https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/26/feature-02
جرم و انصاف

دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات پر سزاؤں نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی کاوشوں کو نمایاں کیا

عبدالناصر خان

image

12 فروری کو سیکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں جبکہ ایک گاڑی جماعت الدعویٰ (جے یو ڈی) کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت سے لے جا رہی ہے۔ [مرتضیٰ سیّد/اے ایف پی]

لاہور – صوبہ پنجاب میں پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں (اے ٹی سیز) نے رواں ماہ 13 افراد کو دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے سلسلہ میں سزائیں سنائیں جن کے بارے میں مشاہدین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پوری کرنا ہے۔

پیرس سے تعلق رکھنے والی اس بین الاحکومتی تنظیم نے جون 2018 میں دہشتگردی کے خلاف فراہمیٴ مالیات اور غیر قانونی ترسیلِ زر کے خلاف اقدامات کرنے میں ناکام ہونے پرپاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں داخل کیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے اسلام آباد کو دی گئی حتمی تاریخ ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔

حال ہی میں مجرم ثابت ہونے والوں کو اپنے جرائم پر ایک تا 16 برس قید کی سزائیں سنائیں گئیں۔

image

بنا تاریخ کے ایک تصویر میں گجرانوالہ، صوبہ پنجاب میں سیکیورٹی اہلکار انسدادِ دہشتگردی کی ایک عدالت کے باہر پہرہ دے رہے ہیں۔ [بشکریہ عبدالناصر خان]

ضلع گوجرانوالہ میں جمعرات (25 جون) کو انسدادِ دہشتگردی کی ایک عدالت نے القاعدہ کے پانچ دہشتگردوں کو دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات اور دھماکہ خیز مواد رکھنے پر 16 برس قید کی سزائیں سنائیں۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی پنجاب رائے طاہر نے ایک انٹرویو میں کہا، "عبداللہ عمیر المعروف ہنزلہ، احمد الرّحمٰن، عاصم اکبر سعید، محمد یعقوب اور محمد یوسف سمیت ان مجرمان کو پنجاب پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے 26 دسمبر 2019 کو گجرانوالہ سے اس وقت گرفتار کیا جب انہوں نے وہاں ایک دہشتگردانہ سرگرمی کرنے کا منصوبہ بنایا۔"

طاہر نے کہا، "تمام مجرمان کو دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات پر پانچ برس، دھماکہ خیز مواد رکھنے پر سات برس، کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے پر تین برس اور اپنے قبضے میں القاعدہ کا مواد رکھنے پر ایک برس قید کی سزائیں سنائی گئیں۔"

’پاکستان کے لیے ایک اچھا قدم‘

انہوں نے مزید کہا، "تمام مجرمان کی ذاتی املاک ضبط کر لی گئیں ہیں۔ ان مجرمان پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔"

قبل ازاں 18 جون کو لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی ایک عدالت نےجماعت الدعویٰ (جے یو ڈی) کے چار قائدینکو دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات پر مجرم قرار دیتے ہوئے ایک تا پانچ برس قید کی سزائیں سنائیں۔

ظفر اقبال اور یحیٰ عزیز کو پانچ پانچ برس، جبکہ عبدالرّحمٰن مکّی اور عبدالسلام کو ایک ایک برس قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

عدالت نے مجرموں کے ایسے اثاثوں کی ضبطگی کا حکم جاری کیا جسے انہوں نے دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے ذریعے بنایا۔

جے یو ڈی کے قائدین کو گرفتار کیا گیا اور ان پر کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے لیے مالیات اکٹھے کرنے کا الزام لگایا گیا۔

طاہر نے کہا، "ظفر اقبال، یحیٰ عزیز اور عبدالسلام یو این [اقوامِ متحدہ] کی جانب سے نامزد دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات میں ملوث افراد بھی ہیں۔"

17 جون کو ایک فیصل آباد اساسی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے جے یو ڈی کے چار دیگر ارکان کو دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات پر مجرم قرار دیا۔ طاہر کے مطابق، محمّد اویس، عظمت اللہ، محمّد افضل اور بنیامن کو ایل ای ٹی کو مالیات فراہم کرنے پر مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ایک برس قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

طاہر نے کہا، "یہ سزائیں پاکستان میں دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی نگرانی کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کریں گی۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے کہا، "میرا خیال ہے کہ یہ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان کے لیے ایک اچھا اقدام ہے۔"

اورکزئی نے کہا، "اب پاکستان خود کو دہشتگردی سے دور رکھنا چاہتا ہے، اور ان اقدامات کا مقصد دہشتگردی کے خاتمہ کی جانب پاکستان کی سنجیدگی سے متعلق دنیا کو ازسرِ نو یقین دہانی کرانا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ماضی کی طرح ابپاکستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

Kashmir bany ga pakistan lashker e taiba zindabad

جواب