https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/16/feature-02
سلامتی

تین سال بعد بھی، آپریشن ردِ الفساد پنجاب میں تشدد کو کم کر رہا ہے

عبدل ناصر خان

image

سیکورٹی فورسز 13 مارچ کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سیکورٹی فراہم کر رہی ہیں جہاں پاکستان سُپر لیگ میچ ہو رہے ہیں۔ [عبدل ناصر خان]

لاہور -- سیکورٹی کے حکام اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آپریشن رد الفساد، جو کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے تین سال پہلے شروع ہونے والی کوشش ہے، صوبہ پنجاب میں تشدد کو قابلِ قدر حد تک کم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس آپریشن کا آغاز فروری 2017 میں کیا گیا تھا تاکہ ضربِ عضب جسے 2014 میں مشترکہ عسکری مہم کے طور پر شروع کیا گیا تھا، سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کیا جا سکے۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی طرف سے اس وقت جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ رد الفساد کا مقصد -- جس کا ترجمہ "اختلافات کا خاتمہ کرنا" کے طور پر کیا جا سکتا ہے -- کا مقصد غیر امتیازی طور پر "دہشت گردی کے بقایا مخفی خطرات کا خاتمہ کرنا، دوسرے عسکری آپریشنز میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنا اور پاکستانی سرحدوں کی سیکورٹی کو مزید یقینی بنانا ہے۔

پنجاب پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) رائے طاہر نے کہا کہ "آپریشن رد الفساد سے پہلے اور بعد میں پنجاب میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تعداد میں بہت زیادہ فرق ہے"۔

image

سیکورٹی فورسز 13 مارچ کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سیکورٹی فراہم کر رہی ہیں جہاں پاکستان سُپر لیگ میچ ہو رہے ہیں۔ [عبدل ناصر خان]

طاہر نے کہا کہ "2014 سے 2017 کے دوران 120 سے زیادہ تشدد کے واقعات رپورٹ کیے گئے تھے مگر آپریشن رد الفساد ( 2017 سے 2020) کے دوران یہ تعداد کم ہو کر 12 ہو گئی"۔

طاہر کے مطابق، 2014 میں دہشت گردی سے متعلقہ تشدد کے 43 واقعات ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں 2019 میں صرف چار واقعات ہوئے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ صوبہ میں، گزشتہ تین سالوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے عملے کے 41 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں کہا کہ "یہ سب سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے باعث ہوا ہے جنہوں نے صوبہ میںدہشت گردی اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں"۔

طاہر نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ پانچ سو دہشت گردوں کو سزا دی گئی کہا کہ آپریشن رد الفساد کے دوران، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبہ بھر میں تقریبا 5،000 سیکورٹی کے آپریشن سر انجام دیے جس سے 123 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 1،000 سے زیادہ کو گرفتار کیا گیا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سٹی میڈیا گروپ کے چیف کرائم رپورٹرعرفان ملک نے کہا کہ "پنجاب میں، سیکورٹی فورسز -- خصوصی طور پر پولیس اہلکار -- دہشت گردوں کا مرکزی ہدف رہے ہیں اور پنجاب پولیس کو بہت سے افسران کی قربانی دینی پڑی جن میں میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) احمد مبین اور سینئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) زاہد نواز گوندل بھی شامل ہیں جنہیں لاہور میں 13 فروری 2017 کو خودکش دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا"۔

ملک نے کہا کہ "سیکورٹی فورسز جن میں رینجرز اور سی ٹی ڈی کے اہلکار بھی شامل ہیں، سارے صوبہ پنجاب میں، دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کے سلیپر سیلوں کو توڑنے میں کامیاب رہے ہیں"۔

جیسے جیسے امن واپس آ رہا ہے اس کے ساتھ ہی کھیلوں کی بین الاقوامی تقریبات کی واپسی بھی ہو رہی ہے جو کہ سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال کی علامت ہے۔

مثال کے طور پر عالمی کبڈی چیمپین شپ جو فروری میں نہ صرف لاہور میں بلکہ فیصل آباد اور گجرات میں بھی منعقد ہوئی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار شہریار وڑائچ نے کہا کہ"دہشت گردی کی سرگرمیوں میں کمی اور کھیلوں کے حالیہ میچوں کا انعقاد اس بات کی نشانی ہے کہ ردالفساد ملک بھر میں کامیاب رہا ہے"۔

وڑائچ نے کہا کہ "یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے سارے میچ پاکستان میں منعقذ ہو رہے ہیں اور کرکٹ کے کسی بین الاقوامی کھلاڑی نے پاکستان کی سر زمین پر کھیلنے سے اس بار انکار نہیں کیا ہے جو کہ ایک بہت اچھی علامت ہے"۔

انہوں نے پاکستان کی طرف سے انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی جس کا آغاز دسمبر 2014 میں کیا گیا تھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "علاوہ ازیں، یہ اجاگر کرتا ہے کہ این اے پی (نیشنل ایکشن پلان) یقینی طور پر نتیجہ خیز نتائج دے رہا ہے اور معاشرے میں مستحکم امن کو یقینی بنا رہا ہے"۔

وڑائچ نے مزید کہا کہ "بلاشبہ حکومت نے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے میں ردالفساد کے ذریعے کچھ اچھے نتائج حاصل کر لیے ہیں۔ بہرحال ہمیں ملک میں مستحکم امن حاصل کرنے کے لیے کچھ محتاط طریقوں کو نافذ کرے کی ابھی بھی ضرورت ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

دهشت. گردي. كےپ يچہےوردي.

جواب