سلامتی

حکومت کا اقدام پشاور کے ورثہ کی بحالی پر مرتکز

سید عنصر عباس

image

18 اکتوبر کو سیاح پشاور میں سیٹھی ہاؤس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

پشاور – اب جبکہعلاقہ میں سلامتی کی صورتِ حال بہتر ہو گئی ہے، حکومتِ خیبر پختونخوا (کے پی) نے پشاور کے ورثہ کو بحال اور محفوظ بنانے کے لیے ایک اقدام کا آغاز کیا ہے۔

جنوری میں منظور شدہ پشاور بحالی منصوبہ کا مقصد سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ شہر کے بنیادی ڈھانچے، معیشت، موسیقی اور ثقافت کو بحال کرنا بھی ہے۔

کئی دہائیوں کی دہشتگردانہ سرگرمیوں نے پشاور کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، جہاں مہلک بم حملے ایک معمول تھے۔

اکتوبر 2009 میں شہر کے باشندوں کو دہلا دینے والے قصہ خوانی بازار کے قریب ہونے والے کار بم حملے میں 137 سے زائد افراد جاںبحق اور 210 سے زائد زخمی ہوئے۔

image

18 اکتوبر کو خیبر پختونخوا مقتدرہٴ ثقافت و سیاحت کی جانب سے پشاور میں تاریخی مقامات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی غرض سے منظم کیے گئے پشاور شہر کے دورہ کے دوران سیاح غور کھتری میوزیم میں آویزاں تصاویر دیکھ رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

18 اکتوبر کو سیاح پشاور کی ثقافتی راہداری پر چہل قدمی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

image

11 اکتوبر کو پشاور میں لی گئی اس تصویر میں بالی ووڈ اداکار راج کپور کا آبائی گھر دکھایا گیا ہے۔ [شہباز بٹ]

دسمبر 2012 میں قصہ خوانی بازار کے قریب ڈہکی نلبانڈی میں ایک اور خود کش بم حملے میں کے پی کے سینیئر سیاست دان اور سابق وزیر بشیر احمد بلور اور سات دیگر شہری جاںبحق ہو گئے۔

اب جبکہ افواج نے متعدد شدت پسند عناصر سے علاقہ کو صاف کر دیا ہے، اور شہر ان زخموں سے صحت یاب ہو رہا ہے، صوبائی حکومت اس کے سابقہ وقار کو بحال کرنے کے لیے پشاور بحالی منصوبہ کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کے پی کے وزیر برائے سیاحت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے 30 اکتوبر کو کہا کہ شہر کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے بعد، حکومتِ کے پی"شہر کو مکمل توجہ دینے" پر مرتکز ہے۔

یوسفزئی نے کہا، "کبھی پشاور کاروبار کا مرکز ہوا کرتا تھا اور سیّاحوں کے لیے پر کشش تھا۔ حکومت شہر کی سابقہ شان و شوکت کو بحال کرنا چاہتی ہے۔"

تاریخی ورثہ کا تحفظ

بحالی کے اس منصوبہ میں کام کرنے والے گروہوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے متعدد اقدامات بھی شامل ہیں۔

ایک اقدام کے تحت حکومتِ کے پی بالی وڈ اداکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھر خرید کر انہیں عجائب گھروں میں بدل دے گی۔

کے پی کے وزیر برائے اطلاعات کامران خان بنگش نے کہا کہ حکومتِ کے پی ان گھروں کو خریدنے کے لیے بحالی پروگرام کے پہلے مرحلے میں مختص کیے گئے فنڈز کو استعمال کرے گی۔

بنگش نے کہا، "بالآخر یہ پشاور کے ورثہ کو اجاگر کرنے کے لیے عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے۔"

تاریخی قصہ خوانی بازار کے قریب واقع یہ دونوں گھر ایک تاریخی امتیاز کے طور پر سیٹھی ہاؤس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔

کے پی کے محکمہٴ آثارِ قدیمہ نے 2017 میں سیٹھی ہاؤس کو خریدا اور وہ اس تاریخی حویلی کو محفوظ کر رہا ہے، جو اب سیٹھی محلہ کے نام سے معروف قصہ خوانی بازار کی ایک پر جوش گلی میں سیاحوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر کا آغاز 1835 میں ہوا اور یہ بالآخر 49 برس بعد 1884 میں مکمل ہوئی۔

کے پی کی نظامتِ آثارِ قدیمہ میں ایک ریسرچ آفیسر نواز الدین کا کہنا ہے کہ سیٹھی محلہ اس امر کا غمّاز ہے کہ کیسے پشاوری اشرافیہ اپنے گھر بنایا کرتے تھے۔

الدین نے مزید کہا، "سیٹھی خاندان کی سات حویلیاں ہیں، جو کبھی شہر کا امیر ترین خاندان ہوا کرتا تھا۔ یہ حویلیاں کم یاب تعمیراتی شاہکار ہیں اور گندھارا اور وسط ایشیا کے فن اور تعمیر کا مرکب ہیں، جبکہ ان کی وضع بخارہ، ازبکستان کے مقامی فنِ تعمیر سے متاثر ہے۔"

درایں اثناء، پشاور بحالی منصوبے کے جزُ کے طور پر صوبے میں پہلی "ثقافتی ورثہ راہداری" تعمیر کی گئی ہے اور یہ عوام کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اس کا مقصد تعمیراتی ورثہ کو محفوظ بناتے ہوئے سیاحوں کو لانا ہے۔

اس منصوبہ کے تحت کارکنان نے مقامی تعمیراتی انداز کو محفوظ کرنے کے لیے بازارِ کلاں کی تاریخی عمارات کو مرمت کیا اور انہیں بحال کیا۔

الدین نے کہا کہ درایں اثناء، حکومتِ کے پی غور کھتری کے قدیم مقام کو محفوظ بنا رہی ہے، جو کہ سولہویں صدی میں مغل سلطنت کے دوران تعمیر کیا گیا ایک ہندو مندر ہے اور جو پشاور کے بلند ترین مقامات میں سے ایک پر واقع ہے۔

الدین نے مزید کہا، "یہ احاطہ ایک میوزیم اور کھدائی کے ایک مقام پر مشتمل ہے، جو 2,000 برس سے زائد قدیم ہے۔ یہ مقام ہندوؤں اور بدھوں کے لیے مقدس ہے اور یہ مزید سیّاحوں کے لیے باعثِ کشش ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "ہم پشاور اور کے پی میں ایسے مقامات سے متعلق نمائشوں، آن لائن پورٹلز اور چھاپی گئی کتب کے ذریعے مذہبی سیّاحت کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔"

ایک بہتر تصور

کام کرنے والے دیگر گروہ پشاور کے متعدد علاقوں پر مرتکز ہیں۔

اس اقدام کے تحت ایک اور کام کرنے والے گروہ کی قیادت کرنے والے طاہر خٹک شہری ترقی اور ماحول کے ساتھ ساتھ اس امر سے متعلق بھی تجاویز دیں گے کہ بنیادی ڈھانچے کو کیسے بہتر کیا جائے اور ٹریفک کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جائے اور شہر کے نکاسی کے نظام کو کیسے بہتر کیا جائے۔

کام کرنے والے ایک اور گروہ کی چیئر پرسن عائشہ بانو کے مطابق، یہ اقدام پشاور کے نواح میں چوا گجر میں ایک پل کا اعلان کرے گا، جو مغلیہ دور کی ہے اور اس اقدام کے تحت ورثہ کا ایک مقام ہے۔

بانو، جو حکمران جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) سے کے پی اسمبلی کی ایک رکن ہے، نے کہا کہ حکومت پشاور کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا، "اگرچہ ہمیں متعدد چیلنجز درپیش ہیں، تاہم ہم نے اس اقدام پر کام کا آغاز کر دیا ہے، اور ایک ماہ کے اندر ہم پشاور بحالی منصوبے کے تحت تجاویز سے متعلق اپنی رپورٹ مکمل کر لیں گے۔"

"ہم ایک بہتر تصور بنانے کے لیے شہر کو نشئیوں اور بھکاریوں سے پاک کرنے سے متعلق بھی تجاویز دیں گے۔"

اس منصوبہ کے تحت کام کرنے والے ایک اور گروہ کے چیئرمین ڈاکٹر علی جان نے کہا کہ چالیس برس قبل دہشتگردوں کے قابض ہونے سے پہلے پشاور سیاحوں کے لیے سب سے دلپسند منزل تھی۔

جان نے کہا کہ بحالی کا یہ منصوبہ شہر کے ورثہ اور ساکھ کو بحال کرے گا۔

جان نے مزید کہا، "پشاور کی ساکھ بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ حکومت تاریخی مقامات حاصل کر رہی ہے اور سیاحوں کے لیے آرام گاہیں بنا رہی ہے۔ پشاور ایک تاریخی شہر ہے اور اس میںسیاحوں کے لیے باعثِ کشش ہونے کی صلاحیت ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500