صحت

عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں کے رہائشی صحت کی مفت خدمات کا خیرمقدم کرتے ہیں

اشفاق یوسف زئی

image

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں یکم اکتوبر کو ایک ڈاکٹر، صحت سہولت پروگرام کے تحت علاج کروانے والے ایک مریض کے لیے نسخہ لکھ رہا ہے۔ [اشفاق یوسف زئی]

پشاور -- عسکریت پسندی کی شکار مالاکنڈ ڈویژن اور خیبر پختونخواہ (کے پی) کے دوسرے اضلاع کے رہائشی، وفاقی حکومت کے اس پروگرام کی توسیع کی ستائش کر رہے ہیں جس کے تحت ان کے علاقوں میں مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ پروگرام طویل عرصے سے نظر انداز کی جانے والی قبائلی پٹی کی خدمت بھی کرتا ہے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ پہل کاری ان عام شہریوں کے لیے ایک خوش آئند آسائش ہے جنہوں نے سالوں تک دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔

سوات جو کہ مالاکنڈ کی آٹھ ڈسٹرکٹس میں سے ایک ہے، کے ایک سابقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر محمد سلیم نے کہا کہ "دہشت گردوں نے عوام کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے صحت عامہ کی 25 عمارات کو تباہ کیا اور خواتین طبی کارکنوں کو مجبور کیا کہ وہ گھروں میں رہیں جس سے وہ خواتین بہت بری طرح متاثر ہوئیں جنہیں علاج کی ضرورت تھی"۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کے رہائشی ابھی بھی 2007 سے 2010 تک، سوات میں طالبان کے مظالم کو ابھی بھی یاد کرتے ہیں جب حاملہ خواتین طبی وجوہات کی بنیاد پر صرف اس لیے وفات پا گئیں کہ انہیں ڈاکٹر اور نرسیں دستیاب نہیں تھیں۔

image

وزیراعظم عمران خان، دائیں سے دوسرے نمبر پر کھْڑے ہیں، 22 اگست کو اسلام آباد میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے ساتھ دستخط کرنے کی تقریب میں شریک ہیں جس کے تحت صحت سہولت پروگرام کو خیبر پختونخواہ کے پورے صوبہ میں وسیع کر دیا جائے گا۔ [فیس بُک]

کے پی میں مرحلہ وار توسیع

حکومت مفت طبی سہولیات کی پہل کاری، جسے صحت سہولت پروگرام (ایس ایس پی) کے نام سے جانا جاتا ہے کو پورے کے پی میں مرحلہ وار طریقے سے وسعت دے رہی ہے، اور اس کا آغاز نومبر سے مالاکنڈ ڈویژن سے ہوا ہے۔

سلیم نے مزید کہا کہ "مفت طبی سہولیات کے لیے مالاکنڈ کا انتخاب، اس کی آبادی کو تشدد کا سامنا کیے جانے کے باعث کیا گیا ہے اور یہ اس بہادی کا ایک انعام ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کیا ہے"۔

ایس ایس پی کے تحت، سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تقریبا 10.5 ملین گھروں کو صحت انصاف کارڈ ملیں گے جن کے تحت وہ 150 سے زیادہ نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج معالجہ کروانے کے حق دار ہو جائیں گے۔

سابقہ فاٹا میں مریضوں کے لیے سالانہ 720,000 روپوں (5,160 ڈالر) کی مالیت کے علاج کا تخمینہ لگایا گیا ہے لیکن اگر وہ اس حد سے تجاوز بھی کر جائیں گے تو انہیں مفت علاج ملتا رہے گا۔

کے پی کے تصفیہ شدہ علاقوں، جس میں مالاکنڈ بھی شامل ہے، میں مریضوں کے لیے تجویز کردہ سالانہ حد زیادہ ہو گی اور اس کی وجہ سابقہ فاٹا سے باہر رہن سہن کے اخراجات کا زیادہ ہونا ہے۔

ایس ایس پی کے ایک اہلکار ڈاکٹر جبار خان نے کہا کہ "مالاکنڈ کے تمام ایک ملین سے زیادہ گھرانوں کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات 20 نامزد ہسپتالوں میں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ ہر خاندان سالانہ 7,050 ڈالر (1.2 ملین روپوں) کی مالیت کی خدمات حاصل کرنے کا اہل ہو گا۔

مالاکنڈ ڈویژن میں اس پروگرام کے شروع ہو جانے کے بعد، یہ دسمبر میں ہزارہ، جنوری میں مردان اور پشاور اور فروری میں کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شروع ہو جائے گا۔

یہ منصوبہ جس نے 2016 میں اپنے آغاز میں کے پی کی چار ڈسٹرکٹس میں 3 فیصد آبادی کو سہولت فراہم کی تھی، 2017 میں پورے صوبہ کی 51 فیصد آبادی تک وسیع ہو گیا۔ 2018 میں اس نے 69 فیصد کو سہولت فراہم کی۔ حکام کو توقع ہے کہ جنوری 2021 تک یہ پورے کے پی تک وسیع ہو جائے گا۔

ایس ایس پی کے لیے کے پی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض تنولی نے سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "سابقہ فاٹا میں 1.2 ملین خاندانوں کو پہلے ہی وفاق کے فنڈ شدہ پروگرام کے تحت مفت سہولیات مل رہی ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے پی میں کل تقریبا 6.6 ملین خاندان جنوری تک مفت طبی سہولیات کے اہل ہو جائیں گے۔

ابھی تک، وفاقی حکام نے 2016 سے صوبہ میں 200,000 مریضوں کے علاج پر 42 ملین ڈالر (7 بلین روپے) خرچ کیے ہیں۔

کے پی میں 2016 میں اپنے آغاز کے بعدایس ایس پی کی طبی سہولیات ملک بھر میں پھیل رہی ہیں اور آخرکار یہ کل 80 ملین پاکستانی شہریوں کو حاصل ہو جائیں گی جو غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

ایس ایس پی کو صوبہ پنجاب میں بھی توسیع دی جائے گی۔

صحت کے بارے میں وزیراعظم کے خصوصی معاون ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ "ہم نے پنجاب کے تمام اضلاع میں 5.1 ملین خاندانوں کو غربت کی بنیاد پر رجسٹر کیا ہے۔ یہ پروگرام 2023 تک پنجاب کی پوری آبادی کو یہ سہولت فراہم کرے گا"۔

سلطان نے کہا کہ یہ پہل کاری حاملہ خواتین کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرتی ہے اور وہ ہسپتال میں مفت علاج کروا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں نقل و حمل کے لیے 30 ڈالر (5,000 روپے) بھی دیے جاتے ہیں۔ ہسپتال میں کسی بھی مریض کی وفات کی صورت میں، خاندان کو کفن دفن کے خرچے کے لیے 60 ڈالر (10,000 روپے) دیے جاتے ہیں۔

دہشت گردی کے متاثرین

کے پی کی صحت عامہ کی عمومی خدمات کی نظامت کے میڈیکل افسر ڈاکٹر جاوید شاہ نے کہا کہ عسکریت پسندی کا شکار ہونے والے علاقوں کے رہائشی اس پہل کاری سے فائدہ اٹھانے کے حق دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسندوں نے 2005 سے 2012 کے دوران، سابقہ فاٹا میں 124 طبی مراکز کو نقصان پہنچایا اور خاتون طبی کارکنوں کو کام کرنے سے روکا۔ مریض، خصوصی طور پر خواتین، طالبان کی بے رحمی کا نشانہ بنی تھیں"۔

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسندوں نے نہ صرف طبی مراکز کو نقصان پہنچایا بلکہ انہوں نے کم از کم ایک درجن ڈاکٹروں کو اغوا بھی کر لیا جس سے صوبہ کے ڈاکٹروں میں بے چینی پیدا ہو گئی"۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ڈاکٹر "اپنے ساتھیوں کے اغوا پر احتجاج کرنے کے لیے ہڑتال پر چلے گئے جس سے سہولیات کی فراہمی بند ہو گئی جبکہ کچھ ڈاکٹروں نے عسکریت پسندی کے شکار علاقوں میں تعیناتی سے انکار کر دیا "۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر ساجد نے کہا کہ ایس ایس پی کا آغاز درست سمت میں ایک قدم ہے خصوصی طور پر کے پی کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ "اس سے خواتین اور بچوں کی صحت اور اس کے ساتھ ہی حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں طبی اشارے بہتر ہو جائیں گے۔قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے باعث سب سے کم طبی اشارے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ صورتِ حال بہتر ہو جائے گی"۔

امن کی طرف راستہ

شمالی وزیرستان کے علاقے مانسہرہ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال کے میڈیکل افسر ڈاکٹر محمد اسماعیل نے کہا کہ طبی اقدامات سے علاقے میں امن کی راہ ہموار ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ "ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اس وقت عسکریت پسند گروہوں میں شرکت اختیار کی جب انہیں اپنے پیاروں کا علاج کروانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی مگر اب چونکہ مفت طبی سہولیات میسر ہیں تو دہشت گرد، دہشت گردی کے کاموں کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے قابل نہیں ہوں گے"۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی شہری طاہر علی جو کہ نقل و حمل کی گاڑی چلاتے ہیں اور ایس ایس پی سے سہولیات حاصل کرتے ہیں، اس پہل کاری پر بہت شکرگزار ہیں کیونکہ ان کی اہلیہ کو اپنے ذیابیطس کے مرض کا مناسب علاج مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "نیا پروگرام ایک نعمت ثابت ہوا ہے کیونکہ میری بیوی کو پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں باقاعدہ اور مفت سہولیات مل رہی ہیں۔ ہم ہسپتال میں صرف اپنا قومی شناختی کارڈ دکھاتے ہیں"۔

علی نے کہا کہ "ہم عسکریت پسندوں کا خاتمہ کرنے اور امن قائم کرنے پر فوج کے شکرگزار ہیں اور حکومت کے بھی، جس نے یہ پروگرام متعارف کروایا ہے۔ اس پروگرام کی بہت تعریف کی جارہی ہے"۔

کیا آپ اس امر سے متعلق خدشات رکھتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو گا؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500