https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/09/15/feature-02
دہشتگردی

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش میں پاکستان نے دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی تحقیقات میں اضافہ کر دیا

اشفاق یوسفزئی

image

29 جون کو کراچی میں مسلح افراد کی جانب سے ایک حملے کے بعد پولیس کمانڈو پاکستان سٹاک ایکسچینج بلڈنگ کے سامنے گشت کر رہے ہیں۔ [آصف حیسن/اے ایف پی]

اسلام آباد – پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پوری کرنے اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے اس عالمی واچ ڈاگ کی گرے لسٹ سے نکلنے کی غرض سے غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کی کاوشوں کو تیز تر کر رہا ہے۔

ایک پیرس اساسی بین الحکومتی تنظیم ایف اے ٹی ایف نے قبل ازاں جون 2018 میں غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف کاروائی نہ کر پانے پر پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں رکھا تھا۔

یہ گرے لسٹ ان ممالک پر مشتمل ہے جن کی غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف لڑنے میں کمزوریوں کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف نگرانی کر رہی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنی شرائط پوری کرنے کے مقصد سے ایک ایکشن پلان مکمل کرنے کے لیے اسلام آباد کی ڈیڈ لائن کو ستمبر تک توسیع دے دی تھی، اور وہ اکتوبر میں شروع ہونے والے نئے اگلے مکمل دور میں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر پاکستان کی پش رفت کا اندازہ لگائے گی۔

image

8 ستمبر کو پشاور میں راہگیر ایک کرنسی مارکیٹ کے سامنے پیدل چل رہے ہیں۔ [اشفاق یوسفزئی]

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے 28 اگست کو خبر دی کہ اس نے حکومت کے حالیہ کریک ڈاؤن میں غیر قانونی بینک لین دین میں 1.4 بلین روپے (8.4 ملین ڈالر) دریافت کیے۔

مقامی میڈیا نے ایف بی آر کے حوالہ سے خبر دی کہ اسلام آباد میں ڈائریکٹریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹیگیشن نے ایک مشتبہ شخص کے ٹیکس پروفائل پر غور کرنے کے بعد کاروائی کی، جو متعدد گاہکوں کو پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے کے لیے کاروبار کے مختلف نام استعمال کرتا تھا۔

ایف بی آر نے کہا کہ یہ مشتبہ شخص 1.1 بلین روپے (6.6 ملین ڈالر) کے بینک لین دین اور اپنے ذرائع آمدنی کی وضاحت نہ کر سکا۔

ایف بی آر نے کہا کہ مزید برآں ملزم کے ایک ساتھی نے 329 ملین روپے (1.9 ملین ڈالر) کا ایک بینک لین دین کیا تھا جس کے بارے میں حکام نے مشتبہ ہونے کا خیال کیا۔ یہ دونوں لوگ مل کر کام کر رہے تھے اور ان کے پاکستانی اور غیر ملکی بینکوں میں 50 سے زائد کھاتے تھے۔

کہا گیا کہ حکام نے ان دونوں افراد کے خلاف 2010 کے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ایک شکایت درج کرا دی۔

واقعات میں اضافہ

ایف بی آر کے ایک عہدیدار چودھری مطاہر نے کہا کہ حکام نے گزشتہ دو ماہ کے دوران 20 سے زائد مشتبہ بینک کھاتوں کا پتہ چلایا ہے۔

انہوں نے 28 اگست کو کہا، "ان واقعات میں کھاتہ داروں نے یا تو کوئی ٹیکس ادا نہیں کیے یا بہت ہی کم ادا کیے ہیں، جبکہ ان کے لین دین دسیوں لاکھوں میں ہیں۔ لہٰذا ہم ان واقعات اورکالعدم تنظیموں کے ساتھ ان کے روابطکی مزید تحقیقات کر رہے ہیں، جو ملک میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے لیے مالیات فراہم کرنے کے لیے یہ روپیہ استعمال کر رہے ہیں۔"

ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ مقدمات پر کام کرنے والی ایف بی آر کی شاخ غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے مشتبہ واقعات تک تحقیقات پہنچانے میں مدد کر رہی ہے۔

مطاہر نے کہا، "جلد ہی ہم ان ملزمان کے خلاف متعدد مقدمات کا آغاز کرنے جا رہے ہیں کیوںکہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے رہنما خطوط کی مطابقت سے مشتبہ افراد کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔"

13 جولائی کو خیبر پختونخوا کے محکمہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے ایک اور واقعہ میں ضلع کرم سے تین ملزمان کو گرفتار کیا جو 78,000 ڈالر (13 ملین روپے) اور 5 ملین افغان افغانی (10.8 ملین روپے) کے ساتھ ساتھ پاکستانی بینک نوٹ بھی لے جا رہے تھے۔

حکام نے ان کے خلاف 1997 کے قانونِ انسدادِ دہشتگردی کی دفعہ ایف-11 (کسی کالعدم تنظیم کی رکنیت) اور دفعہ این-11 (دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات) کے تحت مقدمہ درج کرایا۔

اس وقت کے ایک سی ٹی ڈی انسپکٹر رزاق خان نے کہا کہ یہ ملزمان ضلع کرم میں کرلاچی سرحدی چوکی کے راستے افغانستان سے پاکستان داخل ہوئے اور دہشتگرد گروہوں کو مالیات فراہم کیں۔

18 جولائی کو ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ مقدمات پر کام کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ایک یونٹ نے بیان دیا کہ اس نے لاہور میں غیر قانونی ترسیلِ زر کرنے والے افراد کا ایک نیٹ ورک دریافت کیا اور اس کے چار ارکان کو گرفتار کیا۔

مقامی میڈیا نے خبر دی کہ گرفتار کرنے والے اہلکاروں نے پاکستانی کرنسی، غیرملکی کرنسی، لیپ ٹاپ، موبائل فون اورہنڈی اور حوالہسے متعلقہ رسیدوں کے ساتھ ساتھ چیک بکس بازیاب کیں۔

مزید قوانین زیرِ غور

ریاستی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمّد خان کے مطابق،قانون سازی دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی بیخ کنی کی کاوشوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "پاکستان اپنے ہی تحفظ کے لیے یہ اقدامات کر رہا ہے۔ ہم نے گزشتہ 20 برسوں میں دہشتگردی کی وجہ سے 70,000 افراد کھوئے ہیں، اور ہمیں امن کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں نے دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن اور ان کے خلاف کامیاب قانونی کاروائی میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

خان نے کہا کہرواں برس کے اوائل میں حافظ سعید، کالعدم عسکریت پسند گروہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور اس سے منسلک سیاسی شاخ جماعت الدعویٰ (جے یو ڈی) کے رہنما، کی سزا کو امریکی حکام سے وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔

انہوں نے کہا، "دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے ملزمان کی سزاؤں کو یقینی بنانے کے لیے مزید قوانین زیرِ غور ہیں، جس سے نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری ہوں گی، بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہماری عوام کو تحفظ بھی فراہم ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے اعمال ہماری نیتوں کے غمّاز ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کو محفوظ بنانے اور معاشی ترقی کرنے کے لیے گرفتاریاں ہو رہی ہیں، سزائیں دی جا رہی ہیں اور موجودہ قوانین میں نئی ترامیم ہو رہی ہیں۔"

وزیرِ اعظم عمران خان نے 27 اگست کو اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر رہنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف ٹھوس اقدامات نہ کر پانے پر پاکستان کو ایک بد تر ہوتی معاشی صورتِ حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم دنیا کو اس امر سے متعلق تسلی کرانے کے لیے سب کچھ کریں گے کہ پاکستان دہشتگردی کا خاتمہ چاہتا ہے اور امن کا متلاشی ہے۔"

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)