https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/10/feature-02
سلامتی

کے پی پولیس نے 2008 میں کینیڈا کی صحافی کے اغوا میں ملوث دہشت گرد کو ہلاک کر دیا

جاوید خان

image

حکام کے مطابق، امن شاہ جنہیں خیبر پختونخواہ (کے پی) اور بنوں پولیس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے، آٹھ مختلف مقدمات کے سلسلے میں کے پی پولیس اور اس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ کو مطلوب تھا۔ وہ 9 جون کو بنوں، کے پی صوبہ میں پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ [فائل]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی ایک صحافی کا اغوا کار ان تین دہشت گردوں میں سے ایک تھا، جنہیں منگل (9 جون) کو خیبرپختونخواہ (کے پی) پولیس نے ہلاک کر دیا تھا جبکہ دیگر آٹھ افراد کو صوبہ میں ہونے والے تین مختلف آپریشنوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بنوں کے علاقائی پولیس افسر عبدل غفور آفریدی نے کہا کہ "امین شاہ، جو کہ کینیڈا کی خاتون صحافی خدیجہ عبدالقہار اور دیگر دو افراد کو 2008 میں اغوا کرنے میں ملوث تھا، بنوں میں ہونے والے مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ شاہ آٹھ مختلف مقدمات کے سلسلے میں، کے پی پولیس اور اس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ کو مطلوب تھا۔

پاکستان پریس فاونڈیشن کے مطابق، قہار اور ان کے پاکستانی ڈرائیور اور مترجم کو نومبر 2008 میں مانسہرہ، شمالی وزیرستان سے اغوا کیا گیا جو کہ اس وقت تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ہیڈکواٹر تھا، جہاں وہ ایک دستاویزی فلم کے لیے مواد اکٹھا کر رہی تھیں۔

image

کیپیٹل سٹی پولیس کے افسر محمد علی گنڈاپور 9 جون کو ذرائع ابلاغ سے ان 8 افراد کی گرفتاری کے بارے میں بات کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق داعش اور لشکرِ اسلام سے ہے۔ [کے پی پولیس]

کے پی پولیس چیف ثناء للہ عباسی نے ایک بیان میں کہا کہ شاہ نے قہار کو اغوا کیا جو اسلام قبول کرنے سے پہلے بیورلی گیزبریچٹ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔

اس بارے میں متضاد خبریں ہیں کہ قہار کی وفات کیسے ہوئی، کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ طویل علالت کے بعد وفات پا گئیں مگر دنیا نیوز کے مطابق، عباسی نے کہا کہ شاہ نے اسے 2010 میں قتل کر دیا تھا۔

مقامی خبروں کے مطابق، ڈرائیور اور مترجم کو آٹھ ماہ کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

پیر (8 جون) کی صبح کو، بنوں میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، انہوں نے کچھ دیر قبل ہی مندن کے علاقے میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کیا تھا۔ یہ بات بنوں ڈسٹرکٹ پولیس افسر یاسر آفریدی نے بتائی۔

فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہگیر زخمی ہو گیا اور گشتی گاڑی کو نقصان پہنچا۔

یاسر آفریدی نے کہا کہ "تلاشی کے ایک مہم کے دوران، پولیس نے دہشت گردوں کو روکا جنہوں نے افسران پر فائرنگ شروع کر دی"۔ پولیس نے وہ ریموٹ کنٹرول بازیاب کر لیا جسے دہشت گردوں نے پولیس کی گاڑی کے ساتھ بندھے ایک بم کو اڑانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ ان سے دستی بم اور دیگر اسلحہ بھی ملا۔

دریں اثناء، پشاور میں پولیس نے آٹھ مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا جن پر شہر میں ہونے والے مختلف دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ بات کیپیٹل سٹی پولیس افسر محمد علی گنڈاپور نے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کا تعلق "دولتِ اسلامیہ" (داعش) اور لشکرِ اسلام سے ہے۔

گنڈاپور نے کہا کہ "چار کو حیات آباد میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر چار کو پہلے گرفتار کیے جانے والوں کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا"۔

انہوں نے کہا کہ گرفتارشدگان پولیس کے اداروں پر حملوں اور اس کے ساتھ ہی بھتہ خوری اور دیگر واقعات میں ملوث تھے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ گرفتار ہونے والوں میں سے ایک افغان شہری ہے جبکہ باقی کا تعلق خیبر ڈسٹرکٹ سے ہے، کہا کہ "وہ مستقبل قریب میں پشاور میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)