تعلیم

پشاور کا آٹو رکشا ڈرائیور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے لفٹ دے رہا ہے

عدیل سید

image

عرب شاہ، 29 سالہ آٹو رکشا ڈرائیور، 3 نومبر کو پشاور شہر میں طلباء کو لے جا رہا ہے۔ شاہ تقریبا 100 لڑکیوں کو مفت سواری فراہم کرتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ تعلیم حاصل کر سکیں۔ [عدیل سید]

پشاور -- عرب شاہ لڑکیوں تک یہ پیغام پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے کہ تعلیم نہ صرف پاکستان بلکہ ان کے اپنے مستقبل کے لیے اہم ہے۔

29 سالہ شخص، پشاور شہر میں روزانہ 100 لڑکیوں کو اپنے آٹو رکشا میں مفت اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول تک لاتا ہے تاکہ تعلیم کی اہمیت کو فروغ دے سکے۔

شاہ نے پیر بالا کے علاقے میں ایک سرکاری اسکول سے طالبات کو لاتے ہوئے کہا کہ "میری پانچ بڑی بہنیں مختلف وجوہات کے باعث تعلیم حاصل نہ کر سکیں اور اب میں دوسروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی تعلیم حاصل کرنے میں مدد کرنا اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں"۔

شاہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے کا اس قدر جذبہ رکھتا ہے کہ وہ غریب خاندانوں کو مفت سواری فراہم کر رہا ہے اگرچہ کہ اس کے اپنے وسائل محدود ہیں۔

image

عرب شاہ لڑکیوں کو اسکول لانے لے جانے کے لیے دن میں کئی چکر لگاتا ہے. [عدیل سید]

اس نے کہا کہ لڑکیوں کو اسکول لے جانے اور واپس گھر لانے کے لیے، اسے صبح اور شام کے وقت کئی چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے اس کا کافی زیادہ وقت اور پٹرول خرچ ہو جاتا ہے اور آمدنی کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

اس نے کہا کہ "میری ڈیوٹی صبح 7 بجے سے 8:30 تک ہوتی ہے اور پھر دوبارہ شام کو 1.15 سے 3 بجے تک۔

شاہ نے کہا کہ ان اوقات میں ہونے والے آمدنی کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے وہ رات کو دیر تک کام کرتا ہے۔

وہ عام طور پر مہینے میں تقریبا 30,000 روپے (200 ڈالر) کماتا ہے جن میں سے تقریبا آدھی کمائی مفت سواری فراہم کرنے میں خرچ ہو جاتی ہے۔

شاہ نے کہا کہ "تعلیم کے لیے مفت سواری فراہم کرنے پر آنے والا خرچہ میرے لیے اہمیت نہیں رکھتا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جب تک ممکن ہو سکے گا یہ خدمت فراہم کرتا رہے گا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ لڑکیاں صرف اس وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جائیں کہ ان کے والدین اخراجات برداشت نہیں کر سکتے"۔

تعلیم پر حملہ

عسکریت پسندوں کی طرف سے 2007 سے 2015 کے دوران لڑکیوں کے اسکولوں کو باقاعدگی سے نشانہ بنائے جانے سےشمالی پاکستان میں لڑکیوں نے تعلیم حاصل کرنے میں بہت سے مصائب کا سامنا کیا ہے۔

پاکستان میں 2007 سے 2015 کے دوران تعلیمی اداروں پر 867 حملے ہوئے جس کا نتیجہ 392 اموات اور 724 افراد کے زخمی ہونے کی صورت میں نکلا۔ یہ بات امریکہ کی میری لینڈ یونیورسٹی کے محقیقین کی طرف سے رکھے جانے والے عالمی دہشت گردی کے ڈیٹا بیس سے پتہ چلی ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کرنے میں سب سے اہم، ملالہ یوسف زئیہیں جنہیں طالبان نے 2012 میں سوات میں گولی ماری تھی۔ وہ صحت یاب ہو گئیں اور انہیں پاکستان میں تعلیم کی وکالت کرنے پر امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا اور اب وہ برطانیہ میں رہائش پزیر ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی پانچویں جماعت کی طالبہ تسلیم منہاج جن کے والد بس ڈرائیور ہیں اور اسکول کے لیے سواری فراہم کرنے کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے ہیں، نے کہا کہ "میں نے اسکول کی شکل بھی نہ دیکھی ہوتی اگرعرب بھائی جان نے مجھے اسکول لانے لے جانے کی مفت سروس فراہم نہ کی ہوتی"۔

پشاور شہر کی وارسک روڈ پر ایک ورکشاپ میں ولڈنگ کا کام کرنے والے انعام اللہ نے کہا کہ "مقامی آبادی عرب شاہ کی خدمات کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں سراہتی ہے جو علاقے میں تقریبا 100 لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے"۔

مالی حالات کی وجہ سے انعام خود کو تعلیم حاصل نہیں کر سکا مگر وہ اپنی پانچ بیٹیوں کو اسکول جاتا دیکھ کر خوش ہے۔

ماہر بشریات اور فلمساز ثمر مناللہ نے شاہ کی بے لوث کوششوں اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے عزم کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے مقصد کے لیے، یہ ایک نوجوان شخص کی طرف سے فراہم کی جانے والی بہت قابلِ قدر خدمت ہے"۔

"ایسے لوگوں کی اس پر قدرشناسی کی جانی چاہیے اورخواتین کے عالمی دن کے موقع پر انہیں ایوارڈ دیا جانا چاہیے

ثمر نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ دوسرے لوگ بھی شاہ کی مثال سے سیکھیں اور لڑکیوں کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں شریک کرنے کے لیے انہیں تعلیم یافتہ اور خودمختار بنانے کے لیے اس جیسی قربانی دیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500