https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/14/feature-01
صحت

روسی ویکسین کووڈ-19 سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے: سائنسدانوں کی تنبیہ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

حفاظتی آلات پہنے ایک اہلکار 20 مئی کو سٹریلنا میں ایک روسی بائیوٹیک کمپنی کی راہداری سے گزرتے ہوئے جو کورونا وائرس کی ویکسین تیار کر رہی ہے۔ [اولگا مالٹسیوا/اے ایف پی]

ماسکو -- دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے صحت کے سائنسدانوں اور طبی تجزیہ کاروں نے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ان دعووں کے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ روس نے کوروناوائرس کی پہلی ویکسین تیار کر لی ہے، جس کے متعلق بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ، غیر جانچ کردہ دوا درحقیقت کووڈ-19 سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

منگل (11 اگست) کے روز پیوٹن نے کہا تھا کہ ویکسین محفوظ ہے اور اس کی ایک بیٹی کو ٹیکہ لگایا گیا تھا، جس کا نام 1950 کی دہائی کے سوویت سیٹلائیٹ کے نام پر "سپتنک 5" رکھا گیا ہے۔

ماہرین، بشمول عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، نے کہا کہ انہیں تشویش ہے روس کی تحقیق کے متعلق کافی زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

مبینہ ویکسین کے متعلق چند معلوم چیزوں میں سے ایک یہ تھی کہ اسے روسی فوج سے تعلق رکھنے والے چند درجن "رضاکاروں" پر آزمایا گیا تھا۔

image

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 11 اگست کو دعویٰ کیا تھا کہ روسی محکمۂ صحت کے اہلکاروں نے کامیابی کے ساتھ ایک محفوظ ویکسین تیار کر لی ہے۔ [کریملن]

امپیریل کالج لندن کے ایک ماہرِ مامونیات ڈینی آلٹمین نے کہا، "کوئی بھی ویکسین جو زیادہ محفوظ اور مؤثر نہیں ہے اس کے اجراء سے ہونے والا ثانوی نقصان ہمارے موجودہ مسائل میں ناقابلِ تسخیر طور پر شدت پیدا کر سکتا ہے۔"

جرمن وزارتِ صحت کی ایک ترجمان نے کہا، "مریض کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ روسی ویکسین کے معیار، اثر اور حفاظت کے متعلق کوئی اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔"

سرکاری ادارہ گامالیا، جس نے ویکسین تیار کی ہے، اس وقت تنقید کی زد میں آیا تھا جب اس کے محققین اور ڈائریکٹر نے کئی ماہ پہلے ابتدائی شکل کی ویکسین خود کو لگا لی تھی، جس پر ماہرین نے تنقید کی تھی کہ یہ انسانی آزمائشیں شروع کرنے کا ایک غیر روایتی اور عجلت والا طریقہ ہے۔

ماضی میں مبصرین ان تشویشوں کا اظہار کر چکے ہیں کہ روسی محققین نے عجلت کا مظاہرہ کیا اور حکام کی جانب سے نتائج دکھانے کے دباؤ میں آ گئے۔

عفونتی امراض کے ایک امریکی محقق انتھونی فاؤسی نے کہا، "جانچنے سے پہلے ہی تقسیم کاری کے لیے تیار ویکسین بنانے کے دعوے، میرے خیال میں، ایک بڑا خطرہ ہیں۔"

بدھ (12 اگست) کو ایک کانفرنس کال کے دوران امریکی وزیر برائے صحت و انسانی خدمات ایلیکس ازار نے کہا، "یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ہم محفوظ اور مؤثر ویکسینز فراہم کریں اور اعدادوشمار شفاف ہوں۔۔۔ یہ اول آنے کی دوڑ نہیں ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "روس میں ابتدائی آزمائشوں سے حاصل شدہ کوائف کا انکشاف نہیں کیا گیا؛ یہ شفاف نہیں ہے۔"

قازقستان کے ایک ہسپتال میں کووڈ-19 کی ماہر ایک ڈاکٹر، اصیل سالیئیفا نے کہا، "مجھے روسی حکام کے ان اعلانات پر بہت کم یقین ہے کہ ان کے پاس استعمال کے لیے تیار ویکسین پہلے سے موجود ہے۔"

سالیئیفا نے کہا، "جانچ کے عمل کے دوران، ایک ویکسین شروع میں محفوظ لگ سکتی ہے، مگر نتائج بہت بعد میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ آپ کروڑوں لوگوں کی صحت داؤ پر نہیں لگا سکتے، حتیٰ کہ جب خطرہ حق بجانب بھی لگتا ہو۔"

کرغیزستان میں امریکن یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیاء کے ایک مالیکیولر جینیات کے ایک ماہر بولوت کلمیرزائیف نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا، "روسی ویکسین بنانے والوں کو خود بھی معلوم نہیں ہے کہ ویکسین کتنی دیر کام کرے گی کیونکہ انہوں نے کوئی بھی طویل مدتی، بڑے پیمانے پر کلینیکل مطالعات نہیں کروائے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ مزید جانچ کے بغیر، مستقبل میں بہت سے "سرپرائز" ہوں گے۔

اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان کے کووڈ-19 سیل کے ایک رکن، ڈاکٹر جاوید چیمہ نے کہا، "روسی ویکسین انتخاب نہیں ہو سکتی حتیٰ کہ اگر یہ پہلے بھی مارکیٹ میں لے آئی جاتی کیونکہ اس کے محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔"

اسلام آباد میں قومی ادارہ برائے صحت کے ایک ویکسینیشن سپیشلسٹ، محمد رفیق نے کہا، "ہمیں ڈر ہے کہ اگر مناسب آزمائشوں کے بغیر ہی ویکسینیشن شروع کر دی گئی، تو اس سے فائدے کی بجائے لوگوں کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔"

اول آنے کی تحریک

بہت سی وجوہات ہیں جن کی بناء پر کریملن اول آنے کی ایک کوشش میں ایک خطرناک یا غیر مؤثر "ویکسین" کے لیے کیوں زور لگائے گا۔

وہ مقبولیت جو پیوٹن کو روسیوں میں حاصل رہی ہے وہ دو برس قبل نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے، کیونکہ انہیں اس سیاسی طبقے کی جانب سے مخالفت اور بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کا سامنا ہے جو کبھی ان کا وفادار ہوا کرتا تھا۔

ان کی مقبولیت میں اس وقت کمی واقع ہوئی تھی جب سنہ 2018 میں کریملن نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر کے اور پھر سنہ 2019 میں حزبِ اختلاف کے کئی امیدواروں کو ماسکو سٹی کونسل کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک کر بہت سے روسیوں کی خواہ مخواہ مخالفت مول لے لی تھی۔

ماسکو میں اور ملک کے دیگر حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں ایک معمول رہی ہیں، اور مشرقی روسی صوبوں میں اس وقت اتنے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔

روسی شہری آمدن میں کمی اور سکڑتی ہوئی معیشت کے پانچ متواتر برسوں پر بھی پریشان ہیں۔ محض منگل (11 اگست) کے روز ہی، روس کے سرکاری ادارۂ شماریات نے کہا کہ ملکی معیشت دوسری سہ ماہی میں 8.5 فیصد سکڑ گئی ہے۔

اس بارے میں، مبصرین کا کہنا ہے کہ بہت مطلوب ویکسین کی موجودگی کے دعوے کرنا پیوٹن کی تازہ ترین سیاسی شعبدہ بازی ہے.

پیوٹن کی زیرِ قیادت روسی حکومت کا غیر جانچ شدہ ویکسین سے بہت زیادہ منافع کمانا بھی متوقع ہے۔

کیریل دمتریئیف، جو رشیئن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (ریڈف) کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ صنعتی پیمانے پر تیاری ستمبر سے متوقع ہے اور یہ کہ 20 ممالک نے ویکسین کی "ایک بلین ڈوزوں کے لیے ابتدائی درخواستیں" دے دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ، روس پانچ ممالک میں ویکسین کی سالانہ 500 ملین ڈوزز تیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

مغربی ممالک کے صحت کے نظاموں پر حملے

پیوٹن کے دعوے اس وقت سامنے آئے ہیں جب بمشکل ایک ماہ پہلے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا نے الزام عائد کیا تھا کہ روسی خفیہ ادارے کے ساتھ تعلق رکھنے والا ایک ہیکنگ گروہ دنیا بھر کے تحقیقی اداروں سے کووڈ-19 کی ویکسین کی تیاری کی معلومات چرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومنک راب نے کہا کہ انہیں ان الزامات پر "پورا یقین" ہے، انہوں نے اس طرزِعمل کو "اشتعال انگیز اور قابلِ ملامت" قرار دیا۔

چینی حکومت بھی کووڈ-19 کی ویکسین پر تحقیق کو چرانے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑی جا چکی ہے ، جس پر امریکہ نے جولائی میں چین کو سائبر کریمینلز کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ قرار دیا تھا۔

مہینوں سے، روسی حکومت فعال طور پر نئے کورونا وائرس کی وباء کے متعلق غلط معلومات پھیلاتی رہی ہے، جس کا نتیجہ ایک تحقیق میں یہ نکلا ہے کہ یہ پیوٹن کی مغربی صحت کے نظاموں اور امریکی سائنسدانوں کی ساکھ ختم کرنے کی طویل مدتی مہم کا حصہ ہے.

مارچ میں یورپی یونین کی ایک تحقیق کے مطابق، مہلک وائرس کے متعلق روس کی غلط معلومات پھیلانے کی مہم دنیا بھر میں جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اس کا مقصد صحت کے نظاموں پر اعتماد کو ختم کرنے کے ذریعے مغرب میں بحران کو بدترین بنانا ہے۔

[الماتے سے کانات التائنبائیف اور پشاور سے اشفاق یوسفزئی نے اس رپورٹ میں حصہ لیا]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)