https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/07/29/feature-01
حقوقِ انسانی

کے پی کی 'سفیر' پہل کاری سے قبائلی علاقہ جات میں مقامی حکومت کی حوصلہ افزائی

از ظاہر شاہ شیرازی

image

مقامی حکومت کے سفیر مارچ میں ضلع کرم میں قبائلی عمائدین کے ساتھ مقامی حکومت کے نظام کے فوائد پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے۔ [کے پی مقامی حکومت]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا (کے پی) میں ایک نیا پروگرام عسکریت پسندی سے متاثرہ قبائلی علاقہ جات میں مقامی حکومت اور قانون کی حکمرانی کا شعور بیدار کرنے میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔

"سفیرِ بلدیات" پہل کاری، جس کا آغاز جنوری میں ہوا تھا، کا مقصد سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے کے پی کے ساتھ انضمام کے جزو کے طور پر مقامی حکومتوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

یہ علاقے میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی آفت کو ختم کرنے میں قبائلی عمائدین کی مدد کرنا چاہتا ہے، جو ایک نموپذیر حکومت اور ایک انتظامی نظام کی عدم موجودگی میں پھیل گئی تھی۔

وزیرِ اعلیٰ کے پی کے معاونِ خصوصی برائے مقامی حکومت، کامران خان بنگش کے مطابق ضم شدہ علاقہ جات میں مقامی حکومت کے نظام کا قیام فاٹا کے انضمامی منصوبے کی کلیدی پہل کاریوں میں سے ایک ہے۔

image

مقامی اور غیر ملکی وفود 9 جنوری کو پشاور میں مقامی حکومت کے سفیر پروگرام کی افتتاحی تقریب میں شریک ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

image

مارچ کے مہینے میں عمائدین اور اساتذہ برادری پارا چنار، ضلع کرم میں ایک آگاہی کی نشست میں شریک ہیں۔ رضاکاروں نے شرکاء کو مسائل حل کرنے میں مقامی حکومتی اداروں کے کردار کے متعلق بتایا۔ [کے پی مقامی حکومت]

ان کا کہنا تھا کہ پروگرام خطے میں عوام کی مقامی حکومت میں شرکت کے ذریعے جمہوری عمل اور انضمام کو مضبوط کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "مقامی حکومت کے سفیر" جو ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 120 باشندوں، بیشتر نوجوانوں، پر مشتمل ہیں یہ کوشش انجام دے رہے ہیں۔ ان سبھی کو مہم کے اہداف کی فراہمی کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفیر، جن میں 30 خواتین بھی شامل ہیں، ضم شدہ علاقہ جات کی سبھی 720 دیہاتی مضافات کی کونسلوں میں جوڑوں کی صورت میں کام کریں گے اور تقریباً 72،000 باشندوں، جن کا 25 فیصد خواتین ہوں گی، کو ہدف بناتے ہوئے علاقائی نشستوں کا اہتمام کریں گے۔

بنگش نے کہا کہ مقامی انتخابات جو اگست 2019 کو ہونے تھے انہیں اب اگست 2021 کے لیے دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے، جس سے سفیروں کو وقت مل جائے گا کہ وہ عوام کو قانون کی حکمرانی اور مقامی حکومت کی ضرورت کے متعلق موزوں طور پر تعلیم دیں تاکہ نچلی سطح پر جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جائے۔

جنوری میں منصوبے کے افتتاح کے موقعے پر فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق، پروگرام کے جزو کے طور پر، مقامی حکومت کے سفیر علاقائی نشستیں تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کے ساتھ اور اساتذہ کے ساتھ منعقد کر رہے ہیں، نیز گھروں میں جا کر خواتین کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

مردوں کے لیے نشستیں جرگہ ہالوں میں ہوتی ہیں، جبکہ دینی قائدین کے ساتھ ملاقاتیں مساجد میں ہوتی ہیں۔

منصوبے کے رابطہ کار، شاہ حسین نے 10 جولائی کو کہا، "سفیر پُرامید ہیں اور پروگرام کے آغاز سے ہی مؤثر طور پر عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔"

حسین کے مطابق، سفیرِ بلدیات کے رضاکاروں نے پورے علاقے، بشمول ضلع کرم کی برف پوش چوٹیوں، کا سفر کیا ہے، اور اورکزئی اور تیراہ وادیوں کے پتھریلے راستوں کو ناپا ہے۔

حسین کا کہنا تھا فوجی آپریشنوں نے قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے کے لیے سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے جبکہ، سفارتکار پروگرام امن کو پروان چڑھانے، حکومت میں مقامی افراد کی شرکت میں اضافہ کرنے اور یہ وضاحت کرنے کے لیے شعور بیدار کرنے میں حصہ ڈال رہا ہے کہ عسکریت پسندوں کی عدم موجودگی میں قانون کی حکمرانی کو کیسے کام کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا، "ہم کثیر شاخہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔ آئمہ مساجد اور دینی قائدین امن کے دین کے طور پر اسلام کے صحیح تشخص کو فروغ دینے میں مدد کرنے میں مشغول ہیں، اور ردِعمل بہت ہی بہترین ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ آگاہی کی نشستیں علاقائی ہالوں، سکولوں اور عوامی مقامات پر منعقد ہوتی ہیں اور گھر گھر جا کر ملاقات کرنے کے ذریعے بھی ہوتی ہیں۔ دوسری جانب، خواتین سفیر گھروں کے اندر خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔

حسین کا کہنا تھا کہ حکومتی امور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ، رابطہ ٹیم گھر گھر جانے کی مہمات کے ذریعے علاقے میں کووڈ-19 سے آگاہی میں اضافہ کر رہی ہے -- ساتھ ہی ساتھ اس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کر رہی ہے۔

تشویشوں کو ختم کرنا

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی، عزت گل آفریدی نے کہا، "قبائلی عوام پروگرام سے بہت خوش ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم مقامی انتخابی عمل میں شہریوں کی شرکت میں اضافہ کرے گی اور ضم شدہ اضلاع کے باشندوں میں ذمہ دارانہ شہریت کو فروغ دے گی۔

آفریدی نے کہا کہ خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے خواتین سفیروں کی جانب سے کی گئی کوششوں کا جمہوری عمل پر بحیثیتِ مجموعی دیرپا اثر مرتب ہو گا کیونکہ وہ "ذمہ داری کا احساس پیدا کریں گی اور ووٹ ڈالنے کی اہمیت پر زور دیں گی۔"

حکمرانی اور ترقی کے متعلق ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے مقامی حکومت کے ایک سفیر، عامر خان نے کہا، "میں پُرامید ہوں۔ پروگرام ان باشندوں تک پہنچ رہا ہے جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہے ہیں، اور ہم ان کی اپنے جائز حقوق کو سمجھنے میں مدد کریں گے اور آگاہی پیدا کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کا مقصد قبائلی علاقہ جات کے نوجوانوں کو مقامی حکومت کے نظام، انضمام اور ان کے علاقوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔

ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک سفیر، عبداللہ خان نے کہا، "قبائل میں فاٹا کے مستحکم علاقوں کے ساتھ انضمام کے متعلق بہت سے مغالطے اور غلط فہمیاں ہیں، اور اس سفیر پروگرام نے ان کی تشویشوں کو ختم کرنے میں مؤثر طریقے سے مدد کی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ان کے ساتھ ہمارے میل جول کے بعد، وہ حکومتی پہل کاری کے متعلق بہت واضح ہو گئے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "میں باڑہ اور اکاخیل کے علاقوں میں کام کرتا ہوں، اور جب کووڈ-19 کے لاک ڈاؤن نے ہماری تحریک کو سست کر دیا ہے، مجھے توقع ہے کہ آگے چل کر ہمیں بہت کامیابی ہو گی۔"

خان نے کہا، "بزرگ اور نوجوان دونوں قبائلی ارکان جب مقامی حکومت کے نظام اور اس سے جو ترقی ہو گی اس کے متعلق جانتے ہیں تو بہت متاثر ہوتے ہیں۔ وہ نئے نظام کو ایک گیم چینجر کے طور پر دیکھتے ہیں جو خوشحالی لائے گی اور حکومتی اختیار کو مزید مستحکم کرے گی۔"

کے پی اسمبلی کے رکن اور سابقہ صوبائی وزیر برائے مقامی حکومت، شہرام ترکئی نے کہا، "آگاہی مہم قبائلی علاقی جات میں حکمرانی میں حقیقی تبدیلی لانے میں بہت آگے تک جائے گی۔"

"قبائلی علاقہ جات میں سیاسی تبدیلی کی بصیرت قبائلی علاقہ جات میں حقیقی تبدیلی لائے گی۔"

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

pakistan Naheli ki waja se Doob raha he koi bi mibar apni zimedari puri nhi kar rha

جواب