دہشتگردی

القاعدہ کے پرانے محافظ کی ہلاکت کے بعد، گروہ کا مستقبل کیا ہو گا؟

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

القاعدہ کے بارے میں مایہ ناز ماہرین نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایمن الظواہری جو اسامہ بن لادن کے بعد گروہ کے جانشین بنے تھے اور جن کی یہ تصویر ہے، بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ [سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر]

حالیہ مہینوں میں القاعدہ کے دو اعلی راہنماؤں کی مبینہ ہلاکتوں نے دہشت گرد نیٹ ورک کی مستقبل کی حکمتِ عملی اور طاقت کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں جو کہ پہلے ہی بیس سال پہلے کی عالمی طاقت کی صرف ایک پرچھائیں ہی رہ گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے گزشتہ ہفتے خبر دی کہالقاعدہ کے ڈپٹی لیڈر عبداللہ احمد عبداللہ جو کہ ابو محمد المصری کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، کو اگست میں اسرائیلی کارکنان نے واشنگٹن کے کہنے پر، تہران میں خفیہ طور پر ہلاک کر دیا تھا۔

دریں اثناء القاعدہ کے بارے میں نمایاں ماہرین نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایمن الظواہری، جنہوں نے گروہ کے سربراہ کے طور پر اسامہ بن لادن کی جانشینی کی تھی، بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران نے عبداللہ کی ہلاکت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جبکہ القاعدہ نے اپنے معمول کے میڈیا چینلوں سے الظواہری کی مبینہ ہلاک کی تصدیق نہیں کی ہے۔

image

القاعدہ کے اعلی راہنما عبداللہ احمد عبداللہ المعروف ابو محمد المصری، کو7 اگست 1998 میں داراسلام تنزانیہ اور نیروبی، کینیا میں امریکہ کے سفارت خانوں پر ہونے والے بم دھماکوں میں مبینہ شمولیت پر مقدمات کا سامنا تھا۔ امریکہ کے خفیہ ذرائع کے مطابق، انہیں اس سال کے آغاز میں ہلاک کر دیا گیا۔ [امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن]

image

القاعدہ کے مرحوم راہنما اسامہ بن لادن کا بیٹا، حمزہ بن لادن (بائیں) اپنی شادی کا جشن منا رہا ہے۔ یہ تصویر امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کی طرف سے یکم نومبر 2017 کو جاری کی جانے والی ایک ویڈیو سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ ہے۔ حمزہ بن لادن کے بارے میں طویل عرصے سے خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ ایرانی حفاظت میں رہ رہا ہے اور القاعدہ کے مرحوم راہنما نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ امریکی فورسز نے نوجوان بن لادن کو 2019 میں افغانستان -پاکستان کے کسی سرحدی علاقے میں ہلاک کر دیا تھا۔ [فائل]

پھر بھی یہ خبریں القاعدہ کے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات کے دوران آئی ہیں اور یہ نیٹ ورک اس وقت کے گروہ سے انتہائی زیادہ مختلف ہے جس نے بن لادن کی طلسماتی شخصیت کی زیرِ قیادت دنیا بھر میں خوف پھیلایا تھا۔

الظواہری کی ہلاکت کے بارے میں افواہیں

سعودی کی2011 میں پاکستان میں امریکی آپریشن کے دوران ہلاکتنے گروہ کو الظواہری کے ہاتھوں میں دے دیا تھا جو کہ جہاد کا مصری تجربہ کار اور القاعدہ کا اہم نظریہ ساز تھا مگر اس میں دنیا بھر کے بنیاد پرستوں کو اکٹھا کرنے کی بن لادن جیسی صلاحیت نہیں تھی۔

انسدادِ دہشت گردی کی بین الاقوامی کوششوں میں ملوث ایک سینئر امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ گزشتہ سال اگست کے آغاز میں ہی ایسی خفیہ اطلاعات آنا شروع ہو گئی تھیں کہ الظواہری کو "دل کی شکایت" ہے۔

امریکہ میں قائم سینٹر فار گلوبل پالیسی (سی جی پی) کے ڈائریکٹر حسن حسن نے ویک اینڈ پر کہا کہ الظواہری ایک ماہ پہلے طبی وجوہات سے وفات پا چکے ہیں۔

جہادوں کی میڈیا نگران ایس آئی ٹی ای کی ڈائریکٹر ریٹا کیٹز نے کہا کہ الظواہری کے وفات پا جانے کے بارے میں غیر تصدیق شدہ خبریں گردش کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ القاعدہ کے لیے بہت ہی عمومی بات ہے کہ وہ اپنی راہنماؤں کی ہلاکت کی خبریں بر وقت طور پر شائع نہ کرے"۔

علاوہ ازیں، یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ الظواہری کی ہلاکت کی خبریں آئی ہیں اور وہ کئی مواقع پر ایسی خبروں کے بعد دوبارہ ابھر آئے تھے۔

ہیورفورڈ کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور القاعدہ اور جہادیت کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف براک مینڈیلسوہن نے کہا کہ "خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ وہ شدید بیمار ہیں"۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "حتمی طور پر اگر ایسا ابھی نہیں بھی ہوا تو ایسا جلد ہی ہو جائے گا"۔

'مشیروں کا بورڈ'

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں میں سے ایک یا دونوں ہی ہلاک ہو چکے ہیں توانہوں نے جو گروہ پیچھے چھوڑا ہے وہ اس نیٹ ورک سے کسی بھی صورت میں مقابلہ نہیں رکھتا جس نے امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی"۔

اس کے نظریات نے دنیا بھر میں کئی فرنچائزز کو جنم دیا جو اس کا نام رکھتے ہیں جن میں افریقہ کا ساحل علاقہ، پاکستان اور اس کے ساتھ ساتھ ہی صومالیہ، مصر اور یمن میں بھی شامل ہیں۔

مگر یہ ان کے کاموں کو کنٹرول نہیں کرتی اور نہ ہی ان اتحادات کو جنہیں وہ مقامی سطح پر بناتے ہیں۔

مینڈیلسوہن نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ القاعدہ کی قیادت مستقبل میں "مشیروں کے ایک بورڈ" کی طرح کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ "لوگ اگر القاعدہ کی مرکزی قیادت کی بات سننا چاہیں گے تو سنیں گے لیکن وہ خود کو اس کے نظریات کو ماننے کا پابند خیال نہیں کریں گے"۔

القاعدہ نے سب سے بڑے انتہاپسند گروہ کا مقام کھونے کے بعد بہت سے دوسرے گروہوں کو بڑھتا ہوا دیکھا ہے اور کبھی کبھی ان کے درمیان زمینی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

یہ دولتِ اسلامیہ (داعش) کے سایے تلے آ گئی ہے جس نے عراق اور شام میں "خلافت" قائم کرنے کی کوشش کی اور یورپ میں منظم حملے کیے۔

داعش کی طبعی "خلافت" کو 2017 کے آخیر میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

اگلی باری کس کی ہے؟

نئے راہنما کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس پس منظر میں گروہ کی طاقت کو قائم رکھنا ہو گا۔

بہت سے تجزیہ نگاروں نے ایک اہم امیدوار کی طرف اشارہ کیا ہے -- سیف ال عدیل جو کہ مصری مسلح افواج کے ایک سابقہ لیفٹینٹ کرنل ہیں اور جنہوں نے 1980 کی دہائی میں مصر کی جہادی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انہیں گرفتار کیا گیا اور پھر رہا کر دیا گیا، وہ افغانستان چلے گئے جو کہ بن لادن اور الظواہری کی بیس تھا اور انہوں نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لی۔

امریکہ میں قائم تھنک ٹینک انسدادِ انتہاپسندی منصوبہ (سی ای پی) کے مطابق، انہیں 2003 میں ایران میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2015 میں قیدیوں کے تبادلے میں رہا گیا تھا۔ خیال ہے کہ وہ 2018 تک الظواہری کے اہم نائب کے طور پر ایران میں موجود تھے۔

سی ای پی نے کہا کہ "ال عدیل نے القاعدہ کی آپریشنل صلاحیتوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا اور وہ تیزی سے درجات کی سیڑھیاں چڑھتا گیا"۔

مینڈیلسوہن نے کہا کہ ال عدیل تحریک میں ایک "بڑا نام" تھا اور"اسے قطار میں سب سے آگے ہونا چاہیے"۔

مگر انہوں نے زور دیا کہ ال عدیل نے عبداللہ کے ساتھ، کئی سال ایران میں چھپتے ہوئے گزارے ہیں جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر وہ القاعدہ کے راہنماؤں کی نئی نسل سے دور رہے ہیں۔

"میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ القاعدہ میں ان کا مقام کس قدر مضبوط ہے خصوصی طور پر اب جبکہ پرانی نسل، بنیادی طور پر تمام پرانے محافظ، ہلاک ہو چکے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500