https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/06/feature-01
تعلیم

کے پی طلبا نے بمباری کے بعد پڑھائی جاری رکھ کر عسکریت پسندوں کو للکارا ہے

جاوید خان

image

گورنمنٹ ہائی اسکول ماشوخیل کے طلباء گزشتہ نومبر میں خیموں میں پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسکول کی تعمیر جاری ہے۔ [فیس بک]

پشاور -- پشاور کے جنوب میں موجود گاؤں کے طلباء عسکریت پسندوں کو للکارتے ہوئے اپنی تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے خیبر پختونخواہ (کے پی) بھر میں کئی اسکولوں کو بموں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

ماشوخیل میں، دہشت گردوں نے جنوری 2013 میں گورنمنٹ ہائی اسکول کو دو بار بموں کا نشانہ بنایا۔ دوسرے حملے نے اسکول کو مسمار کر دیا۔

دھماکوں کے بعد بہت سے کلاس رومز اور اسکول کا برآمدہ مسمار ہو گئے جبکہ احاطے کی دیوار اور دیگر حصوں میں دراڑیں آ گئیں۔

تاہم، یہ تباہی طلباء کو روکنے میں ناکام رہی جنہوں نے کھلے آسمان تلے، خیموں یا اجنبیوں کے حجروں میں تعلیم کو جاری رکھا۔

image

گزشتہ نومبر میں گورنمنٹ ہائی اسکول کے خیموں میں بنے کلاس رومز کو دکھایا گیا ہے۔ [فیس بک]

image

گورنمنٹ ہائی اسکول ماشوخیل کے طلباء گزشتہ نومبر میں اپنے تباہ ہو جانے والے اسکول کے ملبے سے گزر رہے ہیں۔ [فیس بک]

علاقے کے ایک سابقہ طالبِ علم عدیل خان نے کہا کہ "دھمکیوں اور مشکل حالات کے باجود، کئی سو طلباء نے اسکول کے ایک قریبی عمارت میں منتقل ہو جانے کے بعد، اپنی تعلیم کو جاری رکھا"۔

خیموں میں پڑھنا

انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے اسکول کو خیمے مہیا کیے تاکہ طلباء گرمیوں کے گرم دنوں اور بارشوں کے دوران اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔

خان نے کہا کہ "اسکول کو دو بارہ نشانہ بنایا گیا مگر اس کے باجود وہ طلباء اور اساتذہ کو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہے جنہوں نے قریبی جگہوں پر اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا"۔

کے پی کی حکومت نے گزشتہ سال اسکول کے ایک استاد زاہد علی کی طرف سے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی ایک مہم کے بعد اسکول کی نئی عمارت کے لیے فنڈز کی منظوری دی تھی۔

ماشوخیل کے ناظم امجد خان نے کہا کہ "ہم نے بمبار کیے جانے والے اسکول کے طلباء کے لیے متبادل انتظامات کیے جب تک کہ انہیں نئی عمارت نہ مل جائے"۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر جلد مکمل ہو جائے گی۔

بنیادی انسانی حقوق

ایک مقامی مخیر شخص اور بزرگ جنہوں نے گزشتہ اپریل میں ایک ہجوم کی طرف سے ان افواہوں کے پھیل جانے کے بعد کہپولیو کے قطرے بچوں کو بیمار کر رہے ہیں، تباہ کیے جانے والے مقامی کلینک کی تعمیر کے لیے فنڈز مہیا کیے تھے، کہا کہ "تعلیم اور صحتِ عامہ بنیادی انسانی حقوق ہیں اور انہیں ہر شہری کو اس کی نزدیک ترین جگہ پر مہیا کیا جانا چاہیے"۔

انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں تباہ ہونے والے تمام اسکولوں کی دوبارہ تعمیر پر زور دیا اور کہا کہ طلباء ابھی تک قریبی نجی یا سرکاری شعبے کے اسکولوں میں کلاسیں لے رہے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی رفعت اللہ نے کہا کہ "کئی سو نہیں تو درجنوں اسکولوں کو دہشت گردوں نے پشاور، مالاکنڈ اور نئی منضمم ہونے والے اضلاع اور صوبے کے دوسرے قصبوں میں نشانہ بنایا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں پر بمباری اور انہیں جلائے جانے کے باجود "ہزاروں طلباء-- جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں -- نہ صرف اسکولوں میں بلکہ کالج اور یونیورسٹیوں میں اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

بالکل بے کار خبریں، ملک میں ہر طرف اسی طرح کے سکولوں کی بھرمار ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ سینٹ کام کا خبروں کا پورٹل بے کار خبریں لا رہا ہے، بطورِ خاص کے پی کے سے۔

جواب