https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/10/feature-03
دہشتگردی

بلوچستان میں جماعت الاحرار کے دھماکے میں 6 افراد جاںبحق، مقامی بے چینی نمایاں

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

10 اگست کو چمن، صوبہ بلوچستان میں بم حملے کی جائے وقوعہ پر پولیس اہلکار پہرے پر کھڑے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ ایک موٹرسائیکل پر نصب دیسی ساختہ بم چھ افراد کی ہلاکت کا باعث بنا۔ [اصغر اچکزئی/اے ایف پی]

کوئٹہ – پولیس نے کہا کہ ایک موٹرسائیکل پر نصب ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ (IED) سے پیر (10 اگست) کو شورش زدہ بلوچستان میں چھ افراد جاںبحق ہو گئے۔

سینیئر پولیس عہدیدار عبدالرزّاق چیمہ نے کہا کہ چمن شہر میں ملک کی انسدادِ منشیات فورس کے عملہ کو لے کر جانے والی ایک گاڑی دھماکے کی ہدف مانی جاتی ہے۔

انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "دھماکے میں چھ راہ گیر جاںبحق ہوئے اور 10 دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔"

مقامی پولیس اہلکار مسعود خان نے حملے اور ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

image

10 اگست کو بلوچستان میں بم دھماکے کی جائے وقوعہ پر ایک پولیس اہلکار کھڑا ہے۔ [بشکریہ عبدالغنی کاکڑ]

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑےجماعت الاحرار نے یہ کہتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی کہ وہ انٹیلی جنس افسران کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے ایک بیان میں کہا، "ایسے حملوں کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا ہے۔"

احساسِ محرومی

افغانستان اور ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد کا حامل، معدنیات سے مالامال بلوچستان پاکستان کے چاروں صوبوں میں سے سب سے بڑا ہے، لیکن اس کے تقریباً ستر لاکھ باشندوں کی طویل عرصہ سے یہ شکایت ہے کہ انہیں ان کی گیس اور معدنیات کی دولت میں سے مناسب حصّہ نہیں ملتا۔

چین اپنے انتہائی مغربی خطے ژن جیانگ اور بلوچستان میںگوادر بندرگاہکے درمیان بنیادی ڈھانچے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے روابط کی تجدید کے منصوبوں پر اس علاقہ میں 54 بلین ڈالر (9.1 ٹرلین روپے) کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

قانون سازوں اور مشاہدین کا کہنا ہے کہ – مقامی آبادی پر اثرات کی فکر یا پرواہ کیے بغیر مقامی وسائل کا استحصال کرنے والی چینی کمپنیوں کے ذریعے –بلوچستان میں چینی رسوخمیں روز افزوں بڑھوتری صوبے میں شدید بدامنی پیدا کر رہی ہے۔

ہزاروں نیم فوجی دستے سیکیورٹی چیکس کرنے اور پاکستان کے بدامنی والے حصّوں میں امنِ عامہ برقرار رکھنے میں پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔

[کوئٹہ سے عبدالغنی کاکڑ نے اس رپورٹ میں کردار ادا کیا]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)