https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/01/feature-01
معیشت

خیبرپختونخواہ کے نوجوان وائرس لاک ڈاؤن میں ڈیجیٹل صلاحتیوں سے فری لانس کام تلاش کر رہے ہیں

دانش یوسف زئی

image

فلمون امجد 22 مئی کو پشاور میں ایک صارف کے لیے ویب سائٹ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

پشاور -- پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کا نتیجہ بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے مگر خیبر پختونخواہ (کے پی) کے نوجوان حکومت کے تربیتی پروگراموں سے سیکھی جانے والی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ سے حاصل کیے جانے والے فری لانس کام تلاش کر رہے ہیں۔

ایسا کام اور مستحکم آمدنی معاشی بدحالی کو روکنے میں مددگار ہوتی ہے جس کا عسکریت پسند بھرتی کار ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے مشہور ہیں۔

پاکستان نے، دوسرے بہت سے ممالک کی طرح، کووڈ -19 کے پھیلاؤ کو روکنے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں، جن میں جزوی لاک ڈاؤن بھی شامل ہے۔

بہت سے کارکنوں کے لیے، صورتِ حال کا مطلب آمدنی سے محروم ہو جانا ہے۔ تاہم، کے پی کے کچھ ہنر مند نوجوانوں کے لیے، لاک ڈاؤن ایک قابلِ عبور رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ وہ فری لانسر کے طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔

image

شعیب یوسف زئی، 23 مئی کو پشاور میں اپنے کمپیوٹر پر پائنیر گلوبل گگ اکانومی انڈکس رپورٹ پڑھ رہا ہے۔ [دانش یوسف زئی]

چوبیس سالہ فلمون امجد جو کہ گرافک ڈیزائنر اور ویب ڈویلپر کے طور پر 2017 سے فری لانسر کی حثیت سے کام کر رہے ہیں، نے کہا کہ "میں ایک گرافک ڈیزائنر ہوں اور لاک ڈاؤن نے میرے کام کو متاثر نہیں کیا ہے"۔

ان کے گاہکوں میں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والی سافٹ ویئر کی بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں۔ کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد، امجد نے کے پی انفرمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (کے پی آئی ٹی بی) کی طرف سے پیش کیے جانے والے تین ماہ کے ڈیجیٹل صلاحیتوں کے پروگرام میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام نے انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد فراہم کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کے پی آئی ٹی پی نے مجھے اپنی صلاحیتوں کو چمکانے اور فری لانس کام شروع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ فری لانسنگ پریشانی سے پاک پیشہ ہے جسے میں نوجوان گریجوئٹس کے لیے کیرئر کے طور پر تجویز کروں گا"۔ امجد ہر ماہ تقریبا 700 ڈالر (114,310 روپے) کما لیتے ہیں۔

گگ اکانومی کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں

عطاء اللہ جو ایک نام ہی استعمال کرتے ہیں، ایک کالج گریجوئٹ ہیں اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کام کر رہے ہیں، لاک ڈاؤن کے باعث اپنے دفتر کے بند ہو جانے کے بعد سے فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان کی صلاحیتوں نے انہیں گاہکوں کے لیے بہت سی ایپس بنانے اور اچھی آمدنی حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "فری لانسنگ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ کے پاس ڈگری ہو۔ اگر آپ پرجوش اور بُلند حوصلہ ہیں تو آپ یو ٹیوب سے بھی تربیت حاصل کر کے فری لانسنگ کا کام شروع کر سکتے ہیں"۔

کے پی آئی ٹی بی کا فلیگ شپ پروگرام، کے پی یوتھ امپلائمنٹ پروگرام (کے پی وائے ای پی) نوجوانوں کو ڈیجیٹل صلاحیتوں سے خودمختار بنانے اور انہیں مستقبل کے ملازمتوں کے مواقع سے جوڑنے کا متلاشی ہے۔ یہ بات کے پی وائے ای پی کے پراجیکٹ منیجر شعیب یوسف زئی نے بتائی۔

کے پی وائے ای پی کے پہلے مرحلے کا آغاز 2016 میں ہوا تھا اور اس پروگرام نے 2100 سے سے زیادہ فری لانسر بنائے ہیں جن میں سے 30 فیصد نے گگ ورک کے ذریعے سالانہ 40,000 ڈالر (6.5 ملین روپوں) یا اس سے زیادہ کی آمدنی کمانے کی اطلاع دی ہے۔

اس پروگرام کے دوسرے مرحلے میں، زیادہ ڈیجیٹل صلاحیتوں کی افرادی قوت پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور 8,500 سے زیادہ نوجوانوں کو تربیت دی گئی ہے اور ان میں سے 39 فیصد نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے کمائی شروع کر دی ہے۔

یوسف زئی نے کہا کہ آمدنی کمانے والے نوجوانوں کے گروہ میں سے تقریبا 43 فیصد فری لانسر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کے پی کے نوجوانوں کو انتہائی زیادہ مانگ والی اور جدید ڈیجیٹل صلاحیتوں سے لیس کرنے کے لیے، کے پی آئی ٹی بی نے جون 2019 میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) کے ساتھ شراکت کی تاکہ صوبہ سے تعلق رکھنے والے 1،200 سے زیادہ نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جا سکے"۔ ابھی تک، 900 سے زیادہ نوجوان تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

نوجوانوں کو پرعزم رکھنا

دی نیوز انٹرنیشنل کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق، نام نہاد گگ اکانومی بین الاقوامی طور پر بڑھ رہی ہے اور پاکستان کا سارے ملکوں میں سے چوتھا نمبر ہے۔

اس سروے نے 2018 کی دوسری سہ ماہی اور 2019 کی دوسری سہ ماہی کے درمیان آمدنی میں اضافے کو ناپا ہے۔

کے پی آئی ٹی بی کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر شہباز خان نے کہا کہ "یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے نئی صلاحیتیں سیکھنے، گگ ورک میں چھلانگ لگانے اور دسرت سمت میں اپنی اہلیت کو استعمال کرنے کا درست وقت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی اکثریت کل وقتی ملازمت کی بجائے فری لانسنگ کا کام پسند کرتی ہے کیونکہ اس سے انہیں لچک اور آزادی ملتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، انٹرنیٹ کو آمدنی کے لیے استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کا انتہاپسندوں کے ہتھے چڑھ جانے کا امکان کم ہوتا ہے جو زدپذیر آبادی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

چونکہ تعلیمی ادارے بند ہیں اور لاک ڈاؤن کے دوران نوجوان اپنے گھروں تک محدود ہیں، اس لیے اسے لوگوں کی اکثریت جن کے پاس کمپیوٹر تک رسائی ہے بہت قابلِ قدر وقت انٹرنیٹ پر گزار رہے ہیں اور ممکنہ طور پر وہ اپنے آپ کو عسکریت پسند بھرتی کاروں کے سامنے لا رہے ہیں۔ یہ بات اسلام آباد کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے کہی۔

تاہم، حق نے کہا کہ ایسےپروگرام جو نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، معاشرہ انہیں روشن مستقبل کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے انتہاپسندوں کی طرف سے بے کار نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی اہلیت سے جنگ کرنے کے لیے کے پی وائے ای پی کی پہل کاری کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ "خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مصروف کرنا ہے اور انہیں ملازمت کے مواقع فراہم کرنے ہیں ورنہ عسکریت پسند اور دوسرے گروہ انہیں متوجہ کر لیں گے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

یہ COVID-19 کی وجہ سے ہے، لوگ اب بھوک سے مر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی حالیہ صورتِ حال میں متوسط طبقے کے خاندان بھی روزانہ اجرت کے کام تلاش کر رہے ہیں، اللہ ہمارے پاکستان اور پوری امّتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

پاکستان زندہ باد

جواب