سلامتی

نیٹو سپلائی قافلے پر حملے کے بعد خیبر پختونخوا نے حفاظتی انتظامات میں اضافہ کر دیا

از جاوید خان

image

خیبر کے باشندے 18 اکتوبر کو نیٹو سپلائی پر دہشت گردوں کے حملے کے مقام پر جمع ہیں۔ [شہباز بٹ]

پشاور -- خیبر پختونخوا (کے پی) نے ضلع خیبر میں نیٹو سپلائی کے ایک قافلے پر حملے اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کے بعد حفاظتی انتظامات میں اضافہ کر دیا ہے۔

16 اکتوبر کو، موٹرسائیکل سوار تین مسلح افراد نے ضلع خیبر کی باڑہ سب ڈویژن کے علاقے جلہندر کلے میں افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی لے جانے والے قافلے پر حملہ کیا۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) محمد علی گنڈاپور نے کہا، "دو ٹرالروں اور گاڑیوں پر لدی چار ہمویز کو حملہ آوروں کی جانب سے نذرِ آتش کر دیا گیا"، ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو نے کسی کی ہلاکت کی خبر نہیں دی۔

گنڈاپور نے کہا، "ہم نے مجموعی طور پر اور نیٹو سپلائی کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے ہیں، جبکہ پولیس چوکس ہے اور کسی کو امن و امان کو غیر مستحکم نہیں کرنے دے گی۔"

image

16 اکتوبر کو باڑہ، ضلع خیبر میں ہمویز اور دیگر کارگو لے جانے والے قافلے پر ایک حملے کے بعد امدادی کارکنان آگ بجھاتے ہوئے۔ [ریسکیو 1122]

image

خیبر پختونخوا پولیس اور فوجی حکام 17 اکتوبر کو خیبر کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے۔ [کے پی پولیس]

کے پی میں نیٹو سپلائی لے جانے والے ٹرک پر آخری حملہ جولائی 2019 میں خیبر میں ہوا تھا۔

اس سے قبل، افغانستان میں امریکی قیادت میں نیٹو فوج کے لیے رسد پر سنہ 2009 اور 2014 کے درمیان کئی مواقع پر پشاور، خیبر اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں حملے کیے گئے۔ امن و امان بہتر ہونے کے بعد ایسے حملے ختم ہو گئے تھے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ثناء اللہ عباسی نے، سی سی پی او گنڈاپور اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام اور فوجی حکام کے ہمراہ، حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے 17 اکتوبر کو وادیٔ تیراہ سمیت ضلع خیبر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔

عباسی نے کہا، "فوج اور پولیس نے ماضی میں امن کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں اور وہ مل کر خیبر اور کے پی کے دیگر حصوں میں مکمل امن کی متواتر کوششوں کو یقینی بنائیں گے۔"

بہتر حفاظتی اقدامات کے جزو کے طور پر، 17 اکتوبر کو پولیس نے پشاور میں ایک ٹرک میں ہتھیار اور گولہ بارود دیگر حصوں کو سمگل کرنے کی ایک بڑی کوشش ناکام بنائی تھی۔

اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فقیر آباد، حیدر علی نے کہا، "پشاور میں سخت پہرے کے دوران ایک ٹرک کو روکا گیا تھا، اور 34 خودکار ہتھیار، 68 رائفلیں، 14 پستول، 300 میگزین اور مختلف ہتھیاروں کی تقریباً 30،000 گولیاں برآمد کی گئی تھیں۔"

پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔

خونریز حملے

دہشت گردی کے واقعات کے بعد پولیس نے ملک کے دیگر حصوں میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا۔

15 اکتوبر کو، رزمک، شمالی وزیرستان کے قریب ایک بم دھماکے میں فوج کے ایک کپتان اور پانچ سپاہی شہید ہو گئے تھے۔

اسی روز، بھاری ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں نے گوادر سے کراچی لے کر جائے جانے والے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے اہلکاروں پر بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر اورمارا کے قریب حملہ کیا، اور 14 دفاعی اہلکاروں کو شہید کر دیا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا، "بلوچستان کی کوسٹل ہائی وے پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ایک واضح علامت ہے کہ دشمن بلوچستان اور اس کے لوگوں کو خوشحال نہیں بننے دینا چاہتا۔"

انہوں نے کہا کہ بزدلانہ کارروائی عوام کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتی، اور پاکستان بطور ایک قوم دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنے کے بلند جذبے سے سرشار ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے پی محمود خان نے کہا، "ملک بہادر جوانوں کو سلامی پیش کرتا ہے جنہوں نے ملک میں امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم فوج اور پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔"

سوشل میڈیا اور خبری میڈیا میں بہت سے لوگوں نے سخت ترین الفاظ میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کی۔

کراچی کے صحافی مبشر زیدی نے ٹوئیٹر پر کہا، "وزیرستان اور اورمارا دہشت گرد حملوں کے شہداء کے لیے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500