معاشرہ

’فحش‘ مواد پر بڑھتی ہوئی شکایات کے دوران ٹک ٹاک پر پابندی عائد کیے جانے کا پاکستانیوں کا خیرمقدم

ضیاءالرّحمٰن

image

ستمبر میں پشاور پریس کلب کے باہر پشاور کے رہائشی ٹک ٹاک کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے احتجاج کر رہے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

آسٹریلیا میں بھی ٹک ٹاک کی جانچ کی جا رہی ہے، جس میں انٹیلی جنس ایجنسیاں تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا اس ایپ سے کوئی سیکیورٹی خدشہ تو درپیش نہیں۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے یکم اگست کو خبر دی کہ چند ارکانِ پارلیمان نے حکومت سے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد – پاکستان کے علمائے دین اور سول سوسائٹی کے گروہ چینی ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر اس کے "فحش" مواد کی وجہ سے پابندی عائد کیے جانے کے حکومتی فیصلہ کی ستائش کرتے ہیں۔

ریاست کے زیرِ انتظام ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ایک بیان میں کہا کہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر "معاشرہ کے مختلف طبقوں سے متعدد شکایات" کے بعد پاکستان نے 9 اکتوبر کو ملک میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی۔

ٹک ٹاک، جو کہ صارفین کو مختصر دورانیے کی ویڈیوز شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے، ایک بیجنگ اساسی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی بائیٹے ڈانس کی ملکیت ہے۔

image

ستمبر میں متعلقہ شہریوں کا ایک گروہ ٹک ٹاک پر پابندی کے مطالبہ کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رہا ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

ستمبر میں کراچی میں ٹک ٹاکر صارفین کا ایک گروہ کراچی کے ایک پارک میں اپنے مظاہرہٴ فن کو فلم بند کر رہا ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

PTA نے جولائی میں ایک بیان میں کہا کہ اگر یہ ایپ اس مواد کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرے گی، جسے یہ "غیر اخلاقی، خلافِ تہذیب اور فحش" خیال کرتا ہے، تو پاکستان اس پر پابندی عائد کر دے گا۔ اس وقت اس نے اس کمپنی کو حتمی تنبیہ جاری کی تھی۔

سیاسی کمیونیکیشن پر وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا کہ بالآخر والدین کی جانب سے حکومت کو متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی۔

انہوں نے کہا، "وزیرِ اعظم کے پورٹل پر والدین کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہوئیں جن میں کہا گیا کہ مختصر ویڈیوز کی اس ایپ کی وجہ سے ان کے بچے ناشائستہ سرگرمیاں اپنا رہے ہیں، جو کہ پاکستانی معاشرہ کی مذہبی، معاشرتی اور روائتی اقدارکے خلاف ہیں۔"

مذہب کا تمسخر

اس پابندی کو پاکستان میں سیاست دانوں، علمائے دین اور سول سوسائٹی کے گروہوں کی جانب سے حمایت حاصل ہوئی ہے۔

جولائی میں پنجاب اسمبلی کی ایک رکن، رابعہ نصرت نے اپنی صوبائی قانون ساز میں ٹک ٹاک پر پابندی کے مطالبہ میں ایک قرارداد جمع کرائی۔

نصرت نے کہا، "ٹک ٹاک پر استعمال ہونے والی ناشائستہ اور فحش زبان کا معاشرے پر ایک منفی اثر ہو گا۔ یہ ایپ نہ صرف بلیک میل کرنے کے لیے بلکہ مذہب کا تمسخر اڑانے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔"

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین مولانا عثمان مکّی نے کہا، "پاکستان کے مذہبی گروہ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے حکومتی اقدام کی حمایت کرتے ہیں، کیوں کہ یہ نہ صرف پاکستان کے معاشرے پر منفی طور پر اثرانداز ہو رہی ہے، بلکہ مذہب کا تمسخر بھی اڑا رہی ہے۔"

مکّی نے کہ کہ غیر ملکی ٹیک کمپنیوں، بطورِ خاص چینی فرمز کو معاشرہ اور مذہب کا احترم کرنا چاہیئے اور ایسے مواد کی اجازت نہیں دینی چاہیئے جو ملک کے باشندوں کے مابین بدامنی پیدا کرے۔

احتجاج کا انتظام کرنے اور پشاور کی عدالتِ عالیہ میں ٹک ٹاک کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے لیے ایک درخواست دائر کرنے والے ایک پشاور اساسی سول سوسائٹی گروہ، پاکستان سٹیزن آرگنائزئشن (PCO) نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔

PCO کے قائدین میں سے ایک عاصم عصمت نے 10 اکتوبر کو پشاور میں کہا کہ پاکستانیوں کی اکثریت اس پلیٹ فارم پر پابندی عائد کرنے کے اس حکومتی اقدام کی حمایت کرتی ہے کیوں کہ یہ اسلامی طرزِ حیات کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی متعدد سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔

عصمت نے کہا، "ٹک ٹاک نوجوانوں کا رخ غیر سنجیدہ رویے کی جانب موڑ رہی تھی اور خود کشیوں میں اضافہ کا باعث بن رہی تھی۔"

متعدد نوجوان پاکستانی اس ایپ کے لیے ویڈیوز بناتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ جون میں 19 سالہ تنویر نے کراچی کے علاقہ سکندر گوٹھ میں ٹک ٹاک کے لیے ایک کلپ فلماتے ہوئے حادثاتی طور پر خود کو گولی مار لی تھی۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جانچ

اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بیجنگ نے اپنے یہاں مغربی اساسی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا ہے۔ حکومتِ چین نے ٹویٹر، یوٹیوب، گوگل اور فیس بک پر پابندی لگا دی ہے اور چین میں خبروں اور معلومات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے ایک "گریٹ فائروال" کا استعمال کر رہی ہے۔

چینی سفارتکار اور ریاستی میڈیا حالیہ برسوں میں منافقانہ طور پر بیرونِ ملک کی فراخ دلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیجنگ کا بیانیہ پھیلانے کے لیے جوق در جوق ایسے پلیٹ فارمز پر ٹوٹ پڑے ہیں۔

بطورِ خاص چین کی جانب سے ایک انتہائی ناپسندیدہ دعویٰ، جسے سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا،یہ دعویٰ کرنے والا نظریہٴ سازش تھا کہ امریکی فوج وُوہان میں کرونا وائرس لائی۔

مزید برآں، ٹک ٹاک کو اس امر سے متعلق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جانچ کا سامنا ہے کہ یہ کیسے ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرتی اور استعمال کرتی ہے۔

بھارت نے 23 جولائی کو ٹک ٹاک اور دیگر 52 چینی ایپس پر یہ دلیل دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی کہ یہ پلیٹ فارمز غیر قانونی طور پر ڈیٹا کو استعمال کر رہے ہیں اور جب لوگ ان ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو یہ خفیہ طور پر لوگوں کے فونز سے معلومات اکٹھی کرتی ہیں۔

اگست میں امریکی وائیٹ ہاؤس نے احکامات جاری کیے جن کی وجہ سے امریکی منڈی سے ٹک ٹاک اور ایک دیگر چینی ایپ، وی چیٹ مؤثر طور پر کالعدم ہو گئی۔

گزشتہ برس بنگلہ دیش میں فحش نگاری پر کریک ڈاؤن کے ایک جزُ کے طور پر ٹک ٹاک کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ انڈونیشیا نے 2018 میں توہینِ مذہب کے خدشات پر مختصر وقت کے لیے اس ایپ تک رسائی کو بند کیا تھا۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

حکومتِ پاکستان کی جانب سے اچھا اقدام۔ ٹک ٹاک مسلم معاشرے میں فحاشی کو فروغ دے رہا تھا۔ چین مذہب کا احترام نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی کمپنیاں بھی ایسا نہیں کرتیں۔

جواب