https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/26/feature-02
تعلیم

کرم، اورکزئی میں عسکریت پسندی سے متاثرہ 100 سے زیادہ اسکولوں کی بحالی کا کام شروع

ظاہر شاہ شیرازی

image

اورکزئی ڈسٹرکٹ میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول میر میلہ شیخاں کو مئی 2019 میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسے اس منصوبے کے تحت بحال کیا جائے گا۔ [کے پی کا شعبہ تعلیم]

پشاور -- پاکستان نے سابقہ قبائلی اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کو بہتر بنانے اور عسکریت پسندوں کی طرف سے تباہ کیے جانے والے اسکولوں کو بحال کر کے ایک جامع کوشش کا آغاز کیا ہے۔

کرم اور اورکزئی کے اضلاع میں تباہ شدہ 100 سے زیادہ اسکولوں کو دوبارہ سے تعمیر کیا جائے گا اور یہ خیبر پختونخواہ (کے پی) کے شعبہ تعلیم، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی مشترکہ کوشش کا حصہ ہے جس کے لیے سرمایہ کینیڈا کی حکومت فراہم کر رہی ہے۔

کے پی کے ایلیمنٹری و اسکینڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سینئر چیف پلاننگ افسر حشمت علی نے 20 مئی کو کہا کہ اس منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے اور حکام اسکولوں کو پیش آنے والے نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحالی کے کام کے لیے ٹھیکہ دار کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور معاہدہ کا انتظار ہے۔

image

کرم اور اورکزئی ڈسٹرکٹ میں 100 سے زیادہ اسکولوں کی بحالی کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد، یو این ڈی پی، یونیسیف اور پاکستانی نمائندے 20 فروری کو تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ [کے پی شعبہ تعلیم]

image

اورکزئی ڈسٹرکٹ میں گرلز پرائمری اسکول وام پانرا کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ اسے مئی 2019 میں دکھایا گیا ہے۔ [کے پی کا شعبہ تعلیم]

انہوں نے کہا کہ عطیہ دہندگان اسکولوں کے لیے فرنیچر اور دیگر ساز و سامان فراہم کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ منصوبے وقت پر مکمل ہوں گے مگر حکام نے کووڈ -19 کی وباء کے باعث شیڈول میں تھوڑی بہت تبدیلی کی ہے۔

کے پی کے ایلیمنٹری و اسکینڈری شعبہ تعلیم اور یو این ڈی پی نے اس سے پہلے 20 فروری کو مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد اضلاع میں لڑکیوں کی معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانا تھا۔

یو این ڈی پی نے ایک بیان میں کہا کہ تین سالہ کوششوں سے شعبہ تعلیم، برادری اور طلباء کو مدد ملے گی اور تقریبا 14,000 طلباء کو تعلیم تک بہتر رسائی ملے گی جس میں نوجوان لڑکیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یو این ڈی پی نے مزید کہا کہ تباہ ہونے والے اسکولوں کی آبادکاری کے علاوہ، 300 سے زیادہ اساتذہ کو "طلباء پر مرکوز اور صنف زُودحس تدریسی عمل" کے بارے میں تربیت دی جائے گی۔ یہ پروگرام تقریبا 155 والدین-اساتذہ تنظیموں اور ماؤں کے گروہوں کو بھی تشکیل دے گا اور تربیت فراہم کرے گا تاکہ لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو فروغ دیا جا سکے اور اس کی نگرانی کی جا سکے۔

کرم اور اورکزئی کے اضلاع میں 155 اسکولوں میں نوعمر لڑکیوں کو صفائی اور صحت کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے سیشن منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یو این ڈی پی کے بیان کے مطابق، یو این ڈی پی پاکستان کے رہائشی نمائندے اگناسیو ارتزہ نے پشاور میں یادداشت پر دستخط کرنے کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران کہا کہ "تعلیم غربت کے سلسلے کو توڑنے کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔ انضمام شدہ اضلاع کا مستقبل رسمی و غیر رسمی تعلیم کے ذریعے اس کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کام میں لانے پر منحصر ہے"۔

تعلیم کو بہتر بنانا

کے پی کے نظامت تعلیم کے مطابق، کے پی میں نئے انضمام شدہ اضلاع میں 607,500 سے زیادہ لڑکیوں کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

2017 کی تعلیمی مردم شماری کے مطابق، صرف37 فیصد لڑکیاں پرائمری کی سطح پر اسکول جاتی ہیں اور 5 فیصد اسکینڈری کی سطح پر۔

یو این ڈی پی کے اعداد و شمار کے مطابق، دریں اثناء اورکزئی ڈسٹرکٹ میں 70 سے زیادہ اسکول مکمل تباہ اور دیگر 272 کو نقصان پہنچا ہے۔ کرم ایجنسی میں مکمل تباہ ہونے والے اسکول 84 ہیں اور130 ایسے ہیں جنہیں نقصان پہنچا ہے۔

کے پی کے وزیرِ تعلیم اکبر ایوب خان نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے علاوہ، اگلے دو سالوں میں 65,000 اساتذہ کو مقرر کیا جائے گا اور توقع ہے کہ مئی کے آخیر تک، آباد اور ضم شدہ اضلاع کے لیے 35,000 نئے اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا۔

خان نے کہا کہ بحالی اور تعمیرِ نو کا مرحلہ تیزی سے طے ہوا ہے کیونکہ کووڈ -19 کی عالمی وباء کے باعث اسکول بند ہیں۔

کرم سے تعلق رکھنے والے صحافی ہدایت پاسدار نے کہا کہ سینٹرل اور اپر کرم میں اسکولعسکریت پسندی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے اور ہزاروں بچے، خصوصی طور پر لڑکیاں اسکول نہیں جا سکی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ تاہم، اسکولوں کی بحالی کا پروگرام تعلیم کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کو بحال کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

پاسدار نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے فروغ اور نگرانی کے لیے والدین- اساتذہ کی ایسوسی ایشنز اور ماؤں کے گروپ بنانا لڑکیوں کو اسکولوں میں واپس لانے میں بہت بڑا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بحالی کے علاوہ، ان اسکولوں کو مناسب طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت ہو گی کیونکہ اگر ہم منضمم ہونے والے اضلاع میں تعلیم کا معیار واقعی بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں روایتی تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بہتر بنانا ہو گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)