https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/15/feature-01
تعلیم

حکام کا چینی و روسی اسکولوں کی مشکوک میڈیکل ڈگریوں پر انتباہ

اشفاق یوسف زئی

image

پاکستان میڈیکل و ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ چین اور روس میں پروگراموں سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والے پاکستان میں پریکٹس نہ کر سکیں۔ [محمد عبدل وہاب/ اے ایف پی]

پشاور -- حکام متنبہ کر رہے ہیں کہ چین اور روس کے میڈیکل اسکول ایسے پاکستانی طلباء کو مشکوک ڈگریاں دے رہے ہیں جو ملک کے اندر داخلہ حاصل نہیں کر سکے ہیں مگر بیرونِ ملک سے ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے بھاری ٹیوشن فیس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) جو کہ ملک میں میڈیکل کی تعلیم کا نگران ادارہ ہے، کے مطابق روس اور چین کے میڈیکل اسکول، اپنی اپنی حکومتوں کی مدد سے، غیر ملکی خصوصی طور پر پاکستانی نژاد طلباء سے ڈھیروں پیسے کماتے ہیں جنہیں آسانی سے ان اسکولوں میں داخلے کے لیے بہکایا جا سکتا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے ایک سینئر اہلکار سردار علی نے کہا کہ ان طلباء کے پاس پاکستان کے میڈیکل اسکولوں میں داخلے کے لیے اہلیت نہیں ہوتی۔

علی نے کہا کہ "جو طلباء چین اور روس سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے متلاشی ہیں وہ پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل نہیں کر پاتے جہاں نہ صرف انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں بہت زیادہ نمبر حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ داخلے کے امتحان میں بھی بہت زیادہ نمبر حاصل کرنے پڑتے ہیں"۔

image

پشاور میں سڑک کے کنارے، 3 جون کو دکھایا جانے والا ایک بورڈ، جس میں چین، روس اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں میڈیکل اسکول میں داخلے کے ممکنہ امیدواروں کو حدف بنایا گیا ہے۔ [اشفاق یوسف زئی]

image

چین کے میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے بھرتی کار، 2 مارچ کو پشاور کے ایک ہوٹل میں طلباء کا انتظار کر رہے ہیں۔ [اشفاق یوسف زئی]

جب ان میڈیکل اسکولوں میں داخلہ ہو جاتا ہے تو بہت سے طلباء کو بعد میں گھروں کو بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایسی بھاری فیسیں ادا نہیں کر سکتے جن کا بھرتی کار اور اسکول دونوں ہی ان کے داخلے کے لیے مطالبہ کرتے ہیں۔

علی نے کہا کہ "ہم والدین اور طلباء کو ان دونوں ملکوں میں تعلیم حاصل کرنے کے خلاف انتباہ جاری کرتے رہے ہیں مگر اس کے باجود کچھ لوگ بھاری رقم خرچ کر کے ان ڈگریوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے میڈیکل اسٹوڈنٹ جو کہ ناکافی تعلیم کے ساتھ "ڈاکٹر" بن کر پاکستان واپس آتے ہیں، اپنے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اپنی ڈگریوں کے مکمل کرنے کے بعد، وہ اپنے ملک میں مریضوں کے لیے مصائب کا باعث بتے ہیں کیونکہ میڈیکل کی تعلیم کا معیار پاکستان کے مقابلے میں بہت کمزور ہے جہاں صرف انتہائی ذہین طلباء ہی ڈاکٹر بنتے ہیں

علی نے کہا کہ اس مسئلے نے پاکستانی حکومت کی توجہ حاصل کر لی ہے جس نے دونوں ملکوں کے سفارت خانوں سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی طلباء کو بہکانا چھوڑ دیں۔

طلباء کا ناجائز فائدہ اٹھانا

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ڈاکٹر تاج محمد نے کہا کہ اگرچہ روس اور چین میں کچھ مشہور یونیورسٹیاں اور کالج صرف میرٹ پر ہی طلباء کو داخلہ دیتے ہیں، مگر زیادہ تر ایسے ہر درخواست دہندہ کو داخل کر لیتی ہیں جو ان کی فیس دینے کے لیے تیار ہو جو کہ اکثر اوقات 1,000 ڈالر سے 2,000 ڈالر (164,550 روپوں سے 329,100 روپے) ماہانہ ہوتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے سرکاری شعبہ کے میڈیکل کالجوں میں طلباء کی ٹیوشن فیس 800 ڈالر (131,640 روپے) سالانہ ہے۔

محمد نے کہا کہ اوسطا 200,000 سے زیادہ طلباء جن کا تعلق 160 ممالک سے ہوتا ہے ہر سال چین سے میڈیکل ڈگری حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "مگر زیادہ تر غیر معیاری کالج اور یونیورسٹیاں اپن آمدنی کے لیے ان اوسط طلباء سے منافع کماتی ہیں اور ایسے طلباء سے لاکھوں ڈالر وصول کرتی ہیں جو ساری دنیا، بشمول پاکستان کے وہاں آتے ہیں"۔

علی نے کہا کہ روس اور چین کی حکومتیں ان غیر معیاری میڈیکل کالجوں کو نظر انداز کر رہی ہیں کیونکہ وہ ان کاروباروں کی طرف سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "دونوں ممالک کے شہروں میں ہوسٹلوں کو ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے جہاں ایسے غیر ملکی طلباء کو رکھا جاتا ہے جو انجینئرنگ، بزنس، اکنامکس اور دندان سازی کی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ امتحانات کا نظام پاکستان کے نظام کی طرح سخت نہیں ہے جہاں طلباء کو پاس ہونے کے لیے انتہائی محنت کرنی پڑتی ہے"۔

محمد رفیق، جنہوں نے چین کے صوبہ شیڈونگ کے علاقے کنگ ڈاؤ کی یونیورسٹی سے بیچلر آف میڈیسن-بیچلر آف سرجری کی ڈگری مکمل کی ہے، نے کہا کہ غیر ملکی طلباء کے لیے داخلے کا عمل پاکستان اور یورپی ممالک کے مقابلے میں کافی آسان تھا۔

انہوں نے کہا کہ "میرے والدین مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اور میں نے ان کی خواہش پوری کی۔ میں نے چھہ سالوں میں تقریبا 70,000 ڈالر (11.4 ملین روپے) خرچ کیے مگر مجھے ڈگری مل گئی"۔

رفیق نے کہا کہ "ہائی میرٹ درکار ہونے کے باعث مجھے پاکستان کے سرکاری شعبے کے میڈیکل اسکول تو ایک طرف کسی نجی کالج میں بھی داخلہ نہیں مل سکتا تھا۔ میرے کالج میں تقریبا 500 پاکستانی طلباء تھے"۔

کمتر اسکولوں کے فارغ التحصیل طلباء کو روکنا

پی ایم ڈی سی کے ایک اہلکار، چوہدری محمد شکور نے کہا کہ پی ایم ڈی سی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ چین اور روس کے پروگراموں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء پاکستان میں پریکٹس نہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ "جنوری 2020 میں، پی ایم ڈی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ چین اور روس سے ڈگری حاصل کرنے والے طلباء پاکستان میں ملازمت نہیں کر سکتے"۔

ابھی تک اس تجویز پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ شکور نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر اس پالیسی کو نافذ کیا گیا، تو کیا ان ڈاکٹروں کو بھی اپنی پریکٹس بند کرنی پڑے گی جو پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم چین اور روس اور اس کے ساتھ ہی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ان کی یونیورسٹیوں میں کمزور طلباء کو داخلہ دینے کے عمل کو روکا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کا ارادہ ہے کہ ایسے طلباء جو ان دونوں ملکوں میں میڈیکل اسکولوں میں جا رہے ہیں، کے لیے ضروری کیا جائے کہ وہ پاکستانی حکومت سے اجازت لیں تاکہ انہیں ان اسکولوں کے معیار کے بارے میں آگاہی ہو جہاں وہ تعلیم حاصل کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں۔

دریں اثنا، خیبر پختونخواہ ہیلتھ کمشنر (ایچ سی سی) نے کہا کہ وہ مریضوں کو غلط علاج سے بچانے کے لیے کلینکس پر چھاپے مارتی رہی ہے۔

ایچ سی سی کے ڈائریکٹر سہیل احمد نے کہا کہ "ہم نے گزشتہ چند ماہ میں ایک درجن سے زیادہ ایسے ڈاکٹروں کو گرفتار کیا ہے جن کے پاس چین اور روس کی غیر تسلیم شدہ ڈگریاں تھیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ایسے غیر ملکی میڈیکل کالجوں سے ڈگریوں کی اجازت نہیں دیتے ہیں جو میڈیکل اسکولوں کی عالمی ڈائریکٹری میں شامل نہیں ہیں"۔

سہیل نے کہا کہ روس اور چین کے میڈیکل اسکول، پاکستان میں طلباء کو دھوکا دیتے رہے ہیں اور ان سے بھاری رقوم بٹورتے رہے ہیں اور وہ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "وہاں کے تعلیمی اداروں کے پاس عملی تربیت کے لیے نہ تو اچھے ہسپتال ہیں اور نہ ہی امتحانات کا اچھا نظام ہے۔ مرکزی توجہ پیسے کمانے کو حاصل ہے۔ تو یہ دو طرفہ طور پر کام کرتا ہے --کالج پیسے کماتے ہیں اور طلباء میڈیکل کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 11
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

آپ کو کچھ اندازہ نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب لکھنے کے لیے کون آپ کو پیسے دیتا ہے۔ لیکن آپ کی معلومات کے لیے چین اور روس سے تعلیم حاصل کرنے والے پہلی کوشش میں ہی اپنے ایف سی پی ایس پاس کر لیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ پاکستانی فارغ التحصیل کیوں این ایل ای امتحان پر رو رہے تھے، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایکویویلنسی کا امتحان پاس نہیں کر سکتے۔ اور چین میں طلبہ تحقیق بھی کرتے ہیں۔ مہمل مکالہ۔

جواب

یہ ایک فضول بیان ہے کہ ان ممالک سے سند حاصل کرنے والا ہر شخص نا اہل ہے۔ 70,000 سے زائد ایسے طلبہ ہیں جو پاکستان میں سرکاری جامعات کے لیے درخواست دیتے ہیں لیکن محدود نشستوں کی وجہ سے صرف 3500 داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا باقی 66,500 طلبہ ڈاکٹر بننے کے اہل نہیں؟ نہیں یہ نظام کی ناکامی ہے کہ ہم آبادی میں تباہ کن اضافے کے باوجود 70 برس کے عرصہ میں بھی طلبہ کی نشستوں کی تعداد نہیں بڑھا سکے۔ لہٰذا پی ایم ڈی سی کو بیرونِ ملک سے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینی چاہیئے لیکن اس سلسلہ میں اچھی ساکھ کی حامل جامعات کی کوئی فہرست منظور ہونی چاہیئے۔ اتنے سخت مت ہوں۔ ان اہم معاملات پر فیصلہ کرتے وقت غور کیا کریں۔

جواب

لہٰذا پی ایم ڈی سی سوچتا ہے کہ ان غیر ملکی ڈاکٹروں میں سے زیادہ تر کے پاس ناقص علم ہے۔ وہ مہلک ہیں۔ میں حیران ہوں کہ صحت کے شعبہ میں ہر گلی محلے میں 1.5 ملین عطائیوں کو کیسے لائسنس ملتا ہے؟ سڑک کنارے بیٹھنے والے دندان سازوں کے خلاف پی ایم ڈی سی کیا کاروائی کر سکتا ہے؟ اپنے الفاظ پر غور کریں۔ گزشتہ چھ ماہ سے ہم حکومت موافق پاکستان میڈیکل اتھارٹی اور پی ایم ڈی سی کے درمیان لڑائی دیکھ رہے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں کوئی ریگولیٹر نہیں۔ قابلِ رحم میڈیکل اینڈ ڈینٹل اتھارٹی

جواب

صرف چند نکات۔

1۔ کوئی ایک بھی ایسی جامعہ نہیں ہے جس کی درجہ بندی چین کی کم ترین درجہ بندی کی جامعات سے بہتر ہو۔

2 - پاکستان آنے کے بعد ان تمام طلبہ کو پاکستان میں کام کرنے کا اجازت نامہ حاصل کرنے سے قبل 3 مرحلوں کی پڑتال کروانا پڑتی ہے۔

3 - یہ خبر بے کار ہے اور یہ نام نہاد عہدیدار ایسا کہنے کے وقت یقیناً نشے میں ہو گا۔ اگر آپ کے سب سے زیادہ درجہ بندی کے ادارے ابھی بھی چین کے کم ترین درجہ بندی کے اداروں سے کم تر ہیں، تو آپ صرف اپنے خوابوں ہی میں چین سے فارغ التحصیل طلبہ کو ہرا سکتے ہیں۔

ہاں انہیں معیار کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں لیکن کم از کم اپنے رویے میں عملی رہیں۔

جواب

لہٰذا میرا ایک سادہ سوال ہے اگر اس ملک میں طبی تعلیم کا معیار بہت بلند ہے تو صحت کا نظام اس قدر تباہ کن کیوں ہے، پاکستان ہسپتالوں میں اور صحت کی انتہائی نگہداشت میں کم ترین درجہ رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔

جواب

یہ مکالہ پڑھنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ مصنف ایک صاحبِ ادراک شخص نہیں اور اسے چین کی طبی درسگاہوں کے معیار کا علم تک نہیں۔ زیادہ تر پاکستانی طلبہ عالمی درجہ بندی کی جامعات سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ جبکہ کوئی پاکستانی جامعہ تاحال فہرست میں نہیں۔ کیا آپ نے کبھی پاکستانی سنیئر ڈاکٹر یا انجنیئر کے بارے میں سوچا ہے جو چینی جامعہ سے ماسٹر ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہوں اور ہماری حکومت ہمیشہ چینی ہسپتالوں سے مدد مانگتی ہے جن کے بارے میں آپ کا کہنا ہے کہ وہ مستند نہیں۔ بیرونِ ملک سے طب میں فارغ التحصیل شخص کے طور پر میں اس کی مذمت کرتا ہوں اور مصنف کو خود سے شرم آنی چاہیئے۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد ہر طالبِ علم کی سند کی سفارت خانے اور پی ایم ڈی سی سے تصدیق ہوتی ہے اور آر ایم پی کے لیے دنیا کے سخت ترین لائسنس امتحانات میں سے ایک (این ای بی) دے کر اہلیت دی جاتی ہے (3 امتحانات، 1 بنیادی 2 کلینیکل 3 بنیادی اور کلینیکل دونوں کا وائوا)۔ مختصراً میں یہ کہوں گا کہ دیگر معیاری جامعات کی ساکھ کو نقصان پہنچانے یا ان کی جانب انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے معیار کو بڑھائیں۔

جواب

یہ سب خبریں بیرونِ ملک سے طب میں فارغ التحصیل کو دل شکستہ کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ایک اجتماعی اصول پر امتحان رکھا ہے جس کے بعد بیرونِ ملک سے طب میں فارغ التحصیل سرکاری ملازمت کر سکتے ہیں۔ پھر وہ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں۔ چینی جامعات کے پاس ہم سے کہیں بہتر ہسپتالوں کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ چین اور وسط ایشیائی ممالک میں پاکستانی نجی کالجوں کی نسبتاً نصف فیس ہیں۔ اگر آپ کو غیر ملکی طبی درسگاہوں سے مسئلہ ہے تو آپ اپنی طبی درسگاہیں کیوں نہیں شروع کرتے۔ اگر بیرونِ ملک سے فارغ التحصیل رشوت دے کر پڑھتے ہیں تو مقامی نجی فارغ التحصیل بھی بھاری فیس دے کر پڑھ رہے ہیں، انہیں بھی طبی مشق کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ پاکستان میں ہمیں ہر ماہ ایک نئی خبر ملتی ہے لیکن کسی بھی مستحکم بنیاد کے بغیر۔ اگر سرکاری عہدیدار اس قسم کا رویہ دکھائیں گے تو ہم اپنے ملک کے مستقبل سے متعلق کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
بیرونِ ملک سے طب میں زیادہ تر فارغ التحصیل یو ایس ایم ایل ای اور پی ایل اے بی پاس کر کے امریکہ اور برطانیہ میں کام کرتے ہیں۔ لیکن انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا پاکستان کے پاس زیادہ ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچہ ہے یا انہیں اپنے ہی امتحان پر بھروسہ نہیں۔

جواب

پاکستانی آئندہ 100 برس میں بھی دیگر ممالک سے موازنہ نہیں کر سکتے، چین اور روس کا طبی صحت کا نظام کہیں ترقی یافتہ ہے، چین نے کرونا وائرس کو شکست دی، جبکہ پاکستان ابھی بھی اس پر کام کر رہا ہے، بیرونِ ملک سے فارغ التحصیل یہ پاکستانی برطانیہ میں تو کام کر سکتے ہیں، جبکہ یہ احمق سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس علم کی کمی ہے، میرا پاکستانی گریجویٹس کو چیلنج ہے کہ بیرونِ ملک سے طب میں فارغ التحصیل پاکستانیوں کے سامنے آئیں تب آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کے پاس کتنا علم ہے؛ یہاں پاکستان میں گزشتہ پرچوں کی مدد سے امتحان پاس کیے جاتے ہیں، اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کریں۔

جواب

پاکستان آئندہ 10 برس میں بھی بیرونِ ملک موجود معیار اور سہولیات تک نہیں پہنچ سکتا؛ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں آپریشن تھیئیٹرز میں جراحی کے دوران آوارہ کتے اور بلیاں آزادانہ پھر رہے ہوتے ہیں؛ انہیں اس امر کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، مزید ہم وہ نہیں خرید رہے جو آپ بیچنا چاہتے ہیں؛ وہ باقاعدہ جانچ کے اصول کے ذریعے، پی ایم ڈی سی کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں، جو کہ ایک بڑی سردردی ہے۔

جواب

نجی پاکستانی میڈیکل کالج مافیا اسے پست از اخلاق کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان طلبہ سے فوائد حاصل کر سکیں جو سرکاری جامعات میں داخلہ نہیں لے پاتے، یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک سے فارغ التحصیل افراد کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ پی ایم ڈی سی اور پی ایم اے کا زیادہ تر عملہ رشوت لیتا ہے یا اس مافیا میں شامل ہے۔ یہ اس قسم کے پیغام کو کتنا ہی پھیلانا چاہیئں وہ طلبہ کو بیرونِ ملک بالخصوص چین جانے سے روکتے ہیں، آپ چند طلبہ کی نا اہلی کی وجہ سے پوری کھیپ کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہزاروں اچھے مصروفِ عمل ڈاکٹر ہیں جنہوں نے بیرونِ ملک سے تعلیم حاصل کی۔ اگر ان کے پاس بیرونِ ملک سے پوسٹ گریجویشن ہو تو وہ مقامی ڈاکٹروں سے کہیں زیادہ تجربہ کار بھی ہوتے ہیں۔ ہمارا طبی نظام ان کے نظام کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، بالخصوص چین کے، اب یہ بات ہر کوئی جانتا ہے۔ اگر آپ تحقیق نہیں کرتے ہیں۔ زیادہ تر طلبہ نے ان مواقع سے استفادہ کیا اور ان اداروں سے بہت اچھا علم اور تجربہ حاصل کیا لہٰذا ان بوگس نجی جامعات کے مافیا کے فریب میں مت آئیں۔

جواب

طب کے غیر ملکی گریجوایٹس کو پاکستان میں 3 مراحل کے امتحانات دینے پڑتے ہیں پاکستان میں این یو ایم ایس جیسی معروف جامعات لیتی ہیں۔ بیرونِ ملک سے فارغ التحصیل طب کے طلبہ پر اعتراضات لگا کر آپ نے درحقیقت ان جامعات اور ان کے پروفیسرز کو چیلنج کیا ہے۔

جواب