https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/28/feature-01
سلامتی |

کراچی میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی گرفتاری سے دہشتگردوں کی از سرِ نو گروہ بندی کرنے کی کوششیں ناکام

ضیاءالرّحمٰن

image

22 اپریل کو کراچی پولیس سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے۔ 19 اپریل کو گلستانِ جوہر کے علاقہ میں ایک چھاپہ کے دوران پولیس نے اے کیو آئی ایس کے چار عسکریت پسند ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ [ضیاء الرّحمٰن]

کراچی – کراچی میں القاعدہ سے پیدا ہونے والی ایک مقامی جماعت کے چار مشتبہ ارکان کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی کہا جا رہا ہے جیسا کہ پاکستانی حکام دہشتگردوں کی جانب سے ملک میں از سرِ نو گروہ بندی کی کوششوں کو کچلنے کے لیے کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایس آئی یو کے سنیئر سپرانٹنڈنٹ عرفان بہادر نے کہا کہ کراچی پولیس کے سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) اور وفاقی خفیہ ایجنسیوں نے 19 اپریل کو گلستانِ جوہر کے علاقہ میں ایک مشترکہ چھاپہ مارتے ہوئے برِ صغیر ہند میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) سے تعلق رکھنے والے چار عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے کہا، "گرفتار شدہ عسکریت پسندوں کی شناخت محمّد عمر، محمّد بلال (المعروف فدا)، محمّد وسیم اور محمّد عامر کے طور پر کی گئی۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان چاروں نے افغانستان سے تربیت حاصل کر رکھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار شدہ عسکریت پسندوں نے مستقبل میں پاکستان سٹاک ایکسچینج، شہری عدالتوں اور پولیس تربیتی مرکز سمیت حساس مقامات پر حملوں کےلیے جاسوسی کر رکھی تھی۔

image

22 جنوری کو کراچی میں ایک پولیس تربیتی مرکز میں پولیس تربیت میں شریک ہے۔ جن اے کیو آئی ایس عسکریت پسندوں کو پولیس نے 19 اپریل کو کراچی میں گرفتار کیا، ان پر پولیس تربیتی مرکز اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

انہوں نے کہا، "پولیس نے اسلحہ کا وہ ذخیرہ ضبط کر لیا جو انہوں نے اس بڑے شہر میں دہشتگرد حملے کرنے کے لیے جمع کر رکھا تھا۔"

اے کیو آئی ایس تیزی سے تنزلی کی جانب

عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے کریک ڈاؤننے ملک میں اے کیو آئی ایس کی موجودگی کو بڑے پیمانے پر ختم کیا ہے۔

گزشتہ برس 23 ستمبر کو اے کیو آئی ایس کے سربراہ عاصم عمر کا قتل خطے میں اس دہشتگرد گروہ کے لیے ایک بڑا دھچکہ سمجھا جاتا تھا اور اس سے اس دہشتگرد گروہ کی واپسی کی انسداد کے لیے افغان، پاکستانی اور اتحادی افواج کی مشترکہ کوششیں نمایاں ہوئیں۔

عمر نے 2014 میں اس گروہ کی تشکیل سے اے کیو آئی ایس کی قیادت کی۔

افغانستان کی قومی نظامتِ سلامتی (این ڈی ایس) نے گزشتہ برس 8 اکتوبر کو ٹویٹر پر عمر کی موت کی تصدیق کی، اور مزید کہا کہ اس چھاپے کے دوران اے کیو آئی ایس کے ہلاک ہونے والے چھ دیگر ارکان میں ایک شخص کی شناخت القاعدہ سربراہ ایمن الزواہری کے ایک پیغام رساں کے طور پر ہوئی۔

بہادر نے کہا، "عمر کے قتل کے بعد محمّد حنیف المعروف ضرار کو اے کیو آئی ایس کا نیا سربراہ بنایا گیا۔"

انہوں نے کہا کہ حنیف جو کہ اب افغانستان میں رہتا ہے، اصل میں کراچی سے تعلق رکھتا ہے اور جب وہ شہر میں تھا تو اے کیو آئی ایس نیٹ ورک کے بانیوں میں سے ایک تھا۔

اس گروہ کی تشکیل کے بعد جلد ہی، اے کیو آئی ایس پاکستان میں فعال ہو گیا اور متعدد مقامی عسکریت پسند گروہوں، جو القاعدہ سے نظریاتی وابستگی رکھتے تھے، نے بھی اے کیو آئی ایس سے اتحاد کر لیا۔

اپنے قیام کے چند ہی ماہ بعد، ستمبر 2014 میں اے کیو آئی ایس نے کراچی میں پاکستان بحریہ کے جنگی جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔ اس حملے میں 10 نیم فوجی اہلکار جاںبحق اور 15 زخمی ہوئے، جبکہ نتیجتاً ہونے والی لڑائی میں دو حملہ آور مارے گئے اور ایک تیسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

گزشتہ دو برس کے دوان نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نے اے کیو آئی ایس پر کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے اس کے نیٹ ورک کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔

نومبر 2018 میں کراچی پولیس نے اے کیو آئی ایس کے سربراہ ملزم اور الزواہری کے قریبی ساتھی عمر جلال چانڈیو المعروف کھاتیو کو گلشنِ اقبال کے علاقہ سے گرفتار کر لیا۔ وہ تاحال زیرِ حراست ہے۔

درایں اثناء، گزشتہ جون کراچی پولیس نے ایک مقابلہ میں صوبہ سندھ کے لیےاے کیو آئی ایس کے سربراہ طلعت محمود المعروف یوسف کو اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا۔

پنجاب پولیس کے محکمہٴ انسدادِ دہشتگری (سی ٹی ڈی) نے گزشتہ دسمبر کو گجرانوالہ میں اے کیو آئی ایس کے ایک میڈیا سیل کو پکڑتے ہوئے پانج ایسے اشخاص کو گرفتار رکرلیا جن پر اس دہشتگرد گروہ کے اہم رکن ہونے کا الزام تھا۔

سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کے قبضہ سے میڈیا آلات، مالیات، خودکش جیکٹس، دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود ضبط کر لیا۔

افغانستان اب محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا

پاکستان میں 2014 میں انسدادِ شورش کی کاروائی ضربِ عضب کے آغاز کے بعد اے کیو آئی ایس کے زیادہ تر عسکریت پسند فرار ہو کر افغانستان چلے گئے، جہاں افغان طالبان طویل عرصہ سے القاعدہ رہنماؤں کو پناہ دیتے آئے ہیں۔

لیکن جنوری 2017 میں عمر اور حرکت الجہاد الاسلامی کے سربراہ قاری سیف اللہ جیسے پائے کے سربراہان کی ہلاکت اور دسمبر 2017 میں اے کیو آئی ایس کے سیکنڈ ان کمانڈ عمر خطاب کی ہلاکت ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان اب القاعدہ یا اس کے جنوب ایشیائی ملحقہ گروہ کے لیے پرسکون جنت نہیں رہا۔

مارچ 2019 میں ضلع گیرو، صوبہ غزنی، افغانستان میں ایک عسکری جارحانہ کاروائی میں 30 سے زائد اے کیو آئی ایسعسکریت پسند مارے گئے، جن میں متعدد متوقع خودکش حملہ آور شامل تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے کیو آئی ایس کو ایک اور دھچکہ اس وقت لگا جب فروری میں قطر میں افغان طالبان اور امریکہ نے ایک امن معاہدہ پر دستخط کیے۔

اس معاہدہ کے مطابق، افغان طالبان نے اتفاق کیا کہ وہ کسی بھی فرد یا گرہ، بشمول القاعدہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرہ بننے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکیں گے۔

عسکریت پسند گروہوں پر تحقیق کرنے والے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی منیر احمد شاہ نے کہا، "القاعدہ نے ستمبر 2014 میں خطے میں اے کیو آئی ایس کا آغاز کیا جس کا بنیادی مقصد’عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ‘ (داعش) کا مقابلہ کرنا تھا، جس نے دو ماہ قبل اپنی خراسان شاخ کا آغاز کیا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی تشکیل کے چھ ماہ بعد اے کیو آئی ایس پاکستان اور افغانستان میں تحلیل ہو گئی ہے۔ "اس کے قائدین کے قتل اور گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب یہ خطہ اس کے لیے محفوظ جگہ مہیا نہیں کرتا۔"

اس امر کی ایک اور علامت کہ اے کیو آئی ایس افغانستان اور پاکستان سے رخ موڑ رہی ہے، یہ ہے کہ اس گروہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی اردو اشاعت کا نام "نوائے افغان جہاد" سے بدل کر "نوائے غزوة الہند" رکھ رہا ہے۔

شاہ نے کہا، "اس سے اے کیو آئی ایس کی جغرافیائی نقل مکانی ضاف ظاہر ہوتی ہے، جس نے اب اپنا ارتکاز بھارت اور شورش زدہ خطہٴ کشمیر پر منتقل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی

اچھا کام! مجھے یہ مکالہ پسند آیا

جواب

بہت خوب

جواب