جرم و انصاف

کے پی پولیس کا خصوصی 'آئس ڈیسک' میتھ کی لَت کے خاتمہ کرے گا

عدیل سید

image

پشاور میں کے پی پولیس کی طرف سے قائم کیے جانے والے 'آئس ڈیسک' کے داخلی دروازے پر، یکم نومبر کو ایک ایسا بینر دیکھا جا سکتا ہے جس میں آئس کی لَت کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ [عدیل سید]

پشاور -- خیبرپختونخواہ (کے پی) پولیس صوبہ میں کرسٹل میتھ یا آئس کے استعمال کو روکنے کے مقصد سے، اس غیر قانونی نشے کی نگرانی اورکھوج کے لیے، اپنے نئے قائم شدہ "آئس ڈیسک" کا استعمال کر رہی ہے۔

یہ ڈیسک پولیس لائنز پشاور میں 3 اگست کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور یہ نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک قلعہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔کے پی پولیس آنے والے وقتوں میں صوبہ کے دیگر اضلاع میں بھی اس سے مماثل دفاتر کھولے گی۔

پشاور پولیس کے سینئر سپریٹنڈنٹ منصور امان نے 15 نومبر کو کہا کہ "اس ڈیسک کو قائم کرنے کے پیچھے بنیادی مقصد، آئس کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے کے لیے اس کو استعمال کرنے، فراہم کرنے اور بیچنے والوں کا ایک ڈیٹا بیس بنانا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ڈیسک آئس کے استعمال سے متعلقہ واقعات کی جانچ پڑتال کرے گا، اس میں ملوث افراد کا ریکارڈ رکھے گا اور متعلقہ شعبوں کوڈیلروں اور اسمگلروں کو گرفتار کرنے اور سزا دینےمیں مدد فراہم کرے گا"۔

image

انسپکٹر ریاض علی شاہ، جو کہ آئس ڈیسک کے انچارج ہیں، آئس کا نشہ کرنے والوں، تھوک میں فروخت کرنے والوں اور گلی محلوں میں بیچنے والوں کا ریکارڈ رکھنے میں مصروف ہیں۔ [عدیل سید]

امان نے کہا کہ "آئس ڈیسک ۔۔۔ متعلقہ پولیس اسٹیشنوں کو عملی اقدامات تجویز کرے گا اور اس کے ساتھ ہی عوام کی طرف سے اپنے اسٹیشنوں سے متعلقہ علاقوں میں منشیات کے استعمال کے بارے میں درج کروائی جانے والی شکایات کا نوٹس لے گا"۔

انہوں نے کہا کہ ڈیسک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سیمیناروں کے انعقاد، اخباروں اور ٹی وی چینلز پر اشتہارات دینے، چھپے ہوئے مواد کی تقسیم اور عوامی جگہوں پر ایسے بینر لگانے سے عوام میں آگاہی بڑھائے جن میں شہریوں کو آئس کے خطرات سے آگاہ کیا گیا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئس ڈیسک ایسی تنظیموں کے ساتھ کام کر رہا ہے جو منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا کام کر رہی ہیں۔

انسپکٹر ریاض علی شاہ جو کہ اس ڈیسک کے انچارج ہیں، نے کہا کہ "اپنے آغاز سے اب تک کے تین ماہ کے قلیل وقت میں، کے پی پولیس کے آئس ڈیسک نے تقریبا 252 افراد کی گرفتاری میں انتہائی اہم کردار ادا کیا جن میں منشیات کے استعمال کرنے والے، ڈیلر اور اسمگلر شامل تھے"۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے تقریبا 218 واقعات درج کیے ہیں۔ ان میں سے تقریبا 8 منشیات کے تھوک فروشوں، 19 گلی محلوں کی سطح پر منشیات بیچنے والوں اور 191 منشیات کو استعمال کرنے والوں کے خلاف ہیں۔

شاہ نے مزید کہا کہ پولیس نے آئس ڈیسک کی طرف سے کی جانے والی تفتیش اور تجاویزات کی بنیاد پر14.6 کلوگرام آئس جس کی مالیت لاکھوں روپوں میں تھی، پکڑی ہے۔

شاہ جلد ہی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جائیں گے جہاں وہ طلباء کو آئس کی طرف سے انسانی صحت کو درپیش خطرات کے بارے میں لیکچر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکام کو فوری طور پر اس تصور کو دور کرنا چاہیے کہ آئس کا استعمال پڑھائی میں مدد کرتا ہے۔

شاہ نے پشاور کے شہریوں پر زور دیا کہ اگر وہ اپنے متعلقہ علاقے میں آئس کی فروخت سے آگاہ ہوں تو ڈیسک سے رابطہ کریں۔ شاہ نے کہا کہ پولیس جب عملی قدم اٹھائے گی تو ان کی شناخت کو محفوظ رکھا جائے گا۔

بحالی کا کام

آئس ڈیسک کا کام اس وقت ہو رہا ہے جب کہمنیشات کے عادی افراد کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

اخلاص نامی تنظیم جو کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا کام کر رہی ہے، کے ایک نمائندے اسد اللہ نے کہا کہ "ہم نے پولیس کی طرف سے لی جانے والی پہلکاری کے لیے اپنی مدد کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی طرف سے علاج کے لیے بھیجے جانے والے مریضوں کے لیے 25 بستر مخصوص کر دیے ہیں"۔

عبداللہ نے کہا کہ اخلاص آئس ڈیسک کی طرف سے بحالی کے لیے بھیجے جانے والے مریضوں کے علاج کا 60 سے 80 فیصد خرچہ اخلاص اٹھائے گی۔

انہوں نے تبصرہ کیا کہ اس کا مقصد پولیس فورس کی طرف سے صوبہ کو آئس سے پاک کرنے کے لیے شروع کیے جانے والے کام کو تسلیم کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

آئس بحالی مرکز پشاور کے بحالی افسر ڈاکٹر اعظم شعیب نے کہا کہ "آئس کی لَت ہمارے معاشرے میں ایک وباء بنتی جا رہی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نئی نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے آگے آئیں"۔

شعیب نے پولیس کی طرف سے شروع کی جانے والی پہلکاری کو سراہا اور عوام پر زور دیا کہ وہ معاشرے سے اس نشے کا خاتمہ کرنے کے لیے، مرکز سے تعاون کریں اور انہیں رائے فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون اور مدد کے بغیر، پولیس ایسی لعنت کو شکست نہیں دے سکتی اور اس سلسلے میں والدین کی آگاہی انتہائی اہم ہے۔

سمال ٹریڈرز آف پشاور سٹی کے صدر عاطف حلیم نے کہا کہ "تاجر برادری اس قدم کو مکمل طور پر خوش آمدید کہتی ہے اور اپنی پولیس کی طرف سے عوام کو درپیش اس سنگین خطرے کا ادراک کرنے کو سراہتی ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال،سمال ٹریڈرز آف پشاور سٹی، آئس کے خلاف جنگ میں انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کے ساتھ شامل ہوئی اور اس سلسلے میں آگاہی کی ایک مہم شروع کی گئی تھی۔

انہوں نے سیمیناروں اور ورکشاپوں کے انعقاد سے عوام اور تاجر برادری میں آگاہی بڑھانے کے لیے، پولیس کو سمال ٹریڈرز کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی پیشکش کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500