حقوقِ انسانی

پاکستانی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے بیجگ کے اویغور کے ساتھ بدسلوکی پر تنقید

پاکستان فارورڈ

image

31 مئی 2019 کو لی گئی اس تصویر میں ایک احاطے کی بیرونی دیوار دکھائی گئی ہے، جس میں ایک تعلیمی کیمپ شامل ہے جہاں مسلمان چین کے شمال مغربی خطے ژنجیانگ میں زیرِ حراست ہیں۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

اسلام آباد – پاکستانی مذہبی رہنما اور میڈیا چینی حکومت کی جانب سے ژنجیانگ کے مغربی خودمختار خطے میں ایغور کے ساتھ وحشیانہ برتاؤ اور ان پر دباؤ کے خلاف تنقید میں اضافہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں سے بیجنگ کو مسلمان اقلیتوں کے ساتھ "ہولناک اور منظم بدسلوکی" پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

چین نے دس لاکھ سے زائد ایغور اور قازق اور قرغیز النسل مسلمانوں کو دماغ شوئی کے کیمپوں میں ڈال رکھا ہے۔

جلاوطن ایغور کے ایک گروہ نے الزام لگایا کہ بدسلوکیوں میں زبردستی خواتین کا سکوتِ حمل شامل ہے۔

image

یہ تصویر 13 ستمبر 2019 کو لی گئی، جس میں ایک پارک دکھایا گیا ہے جہاں ژنجیانگ کے خطے کوچے میں ایک اویغور مدرسہ ہوا کرتا تھا۔ چین ان قبرستانوں کو تباہ کر رہا ہے جہاں ایغور خاندانوں کی نسلوں کی آرام گاہیں ہیں اور انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے گنبد باقی چھوڑے جا رہے ہیں، یہ سب اس کوشش کا حصہ ہے جسے فعالیت پسند ژنجنیانگ میں اس نسلی گروہ کی شناخت کی بیخ کنی کی ایک کوشش کہہ رہے ہیں۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

اپنی طرف سے بیجنگ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شمالی سرحد کے قریب واقع ژنجیانگ کے خطے میں موجود تنصیبات ملازمتوں کی تربیت کے مراکز ہیں جن کا مقصد شہریوں کو دہشتگردی سے دور کرنا ہے۔

لیکن کافی شواہد ہیں کہ چین بدسلوکی کی ایک منظم مہم چلا رہا ہے، اور اس نسلی گروہ کی شناخت اور ثقافت کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے مندارِن بولنے والی ہان اکثریت میں مخلوط کرنا چاہتا ہے۔

7 جولائی کو جلاوطن ایغور نے اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے ایک ہیگ اساسی عدالت میں بڑی تعداد میں شواہد پر مبنی دستاویزات جمع کراتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر زور دیا کہ وہ انسانیت سوز جرائم اور نسل کشی پر حکومتِ چین کی تحقیقات کرے۔

علمائے دین بول پڑے

پاکستانی علمائے دین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، ژنجیانگ میں ایغور اور دیگر مسلمان اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر خطباتِ جمعہ میں باقاعدگی سے حکومتِ چین پر سب و شتم کیا جاتا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین مولانا عبدالباقی نے کہا، "ہر نماز میں پاکستانی علمائے اسلام حکومتِ چین کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف بربریت کی مذمت کرتے ہیں۔"

انہوں نے حکومتِ پاکستان اور مذہبی جماعتوں پر اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف چینی حکومت کا جبر روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے بڑے احتجاج شروع کرنے کے لیے زور دیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک محقق، فرید احمد، جو پاکستان میں اسلامی رسالوں کے مواد پر تحقیق کرتے ہیں، نے حال ہی میں درجنوں مذہبی رسالوں کا تجزیہ کیا اور معلوم کیا کہ ژنجیانگ میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی نے پاکستان میں مذہبی رائے کو متاثر کیا ہے۔

احمد نے کہا، "عالمی طور پر مسلمانوں کو دبانے کے تناظر میں ژنجیانگ پر بحث مذہبی رسالوں میں ایک عمومی نمونہ رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں متعدد مذہبی رسالوں نے ایغور مسلمانوں کے خلاف حکومتِ چین کی پالیسیوں کے حوالہ سے حال ہی میں متعدد تنقیدی مکالے لکھے ہیں۔

چند مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے، احمد نے کہا کہ عالمِ دین جاوید احمد غامدی نے ایک اسلامی رسالے اشراق کے جنوری کے شمارہ میں شہریت اور ہجرت کے حقوق پر بحث کرتے ہوئے "چین میں مسلمانوں کی دماغ شوئی" کی مثال دی۔

احمد نے کہا کہ پاکستان کے ایک ماہنامہ مذہبی رسالے، البرہان نے لگاتار تین شماروں میں خبر دی کہ ژنجیانگ ایک "پولیس ریاست" کے طور پر کام کر رہا ہے، جہاں "ہر گھر، گلی اور علاقہ ایک حراستی مرکز" اور "ہر ایغور ایک ملزم اور دہشتگرد قیاس کیا جاتا ہے۔"

پاکستان میں بڑھتا ہوا چینی رسوخ

چین نے پاکستان کے ساتھ متعدد کثیر ملین ڈالر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے معاہدے کر لیے ہیں، جن میںگوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیرشامل ہے۔

قانون سازون اور مشاہدین کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں – چینی کمپنیوں کی جانب سے مقامی افراد پر اثر کیپروا کیے بغیر مقامی وسائل کے استحصالکے ساتھ— چینی رسوخ میں توضیحی اضافہ صوبے میں شدید اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔

بلوچستان کے علاقہ سینڈک میں چینی کمپنیوں نے مقامی، قومی یا بین الاقوامی نگرانی کے بغیر تانبے اور سونے کے ذخائر نکالے ہیں۔

مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس، چینی کمپنیاں ضلع چاغی میں تعلیم، صحت، یا بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری نہیں کر رہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500