صحت

کرونا وائرس کے وبا بننے میں اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں چین سازشیں پھیلا رہا ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

چین سے شروع ہونے والی وبا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو آہستہ کرنے کی ایک کوشش میں مارچ کے وسط میں ایک کارکن تہران کی گلیوں میں دوا چھڑک رہا ہے۔ [اصغر خامسیح/IRNA]

چین وائرس کے آغاز سے متعلق نظریہ ہائے سازش کو فروغ دے کر دنیا بھر میں کرونا وائرس وبا کے پھیلاؤ میں اپنے کردار پر ہونے والی تنقید کا رخ موڑنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

ان الزام آموز نظریہ ہائے سازش کا پھیلاؤ چین کے عوام کی جانب سے نہیں بلکہ حکومتِ چین کے اعلیٰ ترین عہدوں کی جانب سے ہو رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاؤ لِنژان نے چینی اور انگریزی ٹویٹس میں رائے دی کہ ہوسکتا ہے کہ اس عالمی وبا کا "پہلا مریض" امریکہ سے آیا ہو – نہ کہ چینی شہر وُوہان سے، جہاں 2019 کے اواخر میں پہلے کیسز کی اطلاع ملی۔

ژاؤ، جو کہ سوشل میڈیا پر اپنے اشتعال انگیز بیانات کے لیے معروف ہیں، نے ٹویٹ کیا، "ہو سکتا ہے کہ امریکی فوج اس وبا کو وُوہان لائی ہو۔ شفاف رہیں! اپنے اعدادوشمار عام کریں! امریکہ کو ہمیں وضاحت دینی ہے۔"

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے ژاؤ کے پراشتعال بیانات کے بعد انہیں "نامعقول" سمجھتے ہوئے، 13 مارچ کو چین کے سفیر کو طلب کیا۔

محکمہٴ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا، "چین ایک عالمی وبا کا آغاز کرنے اور دنیا کو نہ بتانے میں اپنے کردار پر تنقید کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

اہلکار نے کہا، "نظریہ ہائے سازش پھیلانا خطرناک اور نامعقول ہے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے تھے کہ ہم چینی عوام اور دنیا کی بہتری کے لیے اسے برداشت نہیں کریں گے۔"

سائنسدانوں نے وسیع پیمانے پر دعویٰ کیا کہ یہ وبا وُوہان میں ایک مارکیٹ سے شروع ہوئی جہاں عجیب و غریب جانور انسانوں کے کھانے کے لیے فروخت کیے جاتے تھے۔

امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے اس وبا پر ایک ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کرنے کے لیے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چین کے اس نظریہٴ سازش کی بھی تردید کی۔

ٹرمپ نے کہا، "وہ جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آئی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آئی،"

کیمیونسٹ جماعت کی ریاست کے لیے غلط معلومات پھیلانا کوئی نئی ترکیب نہیں۔ بطورِ خاص امریکہ اکثر چین کی پراپیگنڈا کی کوششوں کی ناکامی کی جگہ رہا ہے۔

شدید نظریہ ہائے سازش

اب تک 5,300 افراد کی ہلاکت اور 140,000 کے متاثر ہونے کے ساتھ، جیسے جیسے ناول کروناوائرس شدید طور پر اثرانداز ہو رہا ہے، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر نظریہ ہائے سازش زیرِ گردش ہیں۔

گزشتہ ماہ یہ انکشاف ہوا کہ روس سے متعلقہ ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے کروناوائرس سے متعلق نظریہ ہائے سازش پھیلانے کے لیے مربوط کوشش کا آغاز کیا ہے، جن میں یہ رائے دی گئی کہ COVID-19 کے وبا بننے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔

روسی غلط معلومات کا مقابلہ کرنے پر معمور امریکی حکام نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر جعلی شخصیات کثیر زبانوں میں روسی نکاتِ نظر کو فروغ دے رہے ہیں۔

مزید برآںعوام کو درست معلومات پہنچانے میں حکومتِ ایران کی ناکامیپر بین الاقوامی خدشات بڑھ رہے ہیں، جیسا کہ ملک میں کرونا وائرس کی بے قابو وبا ہمسایہ ممالک اور اس سے بھی آگے باعثِ خدشہ ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

چین جو مرضی کہے ،یه کتایاپه هے چین کا هی

جواب

چین ایک معاشی ریچ بنگیا ہے دنیاں میں اسکی غلطی نہیں ہے سازش ١٠٠% اور امریکہ امریکہ نے اس پر کئ فلم بنائ ہیں جیسا کہ ہم بچپن سے سیف گارڈ کے کارٹون وہ اسی طرح اٹیک کرتا ہے چھینک آنے پر اور نزلہ پر جیسکا کے یہ کارٹون بھی usa ک ہے

جواب

بی بی سی اور سی این این دشمنانِ امریکہ کے خلاف پراپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے میں پیش پیش ہیں، دنیا جنگِ عراق کی قسطوں کی شاہد ہے۔ جہاں امریکی میڈیا بڑے پیمانے پر تباہی کی ویڈیوز اور دستاویزی فلمیں پھیلا رہا تھا اور حملے کے لیے سٹیج تیار ہو گیا۔ ٹونی بلیئر اور بُش نے عراق کی حکومت، بنیادی ڈھانچے، تہذیب کو تباہ کرنے اور دسیوں لاکھوں معصوم لوگوں کو قتل کرنے کے بعد معافی مانگ لی۔

جواب

یہ اسرائیل اور امریکہ نے بنایا ہے

جواب

کہیں نہ کہیں غلطی چین کی بھی ہے

جواب

اسرائیل اور امریکہ کیوں محفوظ ہیں

جواب

جی نہیں امریکہ اور اسرائیل میں اس وقت ہلاکتوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کا میڈیا بتاتا نہیں

جواب

Ya ALLAH tala k taraf say hai tubha karo astgfar kro

جواب

اس وبا کا ذمداری امریکہ اور اسرائیل پر ہیں

جواب

غلط چین نهیں اس وبا کے زمه دار اسرایل اور امریکه هیں

جواب

امریکہ نے چین کی اکانومی کو گرانے کے لیے یہ وائرس پهیلايا لیکن وہ خود بھی اس جال میں پھنس گیا جبھی تو انٹی وائرس بھی انہوں نے نکال لی

جواب

میرے خیال میں ابھی تک تو انٹی وائرس ایجاد نہیں ہوا ہے۔۔

جواب

Beshak yeh amercs ki sazish lagti hai

جواب

Ye america ki hi peda ki hui chez ha

جواب

چلیں اگر چند لمحات کے لئے یہ تصور کر بھی لیا جاۓ کے امریکا نے یہ وائرس چین میں پھیلایا ہے تو اس امر کو کہاں رکھیں جو چین والے غلیظ جانوروں کو کھاتے ہیں اس بات کا قوی یقین ہے کے غلاظت کھانے سے یہ پیدا ہوا

جواب

Ya virus koi technology nahe hay to America taliban ko shikast day dayta Russia America ko China Europe ko ya allah ka azab hay

جواب

یہ امریکا ہی ہوسکتا کیونکہ یہ ملک انسانیت کیلئے بڑا خطرہ ہے عرق افغانستان شام میں امریکا نے ہزاروں افراد شہید کئے

جواب

میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ یہ امریکہ کا پھیلایا ہوا ہے ۔

جواب