https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/12/feature-01
سلامتی |

انسدادِ بنیاد پرستی ایپس آگاہی پھیلانے کے لیے یوٹیلیٹی بلوں کو استعمال کر رہی ہیں

محمد شکیل

image

فروری میں، پشاور کا ایک شخص گیس کا ایک بِل پڑھ رہا ہے جس پر انڈروئڈ کی ایک ایپ کا اشتہار دیا گیا ہے جو انتہاپسندی کے بارے میں آگاہی پھیلاتی ہے۔ [محمد شکیل]

پشاور -- پاکستانی حکام گیس کے یوٹیلیٹی بِلوں کو انتہاپسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

حالیہ بِلوں کی پشت پر چوکس کے اشتہارات چھپے ہیں جو کہ انڈروئڈ ایپ ہے جسے قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) اور سرفسیف ویب پورٹل نے بنایا ہے۔

یہ دونوں، پاکستانی شہریوں کو مادی اور آن لائن دونوں قسم کے انتہاپسند مواد اور نفرت انگیز تقریر کی خبر دینے کے قابل بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

image

فروری میں لی گئی ایک تصویر ایسا بلِ دکھا رہی ہے جس میں انتہاپسندی کے بارے میں آگاہی پھیلانے والی انڈروئڈ ایپ کا اشتہار چھپا ہے۔ [محمد شکیل]

یہ اشتہارات جو وصول کنندگان کو "انتہاپسندی سے انکار کرنے" کے لیے کہتے ہیں، کا مقصد بنیاد پرستی کے خلاف حکومت کی کوششوں میں شہریوں کو شامل کرنا ہے۔

سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹیڈ (ایس این جی پی ایل) جو کہ ان نئے بِلوں کو استعمال کرنے والی ایک کمپنی ہے، کے ایک گمنام اہلکار نے کہا کہ "چوکس ایپ کا مقصد ہر ایک شخص کو انتہاپسندی کے خلاف متحرک کرنا ہے اور انہیں ایک ایسا آسان ذریعہ فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ حکام کو آگاہ کر سکیں"۔

انہوں نے کہا کہ "بڑے پیمانے پر شروع کی جانے والی آگاہی کی اس مہم کے بنیادی مقاصد عام لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرنا اور محفوظ طریقے سے حکام تک معلومات فراہم کرنے کو آسان بنانا ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایس این جی پی ایل کے 6.5 ملین صارفین میں سے آدھے بھی، صیح طریقے سے یہ سیکھ گئے کہ انتہاپسندی کی اطلاع حکام کو کیسے دینی ہے تو "یقینی طور پر صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی"۔

اہلکار نے کہا کہ "عوامی آگاہی کی مہم حکومت کی ضروریات کو پورا کرتی ہے جو عوام کو بڑے پیمانے پر چوکنا کرنا چاہتی ہے اور انتہاپسندوں کی طرف سے پروپیگنڈا کی کسی کوشش کے خلاف ان کی مدد حاصل کرنا چاہتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے خطرے نے حکام کو آگاہی کی مہم غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے پر مجبور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اس مہم کے میڈیا سپانسرز میں نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس، پاکستان پوسٹ، سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن لمیٹیڈ شامل ہیں۔ ان تمام شرکت داروں کی اس نیک مقصد میں شمولیت کے یقینی طور پر نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ بنیادی سطح پر موجود لوگ اس کا مرکزِ نگاہ ہیں"۔

بہتر نتائج

خیبرپختونخواہ (کے پی) حکومت کے ترجمان محمد شہزاد نے کہا کہ "کسی بھی ابلاغی مہم کی کامیابی مکمل طور پر اس اثر پر منحصر ہوتی ہے جو وہ قارئین یا دیکھنے والوں کے ذہن پر مرتب کرتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ایسی مہم جو قارئین کے ذہن پر دیرپا اثرات مرتب کرنے کے قابل ہو، قلیل مدت کی تقریبات کے مقابلے میں زیادہ بہتر نتائج پیدا کرے گی"۔

شہزاد نے کہا کہ "یوٹیلیٹی بلوں کی عمر، تقریبات جیسے کہ سیمیناروں کے مقابلے میں بہت طویل ہوتی ہے جن میں شرکاء اکثر اختتامی سیشن کے بعد موضوع کو ہی بھول جاتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عوامی آگاہی کی مہمات اور سماجی برائیوں جیسے کہ انتہاپسندی، عسکریت پسندی، منشیات کے استعمال اور بدعنوانی کے بارے میں لوگوں کی سوچ کو بدلنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے میں استقامت اور مستقل مزاجی ان عناصر میں سے ہیں جنہیں ترجیح دی جانی چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ "یوٹیلیٹی بلِوں کو ہمیشہ قابلِ رسائی جگہ پر رکھا جاتا ہے۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ خاندان کا کم از کم ایک شخص اسے پڑھے گا اور ہر نئے بل کے آنے سے اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ کوئی دوسرا رکن بھی اسے پڑھے گا"۔

پشاور کے ایک بینک منیجر عمر خٹک نے کہا کہ "معلومات کی ترسیل کے لیے ایک مختلف طریقہ کار استعمال کرنا عقلمندانہ کوشش ہے کیونکہ یوٹیلیٹی کے بِل تقریبا ہر گھر میں تقسیم ہوتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "میں خود یوٹیلیٹی بِل کے ہر حصے کو پڑھتا ہوں اور بِل جمع کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے صارفین کو بار بار اپنے بِل پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے"۔

خٹک نے کہا کہ "حکام آگاہی کی ایسی مہمات جو معاشرے کے کچھ مخصوص حصوں کے گرد گھومتی ہیں کے مقابلے میں بہتر نتائج کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یوٹیلیٹی بِل حکام کو عوام تک براہِ راست اور آسان رسائی فراہم کرتے ہیں"۔

محمد اقبال جو کہ کے پی اسمبلی میں کام کرتے ہیں، نے کہا کہ "عوامی آگاہی کی اس مہم کے ذریعے، میرے کالج جانے والی عمر کے دو بچوں کو انتہاپسندی کے خطرات کے بارے میں واضح تصور مل گیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "کسی بھی قوم کا مستقبل نوجوان نسل پر منحصر ہوتا ہے"۔

اقبال نے کہا کہ "اس مہم نے انتہاپسندی کے بارے میں میرے بچوں کے شکوک کو ختم کیا اور انہیں اس معاملے میں وضاحت فراہم کی جو کہ ہمارے معاشرے کی موجودگی کے لیے ایک منڈلاتا ہوا خطرہ ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی