سفارتکاری

اثرورسوخ میں اضافہ کرنے کے لیے ایران نے شعیہ، سنی علماء کو ملازمت پر رکھ لیا

عبدالغنی کاکڑ

image

یکم اگست 2020 کو پاکستانی لاہور میں بادشاہی مسجد میں عیدالاضحیٰ کے دوران نماز ادا کر رہے ہیں۔ [عارف علی/اے ایف پی]

کوئٹہ – حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹس نے ملک میں تہران کے رسوخ کو بڑھانے اور خطے بھر میں اپنی ضمنی جنگوں کو فروغ دینے کی ایک کاوش کے جزُ کے طور پر پاکستان میں سنی اور شعیہ علما کی ایک بڑی تعداد کو بھرتی کیا ہے۔

ایک اسلام آباد اساسی انٹیلی جنس عہدیدار نے 6 نومبر کو اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پر کہا، "ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ ایران نے پاکستان کے مختلف حصوں میں شعیہ اور سنی علماء بھرتی کر رکھے ہیں۔ ان تمام علما کو ملک میں ایرانی مفادات کو مستحکم کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایران نے اپنے تعاون شدہ مذہبی حلقے کے ذریعہ سعودی عرب، امریکہ اور دیگر حریف ممالک کے خلاف اپنی جنگ میں تذویری شراکت دار کے طور پر پاکستانی حمایت حاصل کرنے کے لیے گٹھ جوڑ شروع کر دیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایران کے ثقافتی مراکز اور قونسل خانوں نے پاکستان میں ایرانی اہداف کے لیے راہ ہموار کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔"

image

پاسدارانِ انقلابِ ایران کی جانب سے شام میں لڑتے ہوئے جانبحق ہو جانے والی ایک پاکستانی کے جنازے پر جون 2019 میں مارچ کرنے والوں نے زینبیون برگیڈ کے پرچم اٹھا رکھے ہیں۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

انہوں نے کہا، "میرے خیال میں، علاقائی تذویری امور سے نمٹنے والے ہمارے متعلقہ شعبہ جات ایک طویل عرصہ سے اس ابتر ہوتی ہوئی صورتِ حال کی نگرانی کر رہے ہیں اورانہوں نے خفیہ ایرانی مداخلت کی متعدد کوششیں ناکام بنائی ہیں۔"

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی عہدیدار حمزہ عابد نے کہا، "سیکیورٹی ایجنسیاں ایسے تمام علمائے دین کی سرگرمیوں کی قریبی نگرانی کر رہی ہیں، جن پر ایرانی مفادات کے لیے کام کرنے کا شبہ ہے۔ ماضی میں یہاں ایرانی سفارتی مشن کے خلاف مسلسل اقدامات کیے گئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرزمین پر غیرملکی مداخلت ہمیشہ سے اس کے امن کے قومی ہدف کے لیے ایک خدشہ رہی ہے۔ "امن اور بھائی چارہ کو یقینی بنانے کے لیے تمام کاوشیں کی جا رہی ہیں، کیوں کہ پاکستان بطورِ کل خطے کی سلامتی کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہ درست ہے کہ ماضی میں کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں سے ایرانی انٹیلی جنس کے متعدد اہلکار گرفتار کیے گئے ہیں اور وہ سفارتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کے قصوروار پائے گئے تھے۔"

"ہماری مذہبی برادری پر تہران کے اثرورسوخ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔"

عابد نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں ایران نے کثیر تعداد میں سنی اور شعیہ علما کے لیے تہران اور ایران کے دیگر علاقوں کے دوروں کے لیے معاونت کی، جہاں انہیں معینہ کاموں کے لیے خصوصی بریفنگ دی گئیں تاکہ انہیںتہران کے مستقبل کے اہداف کے لیے استعمال کیا جا سکے۔"

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سنی عالمِ دین مولانا نقیب اللہ زاہد نے کہا، "ایران نے مذہبی برادری میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے یہاں کافی کام کیا ہے۔ ایران کے تنخواہ دار متعدد سنی علما شدت سے ایرانی مفادات کے لیے گٹھ جوڑ کر رہے ہیں۔"

نقیب اللہ نے کہا، "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام علمائے دین کے لیے دوروں کا انتظام کرنے کے لیے بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔ متعدد سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے درجنوں سنی علماء ان وفود کا جزُ رہے ہیں جنہیں بھرتی کے لیے تہران بھیجا جاتا تھا۔"

انہوں نے کہا، "یہ امر ماضی سے ثابت ہے کہ ایران پاکستان میں متعدد فرقہ ورانہ تنازعات میں ملوث رہا ہے؛ لہٰذا اس صورتِ حال میں، یہ ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کے ایک اور منصوبہ کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔"

ایرانی تنخواہ دار جنگجو

ایک اسلام آباد اساسی سینیئر دفاعی تجزیہ کار جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا، "اس لمحے پاکستان ایک نہایت حساس دور سے گزر رہا ہے، اور اس صورتِ حال میں، ملک کسی مزید بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک میں غیرملکی نفوذ کے خدشہ کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا ضروتِ وقت ہے۔"

انہوں نے کہا، "خطے میں چند ممالک اپنی حکمت ہائے عملی کی وجہ سے بحرانوں کا شکار ہیں؛ ہمیں کسی خارجی جنگ کا جزُ نہیں بننا۔"

انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کی کاوشیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک پاکستان ملک میں غیر ملکی مداخلت کی کوششیں ناکام نہ بنا دے، کیوں کہ پاکستان مخالف عناصر ہمیشہ مواقع کی تلاش میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن ایجنسیاں "اپنے تعاون شدہ عناصر کے ذریعے ہمارے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔"

گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار، جنہوں نے قبل ازاں نفاذِ قانون کی ایک ایجنسی کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی میں خدمات سرانجام دیں، نے کہا، "پاکستان میں دہشتگردی کی مختلف سرگرمیوں کے ذمہ دار امن مخالف عناصر کے ساتھ اپنے روابط کی وجہ سے ایرانی سفارتی مشن کا کردار پاکستان میں ہمیشہ متنازع رہا ہے۔"

اس عہدیدار نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پر بتایا، "گزشتہ ماہ 30 اکتوبر کو کراچی میں ایک مطلوب ترین شعیہ دہشتگرد یاسر عباس کو گرفتار کیا گیا جس کےایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ مبینہ روابط تھے۔"

انہوں نے کہا، "یاسر عباس ایک کالعدم شعیہ عسکریت پسند گروہ سپاہِ محمّد کا ایک ٹارگٹ کلر تھا، جو کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ دہشتگردی میں بڑے پیمانے پر ملوث رہا ہے۔"

حکام کے مطابق، اولاً تہران کے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے عباس کو بھرتی کیا، جو کہپاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد کو ہوا دینے کے ایک ملزم گروہ زیبنیون برگیڈکے لیے گلگت بلتستان سے کام کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "گزشتہ چند برسوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے ملک کے مختلف حصوں سے عراق اور شام میں ایرانی مفادات کے لیے لڑنے والے مختلف کرائے کے جنگجو گروہوں کے ساتھ مبینہ طور پر ملوث ہونے پر درجنوں شعیہ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔"

کیا ایرانی رسوخ پاکستان کے لیے اچھا ہے؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

پاکستان میں شعیہ نظرئیے کی ترویج میں سب سے اہم کردار ایران کا ہے پاکستان فارورڈ کی اس رپورٹ سے میں سو فیصد متفق ہوں جو لوگ ایرانی مفادات کی لئے ضمیر فروشی کر رہے ہیں ان کے خلاف ریاست کو سخت ترین کارروائی کرنی چاہئیے جو مٹی بھر مولوی حضرات ایران یا کسی اور ملک کے لئے کام کر رہے ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں

جواب

بالکل، اس برِ اعظم میں اپنے غلیظ ایجنڈا کے لیے اسلام کو لبادہ کے طور پر استعمال کرنے والا اصل دشمن ایران ہے۔ ہر اسلامی ملک میں ایران ضمنی جنگوں کے ذریعے اپنا ایجنڈا داخل کر رہا ہے۔ شعیہ سربراہی کا حامل نظریہٴ سازش اسلام کے حقیقی نظریہ کو تباہ کر رہا ہے۔ سید جعفر علوی، گجرانوالہ

جواب