https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/08/feature-01
صحت |

کورونا کے مریضوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ہسپتالوں میں عمومی خدمات بند

از اشفاق یوسفزئی

image

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد میں حفاظتی ماسک پہنے ہوئے ایک ڈاکٹر تنہائی وارڈ سے نکلتے ہوئے فون پر بات کرتے ہوئے۔ [عامر قریشی / اے ایف پی]

پشاور -- پاکستان، جس کے محکمۂ صحت کے حکام کسی حد تک ہمسایہ ملک ایران کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ، ہسپتالوں کی عام بیماریوں کا علاج کرنے کی صلاحیت کو ختم کر رہا ہے کیونکہ وہ اس بیماری سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں کا تحفظ کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

ایسا ہی ایک ادارہ 1،750 بستروں پر مشتمل پشاور کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال ہے، جس نے کورونا کے مریضوں کے علاوہ باقی مریضوں کے لیے صحت کی خدمات کو بند کر دیا ہے کیونکہ مزید طبی عملہ کورونا وائرس سے متاثر ہو رہا ہے۔

ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا، "ہم نے عملے کے ارکان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے چیدہ چیدہ خدمات معطل کر دی ہیں۔ ہمارے 200 سے زائد ڈاکٹر، نرسیں اور نیم پیشہ ور طبی عملہ وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ حادثات اور ہنگامی حالات کے شعبے کھلے ہیں، مگر افراد اس تشویش کے باعث علاج کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ کہیں انہیں وائرس نہ لگ جائے۔

image

مردان، خیبرپختونخوا میں مردان میڈیکل کمپلیکس کو 5 مئی کو خالی دیکھا جا سکتا ہے۔ ہسپتال عام مریضوں کے لیے بند ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

image

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کا امراضِ قلب وارڈ 6 مئی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے سبب 24 مارچ سے بند ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

مسعود کا کہنا تھا، "کورونا وائرس آنے سے پہلے، ہمارے ہاں دن میں عام بیماریوں والے 7،000 مریض آتے تھے جنہیں کان، ناک، گلے، آنکھوں، دل، ذیابیطس، طبی، جراحی، ہڈیوں کے امراض اور دیگر امراض کے لیے تشخیص اور علاج کی مفت خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔ مگر اب، عملے کو انفیکشن سے بچانے کے لیے تمام [کورونا وائرس کے علاوہ] خدمات کو بند کر دیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے 3،500 ملازمین ہیں، بشمول 500 ڈاکٹر جو 24 شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں، مگر اب وہ کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے وقف ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ عملے کے بہت سے ارکان جو ان مریضوں کے ساتھ کام نہیں کرتے وہ گھر پر رہ رہے ہیں۔

فون پر مشورے میں اضافہ

دیگر ہسپتالوں کو بھی ایسا ہی منظرنامہ درپیش ہے۔

پشاور میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ)، جس میں 30 وارڈ اور بہت سے شعبے ہیں، حکومت کی جانب سے 24 مارچ کو تمام چیدہ چیدہ طبی خدمات کی معطلی کے اعلان کے بعد سے ویران پڑے ہیں۔

خیبرپختونخوا (کے پی) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کے صدر، ڈاکٹر رضوان کنڈی کے مطابق، اس کی بجائے، ہسپتال کے ڈاکٹر ٹیلی فون پر مشورے دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا جبکہ یہ خدمت ذاتی طور پر طبی معائنوں سے کم پسندیدہ ہے، وائے ڈی اے نے مریضوں کی سہولت کے لیے اور لاک ڈاؤن کے دوران سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے لیے ہسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن کلینک قائم کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ہمیں روزانہ مریضوں کی جانب سے تقریباً 1،500 کالیں موصول ہوتی ہیں، اور ہمارے ماہرین انہیں علاج تجویز کرتے ہیں۔ مگر جن مریضوں کو سرجری اور دیگر علاجوں کی ضرورت ہے ان کے لیے، طبی معائنوں کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔"

ایک اور طبی ادارہ، پشاور کا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، بھی اپنی طبی ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صحت کی عمومی خدمات کو روکنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

، "ہمارے ہاں صحت کے 1،578 مراکز ہیں جہاں 47،000 ملازمین روزانہ 1.3 ملین مریضوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں، مگر عالمی وباء نے تمام خدمات بند کرنے پر مجبور کر دیا ہےکیونکہ ہم اپنے عملے کو انفیکشن کا شکار نہیں بنا سکتےکے پی ڈپٹی ڈائریکٹر صحت ڈاکٹر احسان علی نے کہا.

کورونا وائرس کی وجہ سے نجی ہسپتالوں اور کلینکوں نے اپنی صحت کی عمومی خدمات کو بند کر دیا ہے۔

مردان کے ایک رہائشی، جواد علی نے کہا، "ہم شوگر کے مریض والد کے لیے علاج تلاش کرتے رہے ہیں، مگر انہیں لے جانے کے لیے کوئی ادارہ نہیں کھلا ہوا۔ انہیں اپنی شوگر کی سطح جاننے اور اس کے مطابق دوا لینے کے لیے اکثر ٹیسٹوں کی ضرورت پڑتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اردگرد کے علاقے میں بہت سے شدید بیماروں کو فوری علاج کی ضرورت ہے، مگر وائرس کی وباء صحت کے نظام کو درہم برہم کر رہی ہے۔

'ٹک ٹک کرتے ٹائم بم'

حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کے عام بیماریوں کا علاج کرنے پر پابندی اس وقت لگائی گئی ہے جب ملک کو کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کا سامنا ہے، جو ایک ایسیوباء ہے جس کے لیے محکمۂ صحت کے حکام کسی حد تک ہمسایہ ملک ایران کی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں.

کورونا وائرس کے بالکل ابتدائی مریض کوئی 80 فیصد پاکستانی ایران سے آئے تھےوزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے 24 مارچ کو ذرائع ابلاغ کو بتایا.

حکام نے ملک کے اندر کورونا وائرس کی وباء پھوٹنے کے متعلقاس سال کے شروع میں ہزاروں پاکستانی زائرین کو درست معلومات فراہم نہ کرنے پر ایرانی حکومت کوموردِ الزام ٹھہرایا.

کے پی ڈپٹی ڈائریکٹر صحت، علی، نے کہا کہ ایران سے واپس آنے والے غیر جانچ پڑتال کردہ، متاثرہ پاکستانی زائرین نے کے پی میں وباء کا بیج بویا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عام فہم بات ہے کہ تہران نے کورونا وائرس کی صورتحال میں بد انتظامی کی، جو کہ ناصرف اس کے اپنے عوام کے لیے بلکہ پاکستان اور دیگر ممالک کے لیے بھی بڑھ کر عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ خان، جو قرنطینہ مرکز کے انچارج ہیں، نے 5 مئی کو کہا کہ ڈیرہ اسماعیل [ڈی آئی] خان میں ایران سے واپس آنے والے زائرین کے لیے قائم کردہ قرنطینہ میں 6،500 زائرین آئے تھے اور ان میں سے 4،600 متاثرہ تھے۔

ان کا کہنا تھا، "اس سے پہلے زائرین نے پاکستان-ایران کی سرحد کے قریب، تفتان میں قرنطینہ مراکز میں قیام کیا تھا۔ وہ مراکز معیاری نہیں تھے۔"

چونکہ تفتان میں مکمل سہولیات موجود نہیں تھیں، حکام نے کچھ زائرین کو اپنا قرنطینہ مکمل کرنے کے لیے ڈی آئی خان بھجوا دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا، "زائرین کی اکثریت کے پی اور ملک کے دیگر حصوں میں اپنے آبائی علاقوں کو چلی گئی اور نادانستہ طور پر دوسروں کو متاثرہ بنا دیا۔"

خان نے کہا، "جو افراد پاکستان میں قرنطینہ مراکز سے بھاگے تھے وہ اپنے اپنے علاقوں کے لیے ٹک ٹک کرتے ٹائم بم ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے دوسروں کو متاثرہ بنا دیا۔"

55 سالہ طارق حسین، جو ایران سے ملک بدر کیے گئے زائرین میں سے ایک تھا، نے کہا کہ ایرانی حکام نے زائرین کو بخار، نزلہ، کھانسی اور جسم درد کے لیے ادویات خریدنے کی اجازت نہیں دی؛ اس کی بجائے، حکام نے انہیں گاڑیوں میں لادا اور انہیں سرحد پر بھجوا دیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی

اب یہ امر خاصا واضح ہو گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں حکومتوں میں استعداد کے فقدان کو عیاں کر دیا ہے، بشمول ان ممالک کے جو نہایت مستحکم معیشتیں ہیں لیکن اس مہلک وبا کی انسداد میں قابلِ تحسین یا یہاں تک کہ اطمینان بخش نتائج دینے سے بھی قاصر ہیں۔

جواب

ڈاکٹر بھی کرونا سے لاعلم ہیں۔ اگر وہ دیگر خدمات بند کر رہے ہیں، تو کوئی شخص جسے کینسر ہو، کیسے بچے گا، بچوں کے بارے میں کیا؟ یہ ایک بڑا نقص ہے، ہم کرونا کے خلاف لڑائی میں دیگر مریضوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

جواب

ڈاکٹر بھی کرونا سے لا علم ہیں۔ اگر وہ دیگر سہولیات بند کر دیں گے تو اگر کسی شخص کو کینسر ہو تو وہ کیسے بچ پائے گا، پھر بچوں کا کیا ہو گا؟ یہ ایک بڑا نقص ہے، ہم کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں دیگر مریضوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

جواب