https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/14/feature-02
پناہ گزین

پاکستان میں افغانیوں نے ایرانی فورسز کی طرف سے مہاجرین کو ڈبونے کی مذمت کی ہے

ضیاء الرحمان

image

سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن، 11 مئی کو کابل میں ایرانی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کے دوران ایرانی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ افغانستان نے 18 مہاجرین کی لاشیں نکالی ہیں جنہیں مبینہ طور پر ایرانی سرحدی گارڈز نے یکم مئی کو دریا میں دھکیلنے سے پہلے مارا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ بات ایک سینئر افغان اہلکار نے بتائی۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

کراچی -- پاکستان میں رہنے والے افغان مہاجرین نے ایرانی سرحدی گارڈز کی طرف سے افغان مہاجر کارکنوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور ڈبونے پر تہران کی مذمت کی ہے۔

افغان حکام ان دعووں کی تفتیش کر رہے ہیں کہ ایرانی سرحدی گارڈز نے یکم مئی کو، درجنوں ایسے مہاجرین کو دریا میں دھکیلنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جو ہرات صوبہ سے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہوئے تھے۔

سرکاری کمیٹی جسے اس واقعہ کی تفتیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے، کے چیرمین عبدالحمید تہمسی نے 10 مئی کو ہرات شہر میں اخباری نمائںدوں کو بتایا کہ "دستاویزات اور شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی ملٹری فورسز نے افغان کارکنوں کو دریا میں پھینک دیا تھا"۔

تہمسی نے کہا کہ "افغان تفتیشی کمیٹی جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہے تاکہ مزید دستاویزات اور شواہد کو جمع کیا جا سکے۔ ایرانی حکومت نے اس واقعہ کی تفتیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا ہے مگر اس نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے"۔

image

کراچی میں ایک افغان مہاجر 20 فروری کو روٹی کے ٹکڑے فروخت کر رہا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے مہاجرین نے ایرانی حکومت کی طرف سے تقریبا 60 افغان مہاجرین پر تشدد کرنے اور انہیں ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے روکنے کے لیے دریا میں پھینک دینے کی مذمت کی ہے۔ [ضیاء الرحمان]

image

گزشتہ سال یکم نومبر کو افغان مہاجرین کراچی کے کیمپ جدید میں قالین بن رہے ہیں۔ افغان مہاجرین اور اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے چالیس سال تک مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کی تعریف کی ہے۔ [ضیاء الرحمان]

انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری تفتیش سے ظاہر ہوا ہے کہ 46 کارکن ایران میں داخل ہوئے اور ان سب کو دریا میں پھینک دیا گیا۔ دس کارکنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 17 ابھی تک لاپتہ ہیں۔ باقی کے 19 اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہو گئے"۔

ایرانی حکام نے ان دعووں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ افغان علاقے میں پیش آیا۔

مہاجرین کی طرف ایران کی معاندانہ پالیسی

ایسے افغان مہاجرین جو پاکستان میں ہجرت کرنے سے پہلے ایران میں رہتے تھے، نے اپنی کہانیاں سانجھی کی ہیں کہ کیسے انہیں ایران میں ان کے قیام کے دوران غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

عیسی محمدی، جو کہ افغانستان کے صوبہ دایکندی سے تعلق رکھنے والے مہاجر ہیں جو اب کراچی میں رہ رہے ہیں، نے اپنے خاندان کے ساتھ دو سال (2005-2007) ایران میں گزارے تھے۔

محمدی نے کہا کہ "طالبان کے تشدد سے فرار کے لیے، ہم نے افغانستان میں دایکندی میں اپنے گاؤں کو ایران میں بہتر زندگی کی تلاش میں چھوڑا"۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ ان کے ماضی کے تجربہ نے انہیں اس بات کا یقین دلایا ہے کہ گارڈ حالیہ تشدد اور ڈبونے کے واقعات میں ملوث ہیں، کہا کہ "جب ہم ہرات صوبہ میں، اسلام قلعہ کی چوکی سے ایران میں داخل ہو رہے تھے، ایرانی سرحدی اہلکاروں نے ہمیں لوٹا اور بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا"۔

محمدی نے مطالبہ کیا کہ افغان حکومت ان لوگوں کو ڈھونڈے اور انہیں سخت سزا دے جنہوں نے بے گناہ مہاجرین کے خلاف یہ قدم اٹھایا ہے۔

حاجی بشیر، ایک بزرگ مہاجر جو ایران میں رہ چکے ہیں، نے ایرانی حکومت کے مظالم کی مذمت کی ہے۔

بشیر جن کے رشتہ دار ابھی تک ایران میں مہاجرین کے طور پر رہتے ہیں، نے کہا کہ "ایران کے ساتھ موازنے میں، پاکستان افغان مہاجرین کے لیے جنت ہے۔ پاکستان میں، ہم باعزت طریقے سے رہ رہے ہیں اور ہم اس کے لیے پاکستان کے شکرگزار ہیں"۔

بشیر نے کہا کہ دونوں طرف کے لوگوں میں یکجہتیاس بات سے عیاں ہے کہ کیسے اسلام آباد افغان مہاجرین کو پاکستان آنے، آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران میں یہ ایک مختلف کہانی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ ایران کے قانون نافذ کرنے والے ادارے مہاجرین کو ملک میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور انہیں مہاجر کیمپوں میں بند رکھتے ہیں، کہا کہ "ایران میں مہاجرین کے بنیادی حقوق سے مکمل طور پر انکار کر دیا گیا ہے"۔

بشیر نے کہا کہ علاوہ ازیں، افغان مہاجرین کے خاندانوں کو کسی بھی وقت ملک سے نکالے جانے اور ایک دوسرے سے الگ کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "جب ایرانی حکام مہاجرین کو ملک بدر کرتے ہیں تو وہ بچوں کو والدین سے الگ کر دیتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے، مہاجرین کے لیے "نو گو ایریاز" کے ذریعے افغان مہاجرین کو ملک کے 31 میں سے 28 صوبوں میں رہنے اور ان کا سفر کرنے سے موثر طور پر روک رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں ہم کہیں بھی جا سکتے ہیں اور ہم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے"۔

ایرانی بدسلوکی

پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کو خوش آمدید کہنے اور ان سے انسانی سلوک کرنے کی طویل تاریخ کو بین الاقوامی طور پر سراہا گیا ہے۔

فروری میں، اقوامِ متحدہ (یو این) کےسیکٹری جنرل انٹونیو گٹیرس پاکستان آئے تاکہ وہ پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے کے 40 سال کے موقع پر منعقد کی جانے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان آئے۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے نہ صرف الفاظ بلکہ کاموں میں بھی یکجہتی دیکھی ہے اور پاکستان اور افغانستان کے مہاجرین کی کہانی، ہمدردی کی کہانی ہے اور اس بہت سی وجوہات کی بنیاد پر اس کا جشن منایا جانا چاہیے"۔

علاوہ ازیں، پاکستانی حکومت نے افغان مہاجرین کو ملک میں بہتر طور پر یک جان کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

فروری 2019، میں وزیراعظم عمران خان نے ملک کے بینکوں کو حکم دیا تھا کہ خیرسگالی کے قدم کے طور پر، وہ اندراج شدہ افغان مہاجرین کو بینک اکاونٹ کھولنے کی اجازت دیں جس سے وہ قانونی اور محفوظ طریقے سے رقم کا لین دین کر سکیں۔

اس کے بالکل متضاد، ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کمزور افغان مہاجرین کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے بچوں کو بیرونِ ملک لڑنے کے لیے بھرتی کر رہا ہے۔

آئی آر جی سی خاندانوں سے رقم اور ایران میں مستقل رہائش کا وعدہ کرتی ہے اگر وہفاطیمیون ڈویژن، جو کہ افغانیوں سے بنا ہوا ملیشیاء گروہ ہے جس کی کمانڈ آئی آر جی سی کے پاس ہے، میں شامل ہو جائیں۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے 2017 کی اپنی رپورٹ میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کو آئی آر جی سی کی طرف سے افغان بچوں کو بھرتی کرنے کی تفتیش کرنی چاہیے اور "سیکریٹری جنرل کو بچوں کو بھرتی کرنے کے ثبوت کی بنیاد پر، اس تنظیم کو بچوں کے استحصال کی اپنی سالانہ فہرست میں شامل کرنا چاہیے"۔

ایچ آر ڈبلیو نے اس سے پہلے ایران میں، افغان مہاجرین کو درپیش معاملات اٹھائے تھے جن میں جسمانی استحصال، گندے اور غیر انسانی حالات میں قید، ملک بدر کیے جانے کے کیمپوں تک ٹرانسپورٹ اور رہن سہن کے اخراجات زبردستی لینا اور جبری مشقت اور خاندانوں کو زبردستی طور پر الگ کرنا شامل ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

یہ مکالہ حقائق پر مبنی نہیں

جواب