https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/10/feature-02
سائنس و ٹیکنالوجی

پشاور میں ورک اراؤنڈ سہولت کے پی کے نوجوانوں کے لیے ملازمتیں فراہم کر رہی ہے

دانش یوسفزئی

image

وزیرِ اعلیٰ کے پی کے مشیر برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی زین اللہ بنگش (دائیں) اور حکومتِ کے پی کے دیگر حکام 20 فروری کو پشاور میں ورک اراؤنڈ کا دورہ کر رہے ہیں۔ [دانش یوسفزئی]

پشاور – خیبر پختونخوا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے ملک کی پہلی سرکاری ملکیتی بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) سہولت تشکیل دی ہے۔

یہ اقدام کئی برسوں تک کے پی کو جنگ اور غربت میں مبتلا رکھنے والی دہشتگردی سے بحالی میں مزید پیش رفت کی علامت ہے۔

ورک اراؤنڈ کے نام سے معروف اس سہولت کا افتتاح 20 فروری کو ہوا۔

اس کا ارتکاز کثیر بلین ڈالر بی پی او صنعت پر ہے، جس میں کاروبار سے متعلقہ متعدد سرگرمیوں کا کانٹریکٹ فریقِ ثالث وینڈرز کو دیا جاتا ہے۔

image

25 فروری کو ایک سیلز ریپریزنٹِٹیو پشاور میں ورک اراؤنڈ میں کام کر رہا ہے۔ [دانش یوسفزئی]

image

25 فروری کو ایک سیلز ریپریزنٹِٹیو پشاور میں ورک اراؤنڈ میں کام کر رہا ہے۔ [دانش یوسفزئی]

ورک اراؤنڈ کے پراجیکٹ مینیجر سعد جاوید نے کہا کہ ورک اراؤنڈ بڑے قومی اور بین الاقوامی بی پی او آپریٹرز کی میزبانی کر رہا ہے اور اسے تیز تر ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔

جاوید نے کہا، "کے پی میں دہشتگردی اور عسکریت پسندی کی ایک دہائی کے بعد، اب امن لوٹ آیا ہے اور ہمارا صوبہ اب سرمایہ کاروں، بالخصوص شعبہٴ آئی ٹی کے لیے محفوظ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ورک اراؤنڈ نے پشاور میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ورک اراؤنڈ نے کے پی کے نوجوانوں کے لیے تقریباً 700 براہِ راست ملازمتیں پیدا کی ہیں۔"

وزیرِ اعلیٰ کے پی کے مشیر برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی، زین اللہ بنگش نے کہا کہ ورک اراؤنڈ وزیرِ اعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی جانب ایک قدم ہے، جو ایک ڈیجیٹلی ترقی کرنے والا اور متحرک ملک پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے لیے ملازمتیں تشکیل دینے کی خواہشمند ہے تاکہ وہ تعمیری سرگرمیوں میں ملوث رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کے پی کو ڈیجیٹائز کرنا اوّلین ترجیحات میں سے ایک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہزاروں نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنے کے لیے"بی پی او سہولیات کے پی کے تمام بڑے اضلاع تک پھیلائی جائیں گی۔

بنیاد پرستی کی ممانعت

بنگش نے کہا کہ ایسی ملازمتیں ایک پلیٹ فارم فراہم کر کےنوجوانوں کو بنیاد پرستی سے دور رکھنے میں مددگار ہوں گی۔

انہوں نے کہا، "نوجوان آسانی سے ہدف اور شکار بنتے ہیں اور انہیں شدت پسند گروہوں کے لیے بھرتی کرلیا جاتا ہے۔ ملازمتیں پیدا کرنے میں نوجوانوں کو بالواسطہ اور بلا واسطہ شدت پسندی اور بنیاد پرستی سے بچانے کے روشن امکانات ہیں۔"

بنگش نے کہا، "ملازمتوں کی قابلیت فراہم کرنے کے ذریعے، حکومتِ کے پی کا مقصد معیاری تعلیم اور ملازمت کے مناسب مواقع فراہم کر کے نوجوانوں کی پوری قابلیت کو سامنے لانا ہے۔۔۔ تاکہ شدت پسندی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے۔"

کے پی یوتھ امپلائمنٹ پروگرام کے ڈائریکٹر شعیب یوسفزئی کے مطابق، حکومتِ کے پی نوجوانوں کے لیے متحرک اور معیاری ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مسلسل نئی شاہراہیں تلاش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں بے روزگاری نوجوانوں کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا باعث بن سکتی ہے، لیکن ورک اراؤنڈ جیسے اقدامات اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "بی پی او نوجوانوں کو چھوٹی عمر ہی سے اپنا کیریئر بنانے اور باصلاحیت نوجوانوں کو مستقبل کے رہنماؤں میں بدلنے کے لیے ایک امّید افزا شعبہ ہے۔"

انہوں نے کہا، "ابتدائی عمر ہی سے روزگار حاصل کر کے، یہ نوجوان منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بجائے خود کو اور اپنے خاندانوں کی معاونت کرنے کے قابل ہوں گے۔"

اس فرم میں ایک آئی ٹی آفیسر سید شہروز حیات نے کہا کہ پشاور میں تین بی پی او کمپنیوں میں سے ایک، سائیبریڈ، پاکستان، امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی ہے۔

انہوں نے ورک اراؤنڈ کے اقدام کی پذیرائی کی، اور مزید کہا کہ بی پی او صنعت کے پی کے شعبہ آئی ٹی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے ملازمتیں بھی تشکیل دے گی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے نوجوان نہایت باصلاحیت اور توانائی سے بھرپور ہیں اور انہیں بڑھنے کے لیے صرف ورک اراؤنڈ جیسے مواقع کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "مجھے خوشی ہے کہ حکومتِ کے پی نوجوانوں کی مثبت تونائی کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔"

حیات نے کہا، "غربت اور بے روزگاری۔۔۔ شدت پسند گروہوں کے ساتھ ملوث ہونے کی بنیادی وجہ ہے، مجھے یقین ہے کہ ورک اراؤنڈ جیسے منصوبے نوجوانوں کوعسکریت پسندی یا دیگر ضررررساں سرگرمیوں کا انتخاب کرنےکے بجائے ایک شاندار کیریئر کا تعاقب کرنے کے لیے ایک مستحکم پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)