https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/24/feature-02
دہشتگردی

لشکرِ جھنگوی کے مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف تازہ ترین کامیابی ہے

از آمنہ ناصر جمال

image

سندھ رینجرز گزشتہ برس ایک نامعلوم مقام پر دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی کرتے ہوئے۔ [سندھ رینجرز]

کراچی -- سندھ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد گروہ کے خلاف تازہ ترین کارروائی میں لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) سے منسلک دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

صوبائی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور سندھ رینجرز نے 17 اپریل کو کراچی میں ایک مشترکہ کارروائی میں مشتبہ افراد کو سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اور سیاسی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگز میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتاری کے دوران سیکیورٹی فورسز نے اسلحے اور گولیوں کی ایک کھیپ بھی برآمد کی ہے۔

"سندھ رینجرز کے ترجمان کا کہنا تھا، "چھاپہ ایک مخبری ہونے پر مارا گیا تھا، اور گرفتار شدگان کی شناخت سمیع اللہ، عرف ارشد، اور محمد جعفر، عرف برکت کے نام سے ہوئی ہے۔".

image

سندھ رینجرز 17 اپریل کو ایک آپریشن کے دوران برآمد ہونے والے ہتھیاروں اور گولیوں کی نمائش کرتے ہوئے۔ [سندھ رینجرز]]

"ان کا مزید کہنا تھا، "وہ پاکستانی فوج، بحریہ، رینجرز اور پولیس پر حملوں میں ملوث تھے۔"

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے دو ساتھی، "عطاء الرحمان عرف نعیم بخاری (کالعدم تنظیم کا سرغنہ) اور صابر منا عرف بھائی جان، جو تنظیم کے ٹارگٹ کلنگ ونگ کا سربراہ تھا، کو اس سے پہلے گرفتار کر لیا گیا تھا۔".

تمام کے تمام افراد مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھے، جن میں سے ہر ایک کی گرفتاری کی اطلاع دینے پر 5 ملین روپے (31،250 ڈالر) کا انعام تھا۔

جعفر نے مُنا کے حکم پر 13 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے اور فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات پر سات افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اس نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو احمدیہ فرقے کے ارکان، سنہ 2013 میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے کارکن سید لال درویش کی ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے متعلق بتایا۔.

اپنے بارے میں، سمیع اللہ نے کئی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف کیا، جن میں 2015 میں بلدیہ ٹاؤن میں چار رینجرز کی ٹارگٹ کلنگ، 2014 اور 2015 میں پولیس اہلکاروں اور اے این پی کے رہنماؤں ڈاکٹر ضیاء الدین اور حاجی سیف اللہ آفریدی کے قتلوں نیز 2015 میں پاکستانی بحریہ کے افسر سید جعفر رضا کے قتل شامل ہیں۔.

مطلوب دہشت گرد

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (اے آئی جی پی) سی ٹی ڈی سندھ، ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ دونوں ملزمان کراچی پولیس کو مطلوب خطرناک ترین دہشت گردوں میں شامل تھے "کیونکہ وہ تقریباً ایک درجن پولیس اہلکاروں، بہت سے رینجرز، بحریہ کے ایک افسر اور کئی ممتاز شہریوں کے منحوس اور دلیرانہ قتلوں میں ملوث تھے۔"

"انہوں نے کہا، "ان کی گرفتاری صوبائی دارالحکومت میں پولیس والوں کے قتلوں کو کم کرنے میں مدد دے گی اور دہشت گرد تنظیموں کی کراچی میں افراتفری اور سفاکانہ قتل کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچائے گی۔"

احمد نے کہا کہ صوبے میں عمومی طور پر اور شہر میں خصوصی طور پر امن کو یقینی بنانے کے لیے باقی ماندہ فعال دہشت گردوں کی گرفتاری کی کوششیں جاری رہیں گی۔ "ان سے اور دیگر گرفتاریوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک شدید کمزور ہو گئے ہیں۔"

"کراچی کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار، بریگیڈیئر حامد عثمان نے کہا، "مطلوب دہشت گردوں کا سراغ لگانا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ثابت ہو گا۔ ایک مسلسل کریک ڈاؤن نے فرقہ وارانہ حملوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کے مخبری کی بنیاد پر آپریشنوں اور شمالی وزیرستان ایجنسی میں آپریشن ضربِ عضب بدنامِ زمانہ عسکری گروہوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ایسی مشترکہ کارروائیاں دنیا کو ایک بھرپور پیغام دیتی ہیں اور عسکریت پسندوں کو بھی کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہی ہیں اور عسکریت پسندی کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

شاندار مکالہ

جواب