دہشتگردی

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے امریکی معاونت کا متلاشی

ضیاءالرّحمٰن

image

یکم اکتوبر کو کراچی کی ایک گلی میں رینجرز گشت کر رہے ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی تجاویز پر عمل کرنے کے لیے متعدد اقدامات مکمل کیے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

اسلام آباد – تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات اور غیر قانونی ترسیلِ زر کے خلاف لڑائی میں بین الاقوامی معیاروں پر پورا اترنے کی کوششوں کے جزُ کے طور پر پاکستان مدد کے لیے امریکہ کی جانب رجوع کر سکتا ہے۔

ایک پیرس اساسی بین الحکومتی تنظیم، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف اقدامات نہ کرنے پر جون 2018 میں اولاً پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں رکھا تھا۔

گرے لسٹ ان ممالک پر مشتمل ہے جن کی غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف لڑائی میں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف نگرانی کر رہی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنی شرائط پوری کرنے کے لیے ایکشن پلان مکمل کرنے کے سلسلہ میں اسلام آباد کے لیے حدِ آخر کو ستمبر تک توسیع دے دی تھی، اور وہ 21-23 اکتوبر کو ایک اجلاس میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان سے متعلق پاکستان کی پیش رفت کا اندازہ لگائے گی۔

image

فروری میں کراچی کے طلبہ ایک مدرسے میں امتحان دے رہے ہیں۔ پاکستانی حکام نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مدرسوں سمیت 976 املاک منجمد کر دی ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

اگست میں کراچی میں ایک خیراتی تنظیم پانی کے مفت کین (بوتل بند پانی) تقسیم کر رہی ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

مشاہدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی حکام نے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عملدرآمد کرنے کے لیےمتعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین بہتر کیے گئے تعلقات پاکستان کی بلیک لسٹنگ کو روکنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جولائی 2019 میں وزیرِ اعظم عمران خان اور امریکی انتظامیہ کے مابین ایک ملاقات کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار رئیس احمد نے کہا کہ اس ملاقات سے قبل واشنگٹن نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات انتہائی حد تک خراب کر لیے تھے، جس نے پاکستان کو انتہائی ضروری امریکی حمایت سے محروم کر دیا اور نتیجتاً ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہو گیا۔

تاہم، احمد نے کہا کہ،افغانستان میں امن مزاکرات کی پیش رفتمیں امریکہ کی مدد کرنے سے اسلام آباد کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کا ایک موقع فراہم ہوا اور نتیجتاً امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنے کی کوششوں میں پاکستان کی معاونت کی۔

بلیک لسٹ کیے جانے پر پاکستان ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ شریک ہو جائے گا اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے اپنے دروازے اس کے لیے بند کر لیں گے۔

جنوری میں بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک جائنٹ گروپ نے تعین کیا کہ غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف جنگ میں اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے کئے گئے 22 وعدوں پر پاکستان "کافی حد تک پورا اترا"۔

احمد نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان سمیت کلیدی اتحادیوں نے اجلاس میں پاکستان کو پاس دیا۔

امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی حالیہ کوششوں کے لیے اپنی حمایت کو عام کر دیا ہے۔

امریکہ کے دفترِ خارجہ کے دفتر برائے امورِ جنوبی و وسطی ایشیا نے 29 جولائی کو ایک بیان میں کہا، "پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف اپنے قومی ایکشن پلان اور وزیرِ اعظم عمران خان کے عوامی وعدوں کے مطابق، بیرونی طور پر مرکوز عسکریت پسند گروہوں اوراپنے علاقہٴ عملداری سے کام کرنے والییو این [اقوامِ متحدہ] کی نامزد دہشتگرد تنظیموںکے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں۔"

فروری میں اس دفتر نے دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے دو مقدمات میں پاکستانی عدالت کی جانب سے جماعت الدعویٰ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے ایک ساتھی کو سزا سنائے جانے کی ستائش کی۔

اس نے ٹویٹ کیا کہ یہ سزا پاکستان کی جانب سے "دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف لڑائی" کے عہد کو پورا کرنے کی جانب "ایک اہم قدم" تھی۔

وزارتِ داخلہ کے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سنیئر عہدیدار نے اپنی شناخت خفیہ رکھے جانے کی شرط پر کہا، "پاکستان پرامید ہے کہ امریکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کی مدد کرے گا۔"

وزارتِ داخلہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستانی حکام نے مارچ 2019 سے اب تک کالعدم تنظیموں سے متعلقہ 976 املاک کو منجمد کیا اور خیراتی تنظیموں کے بھیس میں ان گروہوں کے زیرِ استعمال سکول، کالج، مدرسے، ہسپتال، ڈسپنسریاں اور ایمبولینس ضبط کر لیے۔

امریکہ چین تناؤ

مشاہدین کا کہنا ہے کہ جبکہ اسلام آباد واشنگٹن سے ممکنہ معاونت کا متلاشی ہے، امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تناؤ پاکستان کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین تجارت، کرونا وائرس وبا، ژنگجیانگ اور ہانگ کانگ میںحکومتِ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی،کوویڈ-19 کے دنیا بھر میں پھیلاؤ میں اس کے کردار سے متعلق غلط معلوماتکی مہم، اور اس کی جانب سے فوج کے بڑھتے ہوئے بے دریغ استعمال سمیت متعدد امور پر تناؤ بڑھ گیا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک کنسلٹنٹ اشوک شرما، جو نئے تصور کے کاروبار چلاتے ہیں، نے کہا، "اسلام آباد کو چین-امریکہ تناؤ میں غیر جانبدار رہنا چاہیئے اور اسے یہ اندازہ بھی رکھنا چاہیئے کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔"

پاکستان کے ٹیکسٹائل کے کاروباراورملک کا شعبہٴ ٹیکنالوجیپہلے ہی ایسی ممکنہ منڈیوں پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں جنہوں نے تناؤ سے جنم لیا۔

وزیرِ اعظم خان نے حال ہی میں واضح کیا کہ پاکستان امریکہ اور چین، ہر دو کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور اسے کسی مخصوص "پڑاؤ" کے ساتھ صف بنانے سے گریز کرنا چاہیئے۔

خان نے 3 ستمبر کو الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، "پاکستان کا کسی بھی پڑاؤ میں ہونا لازم نہیں۔ ہم ہر کسی سے ایک اچھا تعلق کیوں نہیں رکھ سکتے؟"

پاکستان میں بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کے ایوانِ صنعت و تجارت (او آئی سی سی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق، او آئی سی سی آئی کے تقریباً 200 ارکان میں چین کی صرف چار کمپنیوں کے مقابلہ میں بیس سے زائد امریکی کمپنیاں اس کی رکن ہیں۔

شرما نے کہا کہ قریبی تعلقات اور امریکی حمایت پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کرنے، برآمدات بڑھانے اور اپنی عسکری استعداد میں اضافہ کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

جنوری میں امریکہ نے استعداد اور تکنیکی مہارتوں میں میں بتدریج اضافہ کے ایک امریکی سیکیورٹی معاونت کے منصوبے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام سے پاکستان کی شرکت کو معطل کرنے کے ایک برس سے زائد عرصہ کے بعد اس پروگرام میں پاکستان کی واپسی کی منظوری دے دی۔

کیا آپ پاکستان کے مستقبل سے متعلق پرامید ہیں؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

ہاں پاکستان مستقبل بہت اچھا ہے انشاء اللہ

جواب