https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/07/30/feature-01
تعلیم

پنجاب حکومت وظائف پانے والے طلباء میں فنڈزتقسیم کرے گی

حنیف اللہ

image

گورنمنٹ ڈگری کالج باجوڑ کا ایک طالبِ علم 19 سالہ رفیع اللہ جسے پیف وظیفہ ملا ہے، 28 جولائی کو اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا ہے۔ [حنیف اللہ]

خار، باجوڑ ڈسٹرکٹ -- پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (پیف) اس ہفتے ایسے قبائلی طلباء کے کالجوں میں فنڈز تقسیم کرے گا جنہیں وظائف ملے ہیں۔

پنجاب حکومت نے پیف کا آغاز دسمبر 2019 میں کیا تھا تاکہ ایسے طلباء کی مدد کی جا سکے جو دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں یا معذور،غریب اور یتیم ہیں۔ یہ وظائف اقلیتی طلباء کو بھی میسر ہیں۔

حکام نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی نے جولائی کے آغاز میں اپنے حتمی فیصلے کر لیے تھے مگر کرونا وائرس کی عالمی وباء کے باعث فنڈز کی تقسیم کے کام میں تاخیر ہو گئی۔

پیف نے 65 وظائف دے ہیں جن میں 30 انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت)، 20 بیچلر کی سطح کے طلباء کے لیے اور 15 ماسٹرز کی سطح کے طلباء کے لیے ہیں۔

image

گورنمنٹ کالج آف مینیجمنٹ سائنسز باجوڑ کے پرنسپل پروفیسر بخت منیر (دائیں) دسمبر 2017 کو ایک تقریب کے دوران طلباء میں وظائف تقسیم کر رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

خیبر پختونخواہ میں پیف کے فوکل پرسن مسعود خان کے مطابق، وظائف ایسے طلباء کو دیے گئے ہیں جنہوں نے اپنے میٹرک (10ویں جماعت)، ایف ایس سی (12ویں جماعت) یا بیچلر کے امتحانات میں 60 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں اور ان کی کل خاندانی آمدن 23,000 ہزار روپے (138 ڈالر) ماہانہ سے کم ہے۔

ان وظائف کی رقم 7,000 روپے (42 ڈالر) سے 15,000 روپے (90 ڈالر) سالانہ تک ہے اور اس کا انحصار طلباء کی ضروریات پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد جو دہشت گردی میں ہلاک ہو گئے ہیں، کے بچوں کو آمدن کی شرط سے آزاد کر دیا گیا ہے۔

قبائلی طلباء کے لیے امداد

گورنمنٹ ڈگری کالج باجوڑ کے ایک طالبِ علم، رفیع اللہ جن کی عمر 19 سال ہے نے کہا کہ "پیف وظائف میرے لیے نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے راستہ ہموار کریں گے بلکہ میرے میں ہمت پیدا کریں گے کہ میںزیادہ جوش اور جذبے سے پڑھوں"۔

انہوں نے کہا کہ "پیف وظائف میرے جیسے غریب طلباء کے لیے بہت بڑی مالی امداد ہیں"۔

رفیع نے کہا کہ "میں بہت خوش ہوں کہ میرے داخلے کی فیس واپس کر دی جائے گی کیونکہ میرا تعلق بہت ہی غریب خاندان سے ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں ایسے موقع کی تلاش میں تھا اور اس وظیفے سے میری ساری مالی مشکلات حل ہو جائیں گی جن کا مجھے تعلیم حاصل کرنے میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے"۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج باجوڑ خار کے ایک طالبِ علم موسی خان نے کہا کہ "یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک اچھی خبر ہے کہ مجھے پیف وظیفے کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے اور یہ تعلیمی اخراجات کے سلسلے میں میرے خاندان کے لیے مدد کا باعث بنے گا"۔

انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ ڈسٹرکٹس کے طلباء کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دوسری تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ قبائلی طلباء کی مدد کریں جو ماضی میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے باعث تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس سے طلباء کی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں حوصلہ افزائی ہو گی۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے قبائلی یوتھ فورم کے چیرمین ریحان زیب نے کہا کہ "ان وظائف سے قبائلی ڈسٹرکٹس کے باصلاحیت طلباء کی حوصلہ افزائی ہو گی خصوصی طور پر ان کی، جن کے والدین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی ڈسٹرکٹس سے تعلق رکھنے والے طلباء کی مالی ضروریات سب سے زیادہ ہیں اور غریب طلباء کو مزید توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ عسکریت پسندی نے قبائلی ڈسٹرکٹس کے تعلیمی نظام کو بہت برے طریقے سے متاثر کیا ہے۔

ریحان نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ اقلیتی طلباء کی مدد کرنا انڈومنٹ فنڈ کا ایک اور مثبت قدم ہے کہا کہ "اس وظیفے کے لیے مقرر کیا جانے والا معیار قبائلی اضلاع کے حقیقی طلباء کی مدد کرے گا کیونکہ ماضی میں دوسرے اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء نے قبائلی ڈسٹرکٹس کے جعلی ڈومیسائل بنوا کر مختلف قسم کے وظائف حاصل کر لیے تھے"۔

کیا آپ پاکستان کے مستقبل سے متعلق پرامید ہیں؟
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

اس وظیفہ پروگرام کے لیے نیا طالبِ علم۔ درخواست کا طریقِ کار کیا ہے؟

جواب