https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/08/feature-01
دہشتگردی

ٹی ٹی پی کے دبنگ نقاد کا بم دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد صحتیاب ہونے پر جنگ جاری رکھنے کا عزم

از حنیف اللہ

قبائلی ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک عمائد اور تحریکِ طالبان پاکستان کے سخت مخالف، مولانا گُل داد خان جنوری 2019 میں ضلع باجوڑ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے۔ گُل داد جون 2019 میں ایک بم حملے میں زخمی ہو گئے تھے اور اب زخموں سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ [حنیف اللہ]

خار -- مولانا گُل داد خان، جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے دبنگ نقاد ہیں، گزشتہ برس ایک بم حملے میں لگنے والی چوٹوں سے صحتیاب ہونے کے بعد ابھی بھی عسکریت پسندوں کے خلاف بول رہے ہیں۔

65 سالہ خان گزشتہ جون میں ناواگئی، ضلع باجوڑ میں اپنی رہائش گاہ کے قریب ایک بم دھماکے میں دیگر پانچ افراد کے ساتھ زخمی ہو گئے تھے۔ ان کے ذاتی محافظوں میں سے ایک، فضل ہادی، بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔

نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں، خان ان چند دینی قائدین میں سے ایک ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کی مخالفت اور پولیو ویکسین کی حمایت کی ہے۔

2 اپریل کو خان نے کہا، "میں ہمیشہ انہیں تحریکِ طالبان کی بجائے تحریکِ ظالمان کہتا ہوں اور ان کی جانب سے حملوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔"

image

مولانا گُل داد خان 29 مارچ کو اپنی تلوار کے ساتھ تصویر بنواتے ہوئے۔ [حنیف اللہ]

image

مولانا گُل داد خان (بیٹھے ہوئے)، 28 جنوری کو ناواگئی کے علاقے میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک مہم کے افتتاح کے بعد دیگر کے ہمراہ دعا مانگتے ہوئے۔ [حنیف اللہ]

image

ایک صحافی اس گاڑی کی تصویر کھینچتے ہوئے جو عسکریت پسندوں نے 17 جون کو ضلع باجوڑ میں اس وقت تباہ کی تھی جب انہوں نے مولانا گُل داد خان کو نشانہ بنایا تھا۔ وہ زندہ بچ گئے تھے۔ [حنیف اللہ]

ان کا کہنا تھا، "میں نے ٹی ٹی پی کو مناظرے کا چیلنج کیا ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ غلط ہیں اور اسلام کے نام پر بے گناہ لوگوں کو مار رہے ہیں۔ اسلام کے متعلق ان کے نظریات غلط ہیں، اور اگر وہ پاکستان میں کہیں بھی مناظرے کے لیے تیار ہوں تو میں یہ ثابت کر سکتا ہوں۔"

دسمبر 2007 میں ناواگئی میں ٹی ٹی پی کے ہاتھوں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک جوان کی ہلاکت کے بعد خان کافی مشہور ہو گئے تھے۔

اگرچہ ٹی ٹی پی نے دھمکی دی تھی کہ کوئی بھی فرد جوان کی لاش کو نہ اٹھائے، خان نے لاش نکالی اور اسے سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔

اس کے بعد سے، عسکریت پسندوں نے خان، ان کے اہلِ خانہ اور ان کے ساتھیوں کو 17 مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔ حملوں میں خان کے پانچ رشتہ داروں سمیت، نو افراد جاں بحق اور 22 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

جاں بحق ہونے والوں میں امین اللہ خالد، خان کا ایک بیٹا شامل ہے، جو مئی 2015 میں ایک بم حملے میں جاں بحق ہو گیا تھا۔

خان خود بھی دو مرتبہ زخمی ہوا، پہلی بار مارچ 2009 میں جب عسکریت پسندوں نے اس کے گاؤں اور گھر پر حملہ کیا تھا۔

خان نے کہا، "میں انہیں تحریکِ ظالمان کہتا ہوں کیونکہ وہ بے گناہوں اور سیکیورٹی فورسز کے قاتل ہیں، اور کیونکہ وہ اسلام کے نام پر معصوموں کو بے وقوف بناتے ہیں۔"

خان کا کہنا تھا، "عسکریت پسندوں کی جانب سے حملوں کے باوجود میں اپنا مشن جاری رکھوں گا، اور میں اپنے جسم میں خون کے آخری قطرے تک ٹی ٹی پی کے خلاف آواز بلند کروں گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "میں باجوڑ میں ہی رہوں گا اور جب تک زندہ ہوں اپنی جنگ جاری رکھوں گا۔"

امن میں ایک کلیدی کردار

باجوڑ کے ایک مقامی بزرگ، شیخ جہاں زادہ نے کہا، "گُل داد نے امن کی بحالی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، اور اس نے خطے میں امن کی بحالی میں ہمیشہ سیکیورٹی فورسز کی حمایت کی ہے، کیونکہ عسکریت پسندی کے زمانے میں کوئی بھی سیکیورٹی فورسز کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔"

جہاں زادہ نے کہا، "ریاست کو چاہیئے کہ امن کے لیے اس کی اور اس کے جانبازوں کی قربانیوں کے لیے اسے صدارتی ایوارڈ سے نوازے۔"

انہوں نے کہا، "ہم اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں کیونکہ جنگ کا ہمارے معاشرے اور زندگی پر بہت بُرا اثر پڑا ہے۔"

ضلع باجوڑ کے علاقے ناواگئی کے ایک مقامی عمائد، ملک ظاہر نے کہا کہ خان نے ایک ایسے وقت میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی حمایت کیجب ٹی ٹی پی عروج پر تھی اور کوئی بھی عسکریت پسندوں کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا، "سیکیورٹی فورسز کے لیے اس کی بھرپور معاونت کی وجہ سے، اس کے بہت سے دوستوں اور خاندان کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔"

ظاہر کا مزید کہنا تھا، "گُل داد خان قبائلی اضلاع کا واحد دینی رہنماء ہے جس نے ٹی ٹی پی کو مناظرے کے لیے للکارا ہے اور واحد رہنماء ہے جو انہیں تحریکِ ظالمان کہتا ہے۔"

ظاہر کے مطابق، خان نے 2010-2009 میں باجوڑ میں امن ریڈیو نامی ایف ایم ریڈیو چینل پر بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی آپریشن شیردل کی مکمل حمایت کی جس میں سامعین کو ٹی ٹی پی کے منفی اثرات کے متعلق آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا، "گُل داد خان کی تقاریر نے سیکیورٹی فورسز کے لیے راہ ہموار کی۔۔۔ [جنہوں نے] گُل داد کی حمایت کے بعد باآسانی ٹی ٹی پی کو شکست دی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 5
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

گلداد خان ایک ایک داستان ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔

جواب

امن کیلئے مولانا گلداد خان کے شاندار خدمات ہیں۔ مولانا گل داد خان نے ایک ایسے وقت میں حکومت کا ساتھ دیا جب حکومت مشکل میں تھی تو صرف گلداد خان تھے جس نے حکومت کا ساتھ دیا اور ٹی ٹی پی کو کھلم کھلا چیلنج کیا۔ حکومت کو چاہئے کہ مولانا گلداد خان کو صدارتی ایوارڈ سمیت دیگر اعزازات سے نوازے ۔

جواب

واقعی مولانا گل داد خان ایک نہ ڈر اور زیرک شخصیت ہے۔وہ کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار شخصیت ہے۔اگرچہ ابتداء میں موصوف واقعی ٹی ٹی پی کا ہی حصہ تھا اور اپنے جوشیلے تقاریر کے حوالہ سے اون دنوں بے حد مشہور ہوا تھا۔جس طرح وہ آج دبنگ اور بہ بانگ دہل بات کرتا ہے ۔پہلے بھی کیا کرتا تھا۔ٹی ٹی پی کا پہلا عالم و فاضل شخصیت گل داد خان ہی تھا جس نے سال دو سال بعد بھانپ لیا کہ تحریک کا ایجنڈا اسلام اور ملک سے متضاد ہے ۔یہ سمجھتے ہی مولانا نے بہ بانگ دہل ٹی ٹی پی سے راستے الگ کردئیے اور ایسا بھی نہیں کہ خاموش تماشائی بھیٹ کر اپنے اپ کو ایک طرف کردیا بلکہ مرد اہن کی طرح طاقتور ترین مسلحہ تحریک کو تن تنہا کھلم کھلا چیلنج کیا جو ان دنوں نہایت دلیری اور جان کو ہتھیلی میں رکھنے کی مترادف تھا تاہم خطرات کے عادی اس شخصیت نے حوصلہ نہیں ہارا اور اب تک فولادی دیوار کی مانند کھڑا ہے۔باوجود یہ کہ کئی بار نشانہ بنا ۔کئی عزیزوں نے مولانا کا ساتھ دینے پر جان بھی دے ڈالیں ہیں۔دیکھا جائے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مولانا گل داد خان پورے ٹرائبل بلٹ کا بطور غازی ڈیکلیئر کرکے صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے۔

جواب

ہاں، گلداد خان باجوڑ اور میرگید اضلاع کا ہیرو ہے۔ ریاست کو دہشتگردی کے خلاف ان کی رضاکارانہ خدمات کے صلہ میں انہیں صدارتی اعزاز سے نوازنا چاہیئے۔

جواب

دلیروں کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیئے

جواب