https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/23/feature-04
صحت

انفیکشن میں اضافہ مگر ایران نے کورونا وائرس سے جنگ کے لیے امریکی امداد مسترد کردی

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

image

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، 22 مارچ کو نشر کیے جانے والے خطاب میں قوم سے بات کر رہے ہیں۔ [ارنا]

متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے اس کی غیر دانش مندانہ پالیسیوں کے باعث عالمی صحت کے لیے خطرے کا مرکز بن جانے کے باجود، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اتوار (22 مارچ) کو کہا کہ ان کا ملک نوول کروناوائرس سے جنگ کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں امریکہ سے امداد قبول نہیں کرے گا۔

وزارتِ صحت نے پیر (23 مارچ) کا کہا کہ ایران ان ممالک میں سے ایک ہے جو اٹلی، سپین اور چین کے ساتھ کوویڈ ۔19 کی بیماری سے انتہائی زیادہ متاثر ہوا ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد باضابطہ طور پر بڑھ کر 1،812 ہو گئی ہے۔

وزارت کے ترجمان کیانوچے جہاں پور نے کہا کہ گزشتہ جوبیس گھنٹوں کے دوران 1،411 سے زیادہ نئے کیسوں کا مطلب ہے کہ 23،049 افراد ابھی تک اس وائرس کے لیے پازیٹیو ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے 29 فروری کو کہا کہ واشنگٹن ایران کی اس وائرس سے جنگ میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے اگر اس کے راہنما اس کی درخواست کریں۔

image

ایرانی کابینہ کے ایک مایوس رکن کو، تہران میں 18 مارچ کو صدر حسن روحانی سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [ارنا]

ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے خطاب میں خمینی نے امریکہ کی تجاویز کو مسترد کر دیا اور سازش کا ایک نظریہ پھیلایا کہ امداد کی پیشکش دراصل ایران میں وائرس کے بحران کو سنگین بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا کور اپ ہے۔

ایران، چین روسکی طرح، وائرس کے بارے میں مسلسل ایسے سازشی نظریات پھیلاتا رہا ہے جس سے وہ جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے سے زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

امریکہ کے سیکٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے پیر (23 مارچ) کو خامنہ ای کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے "جھوٹ" دنیا کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

خامنہ ای امداد کو قبول کرنے کی بجائے، ملک کی امیدوں کو ایمان پر ڈال دیا ہے۔

انہوں نے ایرانی شہریوں کو مشورہ دیا کہ "ہر کسی کو اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے حکام کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے"تاکہ "اللہ تعالی اس تباہی کو ایرانی شہریوں، تمام مسلمان ممالک اور ساری انسانیت کے لیے ختم کر دے"۔

تاہم، ایرانی حکام پر اعتماد ہمشیہ کے مقابلے میں اور بھی کم ہو گیا ہے۔

مشکوک اعداد و شمار

ایران میں اس بیماری کے پھیلنے کے بعد سے،ایرانی حکومت کی طرف سے عوام کو درست معلومات مہیا کرنے میں شفافیت کے نہ ہونے کے باعث، بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کا بے قابو ہو جانا ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود، ایران نے تنہائی کے اقدامات کو لاگو نہیں کیا جنہیں کہ تقریبا باقی سب ملکوں نے نافذ کیا ہے۔

خاص طور پر، نئے کیسوں اور اموات کی تعداد، ان ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے جنہوں نے اس وائرس کو کنٹرول کرنے کے اس سے زیادہ سخت اقدامات نافذ کیے ہیں۔

مثال کے طور پر، اٹلی جس نے نقل و حرکت پر انتہائی سخت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں، میں حیران کن تعداد سامنے آ رہی ہے اور 800 ہلاکتیں اور ہر روز 5،000 نئے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

دیگر تفصیلات سے شک ہوتا ہے کہ تہران سے آنے والے باضابطہ اعداد و شمار، سچائی کو بے شرمی سے کم کر کے بتا رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، ایران کی ہلال احمر نے جمعہ (20 مارچ) کو کہا کہ 17 مارچ سے لے کر اب تک، وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں سے تین لاکھ شہری بھاگ چکے ہیں جس سے ملک کے دوسرے حصوں میں یہ وائرس ممکنہ طور پر پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔

وزارتِ صحت کے ترجمان جہاں پور، نے انہیں "اقلیت جو گائڈ لائنز پر عمل نہیں کر رہی" قرار دیا۔

سیٹلائٹ تصاویر اور زمین پر بنائی جانے والی ویڈیوز سے آشکار ہوا ہے کہ ایرانی حکام قم میں 100 میٹر لمبے گڑھے کھور رہے ہیں جو کہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی اجتماعی قبروں کے طور پر استعمال کیے جائیں گے۔

حکومت کے دیگر بیانات نے ایرانی حکومت کے ادراک کے مسائل میں مدد نہیں کی ہے۔

صدر حسان روحانی نے گزشتہ ہفتے نشر کیے جانے والے بیان میں کہا کہ "کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ حکومت مداخلت کیوں نہیں کر رہی مگر ہمارا خیال ہے کہ ہم نے قابلِ قدر طور پر مداخلت کی ہے"۔

انہوں نے چہروں پر ماسک پہنے ہوئے وزرا کے ساتھ کہا کہ "بہت زبردست کام کیے گئے جو کسی اور ملک نے نہیں کیے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

ایسا لگتا ہے کہ آپ امریکی بلاک کے پروموٹر ہیں .. مضمون میں غیرجانبدار نقطہ نظر کی کمی ہے .... تحریر کا ناقص ٹکڑا

جواب