دہشتگردی

دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی انسداد کے لیے دورانِ عید کھالیں جمع کرنے پر حکام کی نگرانی

اشفاق یوسفزئی

image

25 جولائی کو ایک شخص پشاور کی ایک مویشی منڈی میں عیدالاضحی پر ذبح کرنے کے لیے ایک اونٹ کی عمر کا تعین کرنے کے لیے اس کے دانت دیکھ رہا ہے۔ [شہباز بٹ]

پشاور – پاکستانی حکام عید الاضحیٰ کے دوران جانوروں کی کھالیں جمع کرنے پر نگرانی کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ عطیات دہشتگرد گروہوں کے ہاتھوں میں نہ جائیں۔

پاکستان میں عیدالاضحیٰ کا آغاز یکم اگست سے طے ہے۔ پاکستانی قربانی کے جانوروں کی کھالیں عطیہ کرتے ہیں، جو چمڑے کی صنعت کے کام آنے والی منڈیوں میں 5 بلین روپے (31 ملین ڈالر) سے زائد رقم لا سکتی ہیں۔

20 جولائی کو خیبر پختونخوا (کے پی) کے محکمہٴ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حکم نامہ کے مطابق، القاعدہ اور طالبان پر پابندی لگانے والی اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کاؤنسل کی قرارداد 1267 اور 1997 کے قانونِ انسدادِ دہشتگردی کے تحت پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی دہشتگرد تنظیمیں کھالیں جمع نہیں کر سکتیں۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر محمّد علی اصغر نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے تمام صوبوں کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں کہ خیراتی اداروں کے بھیس میں دہشتگرد تنظیمیں جانوروں کی کھالیں وصول کر کے ان مالیات کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔

image

21 جولائی کو پشاور میں جانوروں کی ایک منڈی کا منظر۔ باشندے آنے والی عید الاضحیٰ کے لیے جانوروں کی خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ [اشفاق یوسفزئی]

image

خیبر پختونخوا حکومت نے عید الاضحیٰ کے دوران کھالیں جمع کرنے کے رہنما خطوط جاری کر دیے۔ 22 جولائی کو ایک مقامی اخبار میں ایک نوٹس شائع کیا گیا۔ [اشفاق یوسفزئی]

اصغر نے کہا، "ہم نے عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے کی خواہشمند خیراتی تنظیموں کو کہا ہے کہ وہ حکومت کو درخواستیں دیں جن میں درج ہو کہ ان کا کالعدم گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔"

انہوں نے کہا، "خیراتی اداروں سے حلفی بیان لینے کے بعد ہم قانونی گروہوں کو جانچ کر انہیں اجازت دیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ یہ جرائم پیشہ گروہ پیسہ وصول یا دہشتگردی کو مالیات فراہم نہ کر سکیں۔"

کے پی کےوزیر اعلی کا معاون خصوصی کامران خان بنگش نے کہا کہ حکومت پاکستانفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیےاس کی جانب سے عائد کی گئی شرائط پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پیرس سے تعلق رکھنے والی اس بین الحکومتی تنظیم نے جون 2018 میں پاکستان کو غیرقانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف کاروائی کرنے میں ناکام ہونے پر گرے لسٹ میں ڈالا تھا۔

ایف اے ٹی ایف نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے اسلام آباد کو دی جانے والی ستمبر کی حتمی تاریخ میں توسیع کی تھی۔

بنگش نے کہا کہ حکام کالعدم تنظیموں کی "سختی سے نگرانی" کریں گے۔

بنگش کے مطابق، حکومتی ہدایات میں خیراتی گروہوں کی جانب سے لاؤڈسپیکرز کے استعمال پر پابندی ہو گی اور ضلعی انتظامیہ اصلی گروہوں کے لیے عید کے دوران کھالیں وصول کرنے کے مقامات کا تعین کرے گی۔

انہوں نے کہا، "ہم نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ الحاق سے کھالیں جمع کرنے میں ملوث گروہوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے منصوبوں کی تفصیل دی۔"

بنگش نے کہا، "پاکستان دہشتگردوں کے ہاتھوں بری طرح متاثر ہوا ہے اور یہ مزید تشدد کا متحمل نہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ رمضان وفاقی حکومت نے کالعدم گروہوں کو مالیات وصول کرنے سے روکنے کے لیے ایسی ہی ہدایات جاری کی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمیں ایسے وقت میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے جب کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے دہشتگرد گروہ روپوش ہیں۔ ہمیں ان کے ذرائع مالیات بند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ واپس نہ آسکیں۔"

انسدادِ دہشتگردی

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین محمّد شعیب نے کہا، "دہشتگرد گروہ یہ دعوے کر کے کھالیں، عطیات، فطرانہ اور زکواة اکٹھی کرتے رہے ہیں کہ وہ ان رقوم کو یتیموں اور غرباء جیسے پسماندگان کی تعلیم اور صحت پر صرف کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "لیکن در حقیقت، وہ اسلحہ اور گولہ بارود خریدتے ہیں اور ایسے خودکش حملہ آور بھرتی کرتے ہیں جو دہشتگردی کے اقدامات کرتے ہیں۔"

شعیب نے کہا، "گزشتہ کئی ماہ میں، ہم نے دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی بلا کے خلاف حکومتی تعاون کی آگاہی مہم دیکھی، جو ایسے گروہوں کو عطیات سے محروم کر رہی ہے جو وہ ماضی میں وصول کرتے تھے۔"

احتساب اور داخلہ پر وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت کا ارتکاز ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کے ساتھ مطابقت سے غیر قانونی ترسیلِ زر کی بیخ کنی پر ہے۔

انہوں نے کہا، "صوبائی حکومتوں کو عسکریت پسند تنظیموں کو فراہمیٴ مالیات روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم دہشتگرد گروہوں یا افراد کو ایسے عطیات لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔"

جامعہ پشاور کے سیاسیات دان شبّیر علی نے کہا کہ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری ماضی میں دہشتگردوں کے لیے بنیادی ذرائع مالیات تھے۔

انہوں نے کہا، "دہشتگردی میں کمی ان کے مالیات کے ذرائع کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ قانون کو مزید سخت کرے، اور عسکریت کا خاتمہ ہو جائے گا۔"

علی نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے اپنے غیر قانونی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کو خوفزدہ کرنے کے ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام کا نام استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ تاہمآپریشن ضربِ عضبکی صورت میں 2014 میں عسکریت پسندی کے خلاف شروع کی گئی مہم دہشتگردوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں دیرپا امن اور ان فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500