https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/15/feature-01
سلامتی

تباہ کن بحری حادثہ ایرانی فوج کی پیشہ واریت میں کمی کو اجاگر کرتا ہے

پاکستان فارورڈ

image

کونارک حادثے کے متاثرین کی لاشیں 12 مئی کو ایک فوجی جہاز پر ایک ایرانی ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

تہران -- اس ہفتے "دوستانہ فائرنگ کے تبادلے" کا حادثہ جس میں گلف آف عمان میں ایرانی بحریہ کے 19 اہلکار ہلاک ہوئے ان اہم کمزوریوں کی علامت ہے جنہوں نے ایرانی حکومت اور اس کی افواج کو پریشان کرنا جاری رکھا ہوا ہے: غلط ترجیحات اور پیشہ واریت کی کمی۔

سوموار (11 مئی) کو ایرانی بحریہ نے اعتراف کیا تھا کہ 10 مئی کی سہ پہر ایران کے جنوبی ساحل سے پرے، بندرِ جاسک کے قریب بحری مشقوں کے دوران ایرانی تیز رفتار جنگی جہاز نے کونارک امدادی کشتی کو ایک میزائل مار دیا جس میں کم از کم 19 بحری فوجی ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔

سرکاری ٹیلی وژن کی ویب سائٹ پر کہا گیا، "کشتی ایک مشقی ہدف کو اس کی منزل پر منتقل کرتے وقت زد میں آئی جب اس کے اپنے اور اصل ہدف کے درمیان کافی فاصلہ باقی نہیں بچا تھا۔"

عوام سے مزید معلومات کے اجراء تک "قیاس آرائیوں سے گریز کرنے" کو کہتے ہوتے ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ کشتی کو "تکنیکی تحقیقات" کے لیے کھینچ کر کنارے پر لایا گیا ہے۔

image

12 مئی کو ایران میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر ایرانی خواتین اپنے پیاروں کی موت پر بین ڈالتے ہوئے جو کونارک حادثے میں مر گئے تھے۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

image

ایک ویڈیو سکرین شاٹ میں ایک ایرانی بحری حادثے کے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے جس میں 10 مئی کو کم از کم 19 بحری فوجی ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے تھے۔ [روزنامہ جامِ جام]

روزنامہ جامِ جام کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کونارک کو جزوی طور پر پانی کے نیچے دکھایا گیا ہے اور اس میں سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ اسے ایک اور کشتی سے کھینچ کر لایا جا رہا ہے۔

مہلک نتائج

10 مئی کا "حادثہ" اس سال دوسرا واقعہ ہے جس میں ایرانی فوج نے مہلک نتائج کے ساتھ غلط ہدف پر میزائل داغا ہے۔

ایران کے سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے 8 جنوری کویوکرین انٹرنیشنل ایئرلائن کے مسافر بردار جہاز پر میزائل داغے تھے، جس سے 146 ایرانیوں سمیت، جہاز پر سوار تمام 176 مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے تھے۔

تین روز تک اپنے ملوث ہونے کی تردید کرنے کے بعد،تہران نے جہاز کو مار گرانے کا اعتراف کر لیا تھا، اس کا الزام "انسانی غلطی" پر ڈالا اور اس واقعہ کو "تباہ کن غلطی" قرار دیا۔

بحری حادثے کے بعد سے، تہران نے ابھی تک اس کے علاوہ کوئی وضاحت نہیں دی کہ کونارک "کو ایک حادثہ پیش آیا تھا اور بحریہ کے کئی جوان شہید ہو گئے۔"

ایرانی بحریہ نے کہا، "واقعہ کے تحقیقات ماہرین کی جانب سے کی جا رہی ہے۔"

عسکری امور کے تجزیہ کاروں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ یا تو میزائل فائر کرنے والے افسر انچارج نے بہت جلدی میزائل داغ دیا -- اس سے پہلے کہ کونارک بحفاظت اس کی زد سے نکل جاتی -- یا پھر میزائل نے کونارک کو ایک زیادہ بڑی کشتی اور زیادہ بڑے خطرے کے طور پر شناخت کیا۔

ایرانی عالمِ دین اور سابقہ نائب صدر محمد علی ابتاہی نے 11 مئی کو انسٹاگرام پر کہا، "ایک بار پھر عوام کو معلومات کی فراہمی میں شفافیت کی کمی ہے، جس سے یوکرینی جہاز کو مار گرانے کی تلخ یادیں واپس لوٹ آئی ہیں۔"

غلط ترجیحات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محض چند ہی ماہ کے عرصے میں دو جان لیوا غلطیوں نے تہران کی عسکری حکمتِ عملی کی استعداد اور ایرانی مسلح افواج کی تیاری پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں گلف سٹیٹ اینالیٹکس کے ایک سینیئر مشیر، تھیودور کاراسک نے عرب نیوز کو بتایا، "ایک ایسی قابل فوج جو ایرانی ریاست کی حفاظت کر سکے پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے، حکومت نے ملیشیا سرگرمی، ڈرونز، اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کیا۔"

مونٹیری کیلی فورنیا میں نیول پوسٹ گریجویٹ سکول پر قومی سلامتی کے امور کے اسسٹنٹ پروفیسر، افشون اوستوار نے کہا کہ تازہ ترین غلطی "فاش غلطی سے بھی بدتر" ہے اور اور ایرانی فوج کے اناڑی پن اور پیشہ واریت کی کمی کو ننگا کرتی ہے۔

انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا، "یا تو ابلاغ میں غلطی ہوئی ہے یا کوئی پروٹوکولز کی پیروی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ شاید یہ دونوں کا مرکب تھا۔"

ان کا کہنا تھا، "تاہم، [ایرانی فوج] خود کو جتنا بھی طاقتور مانتی ہو، یہ مہنگی بنیادی غلطیاں کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔"

خلیجِ فارس میں ایرانی فوجی اور بحری کارروائیوں پر واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی تجزیہ، فرزین ندیمی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا، "ایرانی مسلح افواج میں آپسی رابطے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک بنیادی مسئلہ ہے، خواہ یہ فضائی دفاع ہو یا بحری جنگ، خواہ یہ پاسدارانِ انقلاب ہوں یا فوج۔"

پراکسیز پر انحصار

523،000 حاضر سروس افواج اور دیگر 350،000 ریزرو فوج کا حامل، ایران مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی فوج رکھتا ہے اور فعال فوجیوں کی بنیاد پر یہ دنیا میں آٹھویں بڑی فوج ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے، مگر پرانے ہوتے ہوئے آلات، بین الاقوامی پابندیوں، اسلحے کی درآمد پر پابندیوں -- اور اب ان دو ہائی پروفائل مہلک حادثات کی وجہ سے -- یہ واضح ہے کہ ایرانی فوج براہِ راست جنگی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

تہران کے عسکری اخراجات اس کے بڑے حریفوں کے مقابلے میں بہت حقیر ہیں -- سنہ 2018 میں سعودی عرب کے 70 بلین ڈالر اور امریکی فوج کے 700 بلین ڈالر کے مقابلے میں اس نے محض 13 بلین ڈالر خرچ کیا ہے-- اور اس کے اتحادی بھی بہت کم ہیں۔

"ایران کے روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیںاور چین کے ساتھ بھی مگر اس کے کوئی بہت طاقتور، سپر پاور اتحادی نہیں ہیں، " دی اٹلانٹک کا 4 جنوری کو یہ کہنا تھا۔ "دنیا کے تنہا ترین ممالک میں سے ایک ملک کے طور پر، اس کے زیادہ اتحادی نہیں ہیں۔"

اس وجہ سے، تہران پورے خطے میں پراکسیز استعمال کرتے ہوئے بے ڈول میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔

مثال کے طور پر شام میں،آئی آر جی سی کی پشت پناہی کی حامل فاطمیون ڈویژناور زینبیون بریگیڈ ملیشیا -- جو افغان اور پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل ہے -- شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے میں مدد کر رہی ہیں۔

لبنان میں، حزب اللہ ایرانی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، جبکہ یمن میں، حوثی ایک جائز حکومت کے خلاف تہران کی ایماء پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔

ایرانی پشت پناہی کی حامل بے ضابطہ افواج عراق میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے پیچھے ہیں، خصوصاً جبآئی آر جی سی کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانیاور پاپولر موبلائیزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے نائب کمانڈر ابو مہدی المہندس 3 جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

جعلی انداز

سلیمانی کی ہلاکت کے بعد،ایرانی سیاسی قائدین اور آئی آر جی سی کے قائدین نے "خوفناک بدلہ" لینے اور "سخت ترین انتقام" لینےاور امریکی افواج کو خطے سے باہر نکالنے کی دھمکیاں دی تھیں۔

کابل کے مقامی عسکری تجزیہ کار عزیز احمد وردک نے کہا، "لیکن آج تک، [ایران نے] نہ تو سخت ترین انتقام لیا اور نہ ہی امریکیوں کو خطے سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ ایسے بیانات کا مقصد صرف علاقے کے ممالک کو خوفزدہ کرنا ہوتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "ایرانی فوج، خصوصاً آئی آر جی سی، اپنے متعلق دروغ گوئی اور مبالغہ آرائی کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ، ایران کے پاس وہ فوج اور جنگی صلاحیتیں نہیں ہیں جن کا وہ دعویدار ہے۔"

فروری میں، ایرانی حکومت نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کے کئی دیگر غیر مصدقہ دعوے کیے -- اور ان کے کچھ ہی دیر بعد انتہائی متوقع سیٹلائٹ لانچ میں ڈرامائی طور پر ناکامی ہو گئی۔

9 فروری کو آئی آر جی سی نے ایک شارٹ رینج کے بیلسٹک میزائل کی نقاب کشائی کی جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اسے سیاروں کو مدار میں چھوڑنے کے لیے تیار کردہ انجنوں کی "نئی نسل" سے طاقت دی جا سکتی ہے۔

محض چند ہی گھنٹے بعد سرکاری ٹی وی پر، وزارتِ دفاع کے ترجمان اعلان کر رہے تھے کہ ظفر سیٹلائیٹ اسے مدار میں چھوڑنے کے لیے مطلوبہ رفتار حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا۔

ایک اور سیٹلائیٹ جنوری 2019 میں مدار تک پہنچنے میں ناکام ہو گیا تھا۔

ناقابلِ یقین دعوے

ایسی مہنگی فاش غلطیوں کے باوجود، تہران نے اپنی توجہ اپنے خلائی پروگرام کو آگے بڑھانے پر مرکوز رکھی ہے، جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ میزائلوں کی تیاری کے لیے ایک دھوکہ ہے۔

ایران کے پہلے فوجی سیارے کی مدار میں لانچنگجو 22 اپریل کو ہوئی تھی حکومت کی غلط ترجیحات پر روشنی ڈالتی ہے کیونکہ ملک ڈوبتی ہوئی معیشتسے اور کووڈ-19 کورونا وائرس کی عالمی وباء کے تباہ کن اثرات سے لڑ رہا ہے۔

اس مہنگی لانچنگ کے بعد، امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے وائرس سے لڑنے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے 5 بلین ڈالر کا ہنگامی قرضہ مانگنے پر حکومت کی منافقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔

انہوں نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا، "مجھے امید ہے کہ ایرانی حکومت وسائل کی ترجیحات متعین کرنے کے ایرانی عوام کے مطالبے کا جواب دے گی، وہ وسائل جو ایرانی حکومت کے پاس واضح طور پر موجود ہیں، ایرانی عوام کی صحت اور سلامتی اور تحفظ کے لیے، بجائے اس کے کہ وہ ان سے اپنی دہشت گردی کی عالمی مہم جاری رکھے۔"

یہ لانچ آئی آر جی سی کی جانب سے 15 اپریل کو کورونا وائرس کے ایک "فاتحانہ" تکنیکی سراغ رساں کے ناقابلِ یقین دعوے کا اعلان کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔

ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی آلے کی افتتاحی تقریب میں آئی آر جی سی کے کمانڈر میجر جنرل حسینی سلامی نے کہا، "یہ ایک شاندار سائنسی تکنیک ہے جسے کئی ہسپتالوں میں جانچا گیا ہے۔"

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ محض پانچ سیکنڈ کے اندر اندر 100 میٹر کے رداس میں متاثرہ سطحات اور وائرس سے متاثرہ افراد کا سراغ لگانے کے قابل بناتا ہے۔

ریڈیو فردا نے بتایا کہ مگر ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ویڈیو مین آلے کو ایک صحت مرکز میں جانچتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں ہر کوئی بیزار نظر آ رہا تھا جب یہ ایک میٹر سے بھی کم فاصلے سے وائرس کا سراغ لگانے میں ناکام ہو گیا۔

"تھرمامیٹر پر ایک اینٹینا لگانے" کا کہہ کر مذاق اڑاتے ہوئے، ایک ٹوئٹر صارف کا آلے کے متعلق کہنا تھا، "آئی آر جی سی ایک مسافر بردار جہاز اور ایک میزائل میں تمیز نہ کر سکی، ہم کیسے یقین کر لیں کہ یہ پانچ سیکنڈ کے اندر اندر نینومیٹر سائز کے وائرس کا سراغ لگا سکتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

بہترین ویب سائیٹ

جواب

میرا خیال ہے کہ یہ ایران کی بحریہ کی دوستانہ گولہ باری کا سانحہ تھا جس سے خلیج اومان میں 19 ملاح جاںبحق ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کونارک کو "تکنیکی معائنہ" کے لیے ایک بندرگاہ لے جایا گیا۔ لیکن اس سے اس حادثہ کے حالات کا کوئی حوالہ نہ دیا گیا۔ غلطی کرنا ایرانی مسلح افواج کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔

جواب