https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/05/feature-01
تعلیم

پاکستان میں آن لائن تعلیم کی استعداد میں مزید ترقی کا مطالبہ

محمّد شکیل

image

اپریل میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے قومی لاک ڈاؤن کے دوران پشاور میں ایک نوجوان شخص گھر پر آن لائن مصروفِ کار ہے۔ [محمّد شکیل]

پشاور – مشاہدین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دورانطلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کی پیشرفت اور نفاذنوجوانوں کو پرامّید اور مصروف رکھنے اور ان کی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کی کنجی ہے۔

ایک تعلیمی تجزیہ کار اور پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری انس تکریم کاکاخیل نے کہا، "دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے طلبہ کو نئی پیش رفت سے لیس کرنے اور اپنے متعلقہ شعبہ جات میں ’تلاش اور جستجو‘ کرنے کی ان کی خداداد صلاحیتوں کو بہتر بنانےکی غرض سے اپنے تعلیمی نظاموں میں آن لائن تعلیم کو متعارف کرایا ہے۔"

انہوں نے کہا، "برطانیہ، امریکہ، چین اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے پہلے ہی سیکھنے کی آن لائن تکنیوں کے لاتعداد فوائد کے پیشِ نظر انہیں اپنے تعلیمی نظام میں شامل کر لیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ملک میں کروناوائرس کے پھیلاؤ کے بعد پیدا ہونے والی ایک بحران جیسی صورتِ حال میں آن لائن تعلیم اور دور کی کلاسز ہی دستیاب انتخاب ہیں۔"

نوجوانوں کو مصروف رکھنا

کاکاخیل نے کہا، "اپنے گھروں تک محدود ہماری نوجوان نسل سب سے زیادہ زدپذیر ہے۔ اس کا تعلیمی عمل منقطع ہے۔ آن لائن تعلیم انہیں مصروف رکھے گی اور معاشرے کے لیے کسی بھی ناپسندیدہ یا ضرر رساں مہم جوئی کا جزُ بننے سے روکے گی۔"

انہوں نے مزید کہا، "آن لائن کلاسز کمرہٴجماعت کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں، لیکن یہ نیا نظام طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے قابلِ ستائش ہے۔"

کاکاخیل کے مطابق، حکومت کو چاہیئے کہ دورافتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی میں پیشرفت پر غور کرے، انہوں نے مزید کہا کہ نوانضمام شدہ قبائلی علاقہ جات میں رہنے والے طلبہ کو ترجیح دینی چاہیئے۔

ضلع کرک میں خوشحال خان خٹک یونیورسٹی میں میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں ایک لیکچرار بصر علی نے کہا کہ آن لائن تعلیم طلبہ کو معاشرتی طور پر مربوط کرنے والی ٹیکنالوجیز سے آگاہ کرے گی جو انہیں اپنی تعلیم کی پیروی کرنے میں مددگار ہوگا۔

مستقبل ’خطرے میں‘

انہوں نے کہا، "معاشرتی ٹیکنالوجیز کی مقبولیت نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچووَل یونیورسٹی [آف پاکستان] جیسے متعدد تعلیمی اداروں کو متاثر کیا ہے۔"

علی نے کہا، "ان جامعات میں طلبہ کا تاریخی بڑھتا ہوا اندراج از خود اس آن لائن نظام کی کامیابی کا ثبوت ہے، جسے اب کروناوائرس سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے تعلیمی بحران میں طلبہ کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "اعلیٰ تعلیمی اداروں کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی جیسے آن لائن تعلیمی اور انتظامی نظام تشکیل دینے چاہیئں۔ بصورتِ دیگر فاصلاتی تعلیم میں طلبہ کے ملوث ہونے کے ہدف کو پورا کرنا نہایت مشکل ہو گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ایسے دسیوں ہزاروں طلبہ کو جلد از جلد آن لائن لایا جانا چاہیئے جن کے مستقبل کروناوائرس کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔"

ایک حفاظتی راستہ

انہوں نے کہا کہ کم ہوتی امّید اور غیر یقینی کی بڑھتی ہوئی سطح چند ایسے عناصر ہیں جو نوجوان نسل میں احساسِ محرومی، پژمردگی اور ذہنی متلون مزاجی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسے عناصر نوجوانوں کے تشدد اور شدت پسندی جیسی ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

علی نے کہا، "ہم پہلے سے نازک تعلیمی نظام کی بحالی کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور انہیں بنیاد پرستی اور سماج مخالف سرگرمیوں سے بچنے کے لیے ایک راستہ فراہم کرنے کی حکومتی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔"

گورنمنٹ ہائیر سیکینڈری سکول پہاڑی پورہ پشاور کے ایک استاد اور کے پی ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی نظامتِ کھیل کے فوکل پرسن احسان اللہ شاہ نے کہا، "اکثر والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے پہلو سے متعلق پریشان ہیں، جونقل و حرکت کی حالیہ پابندیوںاور تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے اپنے گھروں تک محدود ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں ضرررساں رجحانات کی افزائش سے متعلق فکرمند ہیں۔"

انہوں نے کہا، "نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کا جزُ ہونا چاہیئے؛ بصورتِ دیگر تشدد، شدت پسندی اور بعض اوقات عسکریت پسندی جیسی ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ان کے ملوث ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ بنیادی وجوہات ۔۔۔۔ پژمردگی، احساسِ محرومی، متلون مزاجی اور ذہنی تناؤ ہیں۔"

انہوں نے کہا، "آن لائن تعلیم طلبہ کو ان کی معمول کی سرگرمیوں میں ملوث کرے گی اور اس بحران میں ان کے ذہنوں پر ایک منفی تاثر کے لیے ایک حفاظتی راستے کا کام کرے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

انشاء اللہ خان چیزوں کا بہتر طور پر انتظام کریں گے۔

جواب