سفارتکاری

امن مزاکرات کے دوران خلیل زاد افغانستان اور پاکستان کے مابین ضمنی معاہدہ کے متلاشی

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

14 ستمبر کو اسلام آباد میں امریکہ کے افغانستان مفاہمت کے لیے نمائندہٴ خصوصی زلمئے خلیلزاد (درمیان میں بائیں جانب) پاکستانی عسکری حکام سے مزاکرات کر رہے ہیں۔ [پاکستانی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز]

واشنگٹن – افغان مفاہمت کے لیے امریکہ کے نمائندہٴ خصوصی زلمئے خلیلزاد نے اس امّید کا اظہار کیا ہے کہ کابل اسلام آباد کے ساتھ ایک ضمنی معاہدے تک پہنچ سکتا ہے، جس کی طالبان کی تاریخی حمایت کے پرکھے گئے تعلقات ہیں۔

طالبان اور افغان حکومت دوحہ، قطر میں سست رو امن مزاکرات میں مصروفِ عمل ہیں۔

خلیلزاد نے کہا کہ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاید باجوہ سفارتی کاوشوں میں "مددگار" رہے ہیں۔

انہوں نے بدھ (7 اکتوبر) کو دوحہ سے ویڈیو کے ذریعے یونیورسٹی آف شکاگو کے ایک فورم سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم داخلی امن کے متوازی کے طور پر افغانستان اور پاکستان کے مابین ایک معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک "اس امر پر متفق ہوں گے کہ عسکریت پسند گروہوں یا ایسے گروہوں کی جانب سے ان کا علاقہٴ عملداری دورسرے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جن سے دوسرے کی سلامتی کی بیخ کنی ہو۔"

پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے مابین 29 فروری کے معاہدے کی ستائش کی، جس میں واشنگٹن نے اعلان کیا کہ وہکابل اور اسلام آباد کے مابین"مزاکرات کی تسہیل" کرے گا۔

پاکستان کے لیے معاشی فوائد

گزشتہ ماہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے خلیلزاد نے کہا کہ وہ پاکستان کے لیے معاشی فوائد دیکھتے ہیں، جو بجلی کی شدید قلت سے دوچار ہے اور اگر افغان حکومت اور طالبان کسی معاہدے پر پہنچ جائیں تو بجلی سے مالامال وسط ایشیا سے بجلی درآمد کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر افغانستان میں امن آتا ہے تو ایسے معاشی اسباب موجود ہیں جو خطے کے لیے انقلابی ہوں گے۔"

پاکستانی حکام نےکئی ماہ کی تاخیر کے بعد12 ستمبر کو شروع ہونے والے امن مزاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔

خان نے 11 ستمبر کو ٹویٹ کیا، "بالآخر ہماری مشترکہ کاوشیں وہ دن سامنے لے آئی ہیں جس کے افغان عوام منتظر ہیں۔"

انہوں نے ایک جداگانہ ٹویٹ میں کہا، "پاکستان اپنے حصّے کے کام کے طورپر امن و ترقی کے سفر میں پیش رفت کرنے والے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی مکمل حمایت میں رہے گا۔"

13 ستمبر کو قائم مقام افغان وزیرِ خارجہ محمّد حنیف اتمار نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کی ستائش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، "ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی نئے مواقع لائے گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500