حقوقِ انسانی

لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ پر کام کرنے والی سوات کی لڑکی کے لیے یو این کا اعزاز

عدیل سید

image

حدیقہ بشیر (بائیں) 2019 میں سپین میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران خطاب کر رہی ہیں۔ [بہ شکریہ حدیقہ بشیر]

پشاور -- سوات ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کو اقوامِ متحدہ (یو این) نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف جنگ کرنے کے سلسلے میں اس کے کام پر اعزاز سے نوازا ہے۔

حدیقہ بشیر، جن کی عمر 18سال ہے، کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے پروگرام برائے 2020 میں نوجوان راہنما نامزد کیا گیا ہے۔

سیکریٹری جنرل کے ایلچی برائے یوتھ کے اقوامِ متحدہ کے دفتر نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ انہیں دیگر 16 نوجوانوں کے ساتھ، اپنے اپنے ملکوں میں نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے پر منتخب کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے 18 ستمبر کو ٹوئٹ کیا کہ "دنیا بھر سے تبدیلی لانے والے 17 افراد سے ملیں، جنہوں نے سب لوگوں کے لیے ایک زیادہ پائیدار اور جامع مستقبل کی راہ ہمورا کی ہے"۔

image

حدیقہ بشیر (سیاہ لباس میں) اکتوبر 2017 کو سوات ڈسٹرکٹ میں، لڑکیوں کے حقوق کے لیے آگاہی پیدا کرنے کی اپنی مہم کے دوران، خواتین اور لڑکیوں سے خطاب کر رہی ہیں۔ [بہ شکریہ حدیقہ بشیر]

اس ٹوئٹ میں تمام منتخب شدہ نوجوان راہنماؤں، جن میں حدیقہ بشیر بھی شامل ہیں، کی تصاویر تھیں۔

حدیقہ بشیر نے کہا کہ "میرے لیے دنیا بھر سے اقوامِ متحدہ کی طرف سے منتخب کیے جانے والے 17 نوجوان راہنماؤں میں شامل ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور اس نے مجھ میں ایک نئی روح پھونک دی ہے کہ میں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اور بھی زیادہ محنت کروں جن کے لیے میں کام کرتی رہی ہوں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ میرے لیے واقعی بہت زبردست ہے کہ میں دنیا بھر سے منتخب ہونے والے صرف 17 نوجوانوں میں سے ایک ہوں جنہیں 172 ممالک کے 7,000 امیدواران کی سخت جانچ پڑتال کے بعد منتخب کیا گیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں 17 نوجوان راہنماؤں میں دوسرے نمبر پر ہوں، میرے سے آگے ایک امریکی درخواست گزار ہیں جنہیں پہلے نمبر پر منتخب کیا گیا ہے"۔

کم عمری کی شادیوں سے جنگ

حدیقہ بشیر نے حال ہی میں 12ویں جماعت کی تعلیم مکمل کی ہے اور وہ قبائلی علاقوں، جو کہ عسکریت پسندوں کا گڑھ رہا ہے، میں گزشتہ پانچ سالوں سے لڑکیوں کے حقوق کی سرگرم کارکن رہی ہیں۔

سالوں تک، طالبان، علاقے میں اسکول جانے پر عورتوں اور لڑکیوں کو ڈرانے کے لیے ریڈیو پر دھمکیاں دیتے تھے۔

حدیقہ نے کہا کہ "میں سوات وادی کے علاقے سیدو شریف کے ایک پدری معاشرے میں پیدا ہوئی اور میں کم عمری اور جبری شادیوں کے خلاف کام کر رہی ہوں"۔

انہوں نے کہا کہ میری دو آنٹیوں کی شادی کم عمری میں کر دی گئی تھی اور انہوں نے یاد کیا کہ جب وہ 11 سال کی ہوئیں تو ان کی دادی نے ان کی شادی کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے مخالفت کی اور اپنے بزرگوں سے بحث کی کہ میری شادی کم عمری میں کرنے کا منصوبہ ترک کر دیں اور میری مزاحمت کامیاب رہی"۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی نے ان کی حوصلہ افزائی کہ کہ وہ دوسری لڑکیوں کو بھی ایسی عمر میں شادی سے بچائیں جو کہ ان کے کھیلنے اور پڑھنے کی عمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے لوگوں کے حساس بنانے کے لیے برادری کی سطح پر کام کرنا شروع کر دیا اور اپنے علاقے کے مردوں اور عورتوں سے ملاقات کی تاکہ انہیں ان منفی اثرات کے بارے میں بتا سکوں جو کم عمری کی شادی سے لڑکیوں کی زندگیوں پر ہوتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اس مقصد کے لیے میرے عزم نے میرے کام کے دائرے کو بڑھایا جو کہ اب غربت کے خاتمے، صلاحیتوں کی تعمیر سے عورتوں کو خودمختار بنانے، خواتین کے خلاف تشدد اور منخثوں کے حقوق اور اس کے ساتھ ہی خواتین اور لڑکیوں کے لیے مخفوظ اور پائیدار شہر قائم کرنے تک بڑھ گیا ہے"۔

حدیقہ بشیر نے ایک تنظیم قائم کی ہے جسے گرلز یونائٹڈ فار ہیومن رائٹس کہا جاتا ہے اور 10 لڑکیوں کا ایک گروپ بنایا جو علاقے میں لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔

'حوصلہ افزائی کا ایک پیغام'

حدیقہ بشیر نے فون کرنے والے نامعلوم افراد کی دھمکیوں کو نظر انداز کر دیا جن کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنی کوششوں کو روک دیں۔

ان کے مستقبل کے منصوبوں میں اپنی تنظیم کو رجسٹر کروانا شامل ہے جس میں عمر کے شرائط کے باعث تاخیر ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں، وہ اپنی اعلی تعلیم کے دوران نفسیات یا فلسفہ کا علم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمنز کی پروگرام ڈائریکٹر آمنہ دارنی نے حدیقہ کے کام اور انہیں بین الاقوامی طور پر ملنے والی پذیرائی کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان سے ایک نوعمر لڑکی کا انتخاب ملک کی خواتین کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے اور یہ ان کے ہم عمروں کو حوصلہ افزاء پیغام بھیجے گا کہ وہ زیادہ لگن اور محنت سے کام کریں"۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ملک کی ایک مثبت تصویر پیش کرے گا جہاں نوجوان لڑکیوں کے حقوق کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ کی طرف استحکام کے لیے طے کیے جانے والے اہداف کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔

درانی نے کہا کہ "یہ ایک قابلِ تعریف پیش رفت ہے جو کہ ہماری نئی نسل میں احساسِ ذمہ داری کی عکاس ہے جو معاشرے میں ہونے والے غیر اخلاقی کاموں پر تشویش رکھتے ہیں اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی امن کی سرگرم کارکن اور 2016 میں اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگران این-پیس نیٹ ورک کے "کیمپیننگ فار ایکشن ایوارڈ کو جیتے والی مسرت قدیم نے حدیقہ بشیر کے اعزاز اور کام کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ حوصلہ افزاء ہے کہ انسانی حقوق اور پائیدار ترقی کے لیے کام کرنے والوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا اور پہچانا جاتا ہے"۔

قدیم نے حدیقہ پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں کے حقوق اور حفاظت کے لیے اپنے کام پر توجہ کو جاری رکھیں۔

کے پی یوتھ اسمبلی کے ایک رکن درویش عارف نے کہا کہ حدیقہ بشر کے انتخاب نے "ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کے پاس زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی موجودہ سماجی برائیوں کو شکست دینے کے لیے، محنت سے کام کرنے کی صلاحیتیں اور حوصلہ افزائی موجود ہے"۔

کے پی یوتھ اسمبلی بشیر اور ملالہ یوسف زئی جیسے نوجوانوں کے کام پر فخر کرتی ہے جنہوں نے عالمی برادری کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ پاکستانی نوجوان صدیوں سے جاری غیر اخلاقی کاموں کا خاتمہ کر کے اپنے ملک میں لوگوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا مکمل عزم رکھتے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی، جن کا تعلق بھی سوات سے ہے، نوبل انعام جیتنے والی کم عمر ترین فرد ہیں۔11 سال کی عمر میں انہوں نے لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کے لیے لڑنا شروع کیا۔ چار سال بعد، 2012 میں انہیں طالبان کے مسلح افراد نے سوات میں گولی ماری تھی۔ وہ صحت یاب ہو گئیں اور انہوں نے 17 سال کی عمر میں 2014 میں نوبل انعام جیتا تھا۔

ملالہ یوسف زئی اس معاملے کی بھرپور وکالت جاری رکھی ہوئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500