چکانا پڑی۔ [پاکستان فارورڈ]

لاہور – ایسے پاکستانی جنہوں نے لاہور میں چین کے تعمیر شدہ اس لائیٹ ریل ٹرانزٹ سسٹم پر کام کیا، کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اپنی کاوشوں کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین (او ایل ایم ٹی) جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ساتھ منسلک ہے اور جس کا آغاز اکتوبر کے اواخر میں ہوا، پہلے ہی ان الزامات کی زد میں ہے کہ اس ریلوے کو تعمیر کرنے والی چینی فرمز نے کارکنان کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے جائے تعمیر پر حفاظتی تدابیر کو پسِ پشت ڈالے رکھا، جس کے نتیجہ میں چند مزدوروں کی اموات واقع ہوئیں۔

اس انتشار پیدا کرنے والے متنازع منصوبے کی تعمیر کا آغاز 2015 میں ہوا۔

چین پاکستان معاشی راہداری کی ابتدائی منفعت کے منصوبے کے طور پر، او ایل ایم ٹی کے لیے ایکسپورٹ-امپورٹ بینک آف چائنہ نے 1.6 بلین ڈالر (256.6 بلین روپے) کے مالیات فراہم کیے اور اس کی تعمیر چائنہ سٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ اور چائنہ نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن نے کی۔ گوانگژو میٹرو گروپ، نورینکو انٹرنیشنل اور ڈائیو پاکستان ایکسپریس بس سروس اسے چلاتے ہیں۔

image

پاکستانی حکومتی عہدیداران کی جانب سے پاکستان فارورڈ کو دی گئی عملہ کی تنخواہوں کی فہرست۔ چینی عملہ کے صفحات یوآن میں تنخواہیں بتاتے ہیں۔ یہ 12 لاکھ روپے (7,724 ڈالر) تا 36 لاکھ روپے (22,203 ڈالر) تک تھیں۔ پاکستانی کارکنان کی ماہانہ تنخواہیں 30,000 روپے (187 ڈالر) تا 625,000 روپے (3,900 ڈالر) تک تھیں۔ [پاکستان فارورڈ]

image

نومبر 2019 میں اسلام کوٹ میں تھر کے صحرائی خطے کے باشندے چینی بیلٹ اینڈ روڈ اقدام (بی آر آئی) سے منسلک منصوبوں سے ہونے والی ناانصافی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں – مقامی افراد پر اثرات کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر چینی کمپنیوں کی جانب سے مقامی وسائل کے استحصال کے ساتھ – چینی رسوخ میں اضافہ خطے میں بدامنی لا رہا ہے۔ [پاکستان فارورڈ]

اب او ایل ایم ٹی پر کام کرنے والے پاکستانی الزام لگاتے ہیں کہ انہیں اپنے چینی ہم منصبوں کی نسبت اپنی مزدوری کے عوض قلیل تنخواہیں ملتی تھیں۔

پاکستانی حکومتی عہدیداران کی جانب سے پاکستان فارورڈ کو دی گئی دفتری دستاویزات کے مطابق، او ایل ایم ٹی پر کام کرنے والے عملہ کی تنخواہوں کی فہرستیں انکشاف کرتی ہیں کہ چینی عملہ نے پاکستانیوں کی نسبت بہت زیادہ پیسہ کمایا۔

چینی عملہ کا صفحہ یین میں تنخواہوں کا انکشاف کرتا ہے۔ اس کی حد 12 لاکھ روپے (7,724 ڈالر) سے 36 لاکھ روپے (22,203 ڈالر) کے درمیان ہے۔

پاکستانی کارکنان کی ماہانہ تنخواہیں 30,000 روپے (187 ڈالر) سے 625,000 روپے (39,000 ڈالر) کے درمیان ہیں۔

او ایل ایم ٹی منصوبے میں ایک انجنیئر علی نے کہا، "ہم چینی عملہ کو پرکشش تنخواہیں دینے کے خلاف نہیں ہیں۔۔۔ لیکن تنخواہوں کا فرق بہت بڑا ہے اور اس سے پاکستانی کارکنان کی ہمت ٹوٹ گئی۔" انہوں نے صرف اپنے نام کا آخری حصہ ہی بتایا کیوںکہ انہیں اس مسئلہ پر میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔

50 سے زائد کارکنان کی اموات

تنخواہ کا مسئلہ ملک میں – اکثر خطرناک، بلکہ مہلک صورتِ حال میں –چینی منصوبوں پر کام کرنے والے پاکستانیوں کی تازہ ترین شکایت ہے۔

بطورِ خاص ریل کا یہ منصوبہ مسلسل تنازعات کا شکار رہا ہے۔

مشتبہ حفاظتی اقدامات کے نتیجہ میں اس منصوبہ کی تعمیر کے دوران درجنوں پاکستانی کارکنان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مزید برآں، ثقافت کے فعالیت پسندوں اور شہریوں کی جانب سے احتجاج کے باوجود کارکنان نے بڑی تعداد میں ثقافتی ورثہ اور کم آمدنی والی رہائشیں گرا دیں۔

نومبر میں ایک گارڈیئن رپورٹ کے مطابق، 27 کلومیٹر طویل او ایل ایم ٹی منصوبے پر کام کرنے والے 50 سے زائد پاکستانی کارکنان جاںبحق ہوئے۔

جون 2017 میں لاہور میں اس ریل منصوبے پر کام کرنے والے چار مزدور ایک کرین سے گر کر زٍخمی ہو گئے، جبکہ جنوری 2017 میں لاہور میں کارکنان کے لیے ایک عارضی رہائش میں آگ لگنے سے سات کارکنان جاںبحق ہو گئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔

مئی 2016 میں منوال میں ایک ویئر ہاؤس میں ان کی عارضی رہائش پر ایک دیوار گرنے سے سات کارکنان جاںبحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ جنوری 2016 میں چنگ کے علاقہ میں دو کارکنان کرنٹ لگنے سے جاںبحق ہو گئے۔

منصوبے کے کارکنان اور مزدوروں کے گروہوں نے تواتر کے ساتھ او ایل ایم ٹی منصوبے پر ملازم کارکنان کی صحت و سلامتی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

اس منصوبے کے ایک مزدور امجد بٹ نے کہا، "پہلے اپنے کارکنان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے بجائے، چینی کمپنیوں نے او ایل ایم ٹی کی ڈیڈ لائنز پوری کرنے کے لیے ان [کارکنان] کی جانیں خطرے میں ڈالیں۔" جنوری 2016 میں تمام کارکنان نے کام معطل کر دیا کیوں کہ انہیں حفاظتی لباس نہیں ملا تھا۔

2017 میں آگ سے جاںبحق ہونے والے سات کارکنان میں سے ایک محمّد شریف کے ایک عزیز محمّد جمیل نے کہا کہ چینی ذمہ دار ہیں کیوں کہ انہوں نے کارکنان کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا۔

جمیل نے مخصوص چینی فرم کی نشاندہی کیے بغیر کہا، "اس کے باوجود اس کمپنی نے جاںبحق ہونے والے کارکنان کے اہلِ خانہ کی تلافی نہیں کی۔ او ایل ایم ٹی تعمیر ہو گئی لیکن معصوم کارکنان کے خون سے۔"

پاکستان میں چین کی پشت پناہی کے منصوبوں میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں عام ہیں۔

2019 میں لیڈین، ہالینڈ میں لیڈین، یونیورسٹی کی شائع کردہ ایک تحقیق کے مطابق، ایک واقعہ میں چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے جزُ کے طور پر تعمیر کی گئی 309 کلومیٹر طویل موٹروے، M4 موٹروے کی تعمیر کے دوران آجروں نے کارکنان کے حقوق غصب کیے۔

اس تحقیق میں موقع پر مزدوروں کے ساتھ انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا، "عام طور پر بھرتیاں زبانی تھیں، اور [کارکنان] کے حقوق کی ضمانت کے لیے کوئی باقاعدہ معاہدے نہیں تھے۔"

"تنخواہوں کی ادائیگی میں مسائل تھے، جن سے متعلق اکثریت نے کم ہونے پر اتفاق کیا؛ چند ایک کی تنخواہوں سے کٹوتیاں ہوتی یا دیر سے تنخواہیں دی جاتیں۔" کارکنان نے حفاظتی آلات اور تربیت کی عدم دستیابی کی بھی اطلاع دی۔

ستمبر میں ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا میں سوکی کناری پن بجلی گھر کی تعمیر کی انچارج چینی کمپنی کے خلاف ایک مظاہرے میں مرکزی ناران مانسہرہ روڈ کوسینکڑوں کارکنان نے بند کر دیا۔

1.8 بلین ڈالر (297 بلین روپے) مالیت کے منصوبے، اس بجلی گھر کی مرکزی ٹھیکیدار ووہان اساسی ایک تعمیراتی فرم چائنہ گیژوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ ہے۔

کام کرنے کا خطرناک ماحول اور تنخواہ کی عدم مساوات مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ او ایل ایم ٹی کی تعمیر کا نتیجہ لاہور کے ورثہ کے کچھ خزانوں کے نقصان کی صورت میں بھی آیا۔

اقوامِ متحدہ کے ادراہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کے ساتھ مقامی معماروں اور ورثہ کے فعالیت پسندوں نے او ایل ایم ٹی منصوبے کی وجہ سے ورثہ کے متعدد مقامات، بطورِ خاص شالامار باغ، جو مغل دور سے ہے اور یونیسکو کی عالمی ورثہ کے مقامات کی فہرست میں ہے، کو نقصان پر خدشات کا اظہار کیا۔

بڑھتے ہوئے چینی رسوخ پر خدشات

اس منصوبے کی تعمیر کے دوران، رہائشیوں، تاجروں اور سول سوسائٹی کے فعالیت پسندوں نے باقاعدگی سے او ایل ایم ٹی کے خلاف احتجاج کا اہتمام کیا اور کہا کہ عملہ نے اس ریلوے کے لیے راستہ بنانے کی غرض سے ان کے گھر اور دکانیں منہدم کر دیں۔

وزیرِ اعظم بننے سے قبل، دسمبر 2017 میں عمران خان نے ایک ٹویٹ میں سابقہ پنجاب حکومت پر ہسپتالوں یا وینٹیلیٹرز کے بجائے اس منصوبے پر سرمایہ کاری کرنے پر تنقید کی اور تعمیر کے دوران ماحول یا کلیدی ورثہ کے مقامات کو تحفظ نہ دینے کے اس کے فیصلے پر تنقید کی۔

بنیادی ڈھانچے کے ایسے منصوبوں نے نہ صرف پاکستانی کارکنان اور ثقافتی مقامات کو خطرے میں ڈالا؛ بلکہ انہوں نے ملک میں چینی رسوخ پر خدشات بھی پیدا کیے۔

قانون سازوں اور مشاہدین کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا چینی رسوخ – جبکہ چینی کمپنیاں مقامی افراد پر اس کے اثر کی پرواہ یا اسے خاطر میں لائے بٖغیر مقامی وسائل کا استحصال کر رہی ہیں – صوبے میں شدید بدامنی لا رہا ہے۔

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقہ سینڈک میں کسی مقامی، قومی یا بین الاقوامی نگرانی کے بغیرچینی کمپنیوں نے تانبہ اور سونا نکالا ہے۔

مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس، چینی کمپنیوں نے ضلع چاغی میں تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500