سلامتی

رضوی کی موت کے بعد تحریکِ لبّیک ممکنہ طور پر کمزور اور تقسیم ہو جائے گی

ضیاءالرّحمٰن اور اے ایف پی

image

ایک سخت گیر مذہبی سیاسی جماعت، تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی (درمیان) 9 اگست 2019 کو لاہور میں ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے ہاتھ لہرا رہے ہیں۔ رضوی 19 نومبر کو مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

اسلام آباد – سیاسی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے سخت گیر مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے بانی خادم حسین رضوی کا انتقال ممکنہ طور پرتوہینِ مذہب کے خلاف مہم چلانے والی تحریککو کمزور کرے گا اور اس متنازع مسئلہ سے متعلق تشدد میں کمی آئے گی۔

19 نومبر کو تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری کے بعد وفات پانے والے 54 سالہ رضوی، کی موت کی وجہ کا اعلان نہیں کیا گیا، اور نہ ہی طویل عرصہ سے وہیل چیئر استعمال کرنے والے رضوی کا COVID-19 ٹیسٹ یا لاش کا معائنہ کیا گیا۔

اپنی زندگی میں رضوی نے پاکستان کے مذہبی حقوق کے لیے تمام الزام سمیٹنے والے کا کردار ادا کیا اور وہ فرقہ ورانہ غصہ کو بھڑکانے اور ایک لمحے کے نوٹس پر توہینِ مذہب کے مخالف ہزاروں پرجوش حامیوں کو متحرک کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔

ہفتہ (21 نومبر) کو رضوی کے جنازہ سے قبل لوگوں کے جمِ غفیر نے ہم آہنگی سے نعرے لگاتے ہوئے اور ملک کے کرونا وائرس وبا کی دوسری لہر میں داخل ہونے کے وقت بکثرت ماسک پہننے کے قاعدہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لاہور کے وسط کو جکڑ لیا۔

image

21 نومبر کو لاہور میں تحریکِ لبّیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی کے جنازے کے دوران ان کا جنازہ لے جانے والی ایمبولینس کے گرد ٹی ایل پی کے فعالیت پسند اور حامی جمع ہیں۔ 21 نومبر کو لاہور میں بنا ماسک کے پرسہ کنندگان کے جمِ غفیر ان سخت گیر پاکستانی عالم کے جنازہ کے لیے جمع ہیں، جنہوں نے کئی برسوں تک ملک کی مذہبی اقلیتوں کو دہشت زدہ کیے رکھا اور توہینِ مذہب کے خلاف لڑائی کے نام پر دنگے فساد بھڑکائے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

پولیس نے اے ایف پی کو بتایا کہ تقریباً 300,000 پرسہ کنندگان نے اس موقع پر شرکت کی، اگرچہ منتظمین نے اس سے بہت زیادہ تعداد کا دعویٰ کیا۔

ٹی ایل پی نے رضوی کے بیٹے سعد حسین رضوی کو اس گروہ کے نئے رہنما کے طور پر تعینات کیا۔

تشدد کی تاریخ

ٹی ایل پی نے 2011 میں اسلام آباد میں اس وقت کے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے لیے سزا پانے والے ایک پولیس اہلکار ممتاز قادری کو 2016 میں پھانسی دیے جانے کے بعد شہرت حاصل کی۔

تاثیر کے باڈی گارڈ قادری نے اپنے تئیں اس سیاستدان کی جانب سے پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین کی زبانی مخالفت کیے جانے پر انہیں قتل کیا۔ ٹی ایل پی نے قادری کی ایک شہید کے طور پر تکریم کی۔

2017 میں ٹی ایل پی نے جبراً وزیرِ قانون و انصاف زاہد حامد کا استعفیٰ دلوایا جنہوں نے 2017 کے الیکشن بل میں متنازع طور پر الفاظ کو تبدیل کیا۔

اکتوبر 2018 میں ٹی ایل پی نے حضرت محمّدﷺ کی توہین کے غلط الزام میںمسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائیکے بعد فسادات کے ذریعے ملک کو موقوف کر دیا۔

رضوی اور ایک اور ٹی ایل پی رہنما، افضل قادری نے بی بی کی سزائے موت کو منسوخ کرنے والے سپریم کورٹ کے تین ججوں کی موت کا مطالبہ کیا۔ بالآخر بی بی کینیڈا فرار ہو گئی۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اس وقت پذیرائی حاصل کی جب انہوں نے ملک کے چوٹی کے ججوں کے قتل کا مطالبہ کرنے والے شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کا عہد کیا۔

خان نے قومی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں کہا، "ہم لوگوں کی جائیدادوں اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کریں گے؛ ہم کسی سبوتاژ کی اجازت نہیں دے سکتے۔"

بعدازاں اسی برسپاکستانی حکام نے ٹی ایل پی ارکان پر بغاوت اور دہشتگردی کا الزام عائد کیا۔

نومبر 2018 کے آخری ہفتے کے دوران ایک ملک گیر کریک ڈاؤن کے جزُ کے طور پر پولیس نے 3,000 سے زائد ٹی ایل پی ارکان اور رہنماؤں کو گرفتار کیا۔

حکام نے رضوی پر بغاوت اور دہشتگردی، جبکہ قادری پر گجرات میں فسادات بھڑکانے کا الزام عائد کیا۔ دونوں مقدمات 2019 میں ختم ہو گئے۔

توہینِ مذہب کا مسلح کیا جانا

پاکستان میں توہینِ مذہب ایک شدید حساس موضوع رہا ہے، جہاں سخت مذہبی احساسات ماضی میں ہجوم کی جانب سے فسادات اور خونریزی کا باعث بنے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے فعالیت پسندوں نے بھی ذاتی لڑائیوں اورتنازعات کو توہینِ مذہب کے متنازع قانون کے ذریعے حل کرنے کی ایک تاریخ کی جانب اشارہ کیا۔

مذہبی تحریکوں کو کور کرنے والے ایک لاہور اساسی محقق اشفاق حسین نے کہا، "رضوی نے ملک کے توہینِ مذہب کے قوانین کو کامیابی سے مسلح کیا اور مذہبی طور پر ترغیب شدہ قوت اور ووٹ کو اپنے توہینِ مذہب مخالف ایجنڈا کی بنیاد پر متحرک کیا۔"

انہوں نے کہا، "انہوں نے گستاخانِ مذہب کو مار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قتل کرنے والوں کے لیے جشن منایا۔"

تاہم، حسین نے کہا کہ رضوی کی موت ٹی ایل پی کو کمزور کر دے گی اور توہینِ مذہب کے عذر سے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کم ہو جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رضوی کے جانشین کے طور پر ان کے بیٹے کی تعیناتی عارضی طور پر اس جماعت کے تنظیمی ڈھانچے کو مکمل کر دے گی، لیکن ٹی ایل پی کو ایک واحد جماعت رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

کراچی میں ایک مذہبی جریدے دین و دنیا کے ایک مدیر شبّیر فاروقی نے کہا، "میرا ماننا ہے کہ ٹی ایل پی مستقبل قریب میں دھڑا بند ہو جائے گی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جماعت کے لیے بنیادی مقناطیسی قوت رضوی کی اپنی شخصیت تھی۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان کے مذہبی-سیاسی منظرنامہ میں ہمارے پاس علّامہ شاہ احمد نورانی کی تشکیل شدہ جمیعتِ علمائے پاکستان، سلیم قادری کی تشکیل شدہ سنّی تحریک؛ اور مولانا سمیع الحق کی تشکیل شدہ جمیعت علمائے اسلام (ایس) کی مثالیں ہیں۔ یہ تمام گروہ اپنے بانیوں کی وفات کے بعد بڑے پیمانے پر تنزلی کا شکار ہوئے۔"

ٹی ایل پی کا ایک عسکریت پسند گروہ میں تغیّر

کراچی میں ایک بریلوی مدرسہ کے پرسنسپل، جنہوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی درخواست کی، نے کہا کہ روایتی طور پر بریلوی گروہ صوفیت کے پیروکار ہوتے ہوئے اعتدال پسندی اور عدم تشدد کی ایک ساکھ کے حامل ہیں اور انہوں نے خود کو فرقہ ورانہ تنازع اور دیگر اقسام کی عسکریت پسندی سے دور رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا، "تاہم، تاثیر کے قتل کے بعد، حالیہ برسوں میں، ٹی ایل پی توہینِ مذہب سے متعلقہ امور کا استحصال کرنے والا ایک پر تشدد گروہ بن چکا ہے اور اس نے مہارت سے بریلوی برادری میں سیاسی اور عوامی طاقت حاصل کر لی ہے۔"

2008 کے عام انتخابات میں، ٹی ایل پی نے ملک بھر میں 700 سے زائد امّیدواروں کے کاغذات جمع کروائے اور بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی سے صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں جیت کر ایک قلیل عرصہ میں ایک نئی مذہبی اور سیاسی قوت کے طور پر شناخت بنا لی۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور لشکرِ جھنگوی (LeJ) کے برعکس ٹی ایل پی کم پرتشدد ہے، لیکن بعض پہلوؤں میں زیادہ خطرناک ہے۔

ایک انٹیلی جنس اہلکار نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ٹی ایل پی کبھی خودکش حملوں اور بم حملوں جیسے انتہائی اقدامات میں ملوث نہیں رہی، تاہم اس کے تشدد کے برانڈ – بطورِ خاص ہجوم کے فسادات – میں کئی گنا زیادہ خطرناک اور دور رس ہونے کی صلاحیت ہے۔

اس اہلکار نے کہا، "2018 میں ٹی ایل پی کے حامی نے اس وقت کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال کو گولی مار کر زخمی کر دیا، اور 2017 میں ٹی پی ایل کے ایک دیگر حامی نے حریف دیوبندی مکتبِ فکر کی ایک تبلیغی تحریک، تبلیغی جماعت کے دو [ارکان] کو قتل کر دیا۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے عمر وڑائچ نے کہا، "چند پہلوؤں سے [رضوی] طالبان سے بھی زیادہ خطرناک تھے، جن کے حامی محض دورافتادہ قبائلی علاقہ جات تک ہی محدود نہ تھے بلکہ ملک کے مرکزی علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔"

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "[رضوی] نے معلوم کر لیا تھا کہ پاکستان میں حقیقی قوت پر گلیوں میں راج کیا جا سکتا ہے، جہاں آپ کو ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد کی ضرورت نہیں ہوتی – صرف سب سے زیادہ تعداد میں ملسح حامی درکار ہوتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

Taqreeban thk kaha

جواب

جتنی خباثت اور جھوٹ کا سہارا اس کالم نگار نے لیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یا تو کالم نگار ایڈیٹر خود قادیانی ہیں یا ان کی پیدائش میں قادیانیوں کا ھاتھ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ایک مردود شخص تھا جو اپنے پاخانے میں گر کر جہنم واصل ہوا اور اس کے پیروکار بھی اور یہ کالم لکھنے والا اور اے ایف پی والے آج تک اسی طرح ذلیل ہو رہے ہیں اور اسی کی طرح ذلیل ہو کر مریں گے۔

جواب

لعنت تیری شکل پر جو رضوی کو ایسے بتا رہے ہو اگر مسلمان ہو تو ڈوب مرو

جواب

TLPکے بارے جس جس نے بھی یہ دیپورٹ دی ہیں سب کے سب جوٹی ریپرٹیں ہیں TLPانشاءاللہ اب اور زیادہ مضبوط ہو کر کام کرے گئ اللہ اور رسول اللہ کی مہربانی سے کامیابی حاصل کرے گی اور اللہ اور اس کے محبوب کا نظام قائم کرے گی انشاءاللہ

جواب