https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/03/feature-02
سلامتی |

خاصہ دار اور لیویز فورسز کا کے پی پولیس میں انضمام طے

جاوید خان

image

18 جنوری کو خیبر کے دورہ کے موقع پر کے پی آئی جی پی ثناءاللہ عباسی(سامنے دائیں جانب) پولیس اور خاصہ داروں کے ساتھ تصویر بنوا رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

پشاور – حکومتِ خیبرپختونخوا (کے پی) نے سابقہ قبائلی اضلاع کی لیویز اور خاصہ دار فورسز کے صوبائی پولیس میں انضمام کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ 23 جنوری کو وزیرِ اعلیٰ محمود خان کی زیرِ صدارت ایک اجلاس سے آیا۔

حکومتِ کے پی کے ایک ترجمان اجمل وزیر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "حکومت نے قبائل سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کرنے کے لیے لیویز اور خاصہ داروں کے کے پی پولیس میں انضمام کی منظوری دے دی۔"

کابینہ کی منظوری کے بعد خاصہ داروں کے 29,000 کے عملہ میں سے 23,000 پولیس اہلکار بن جائیں گے۔ باقی ماندہ پر دوسرے مرحلے میں غور کیا جائے گا۔

وزیر نے کہا، "اس سے نو انضمام شدہ اضلاع میں امنِ عامہ کی صورتِ حال بہتر بنانے اور باقاعدہ پولیسنگ کا آغاز کرنے میں مدد ملے گی۔"

کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ثناء اللہ عبّاسی نے کہا کہ حکومت نے اس تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سپیشل برانچ قاضی جمیل الرّحمٰن کی سربراہی میں ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

حکام نےسابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں تھانوں کی تعمیر کے لیے450 ملین روپے (2.9 ملین ڈالر) بھی مختص کر دیے ہیں۔

ضلع خیبر میں لنڈی کوتل سب ڈویژن کے ایک رہائشی عبدالحکیم نے کہا، "اب لیویز اور خاصہ دار امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے مزید مرتکز ہوں گے، کیوں کہ کچھ عرصہ قبل تک وہ اپنی ملازمتوں سے متعلق غیر یقینی کا شکار تھے۔"

انہوں نے مزید کہا، "لیویز اور خاصہ دار مقامی قبائل سے ہیں اور وہ مؤثر طور پر اس علاقہ میں ریاست مخالف عناصر سے لڑ سکتے ہیں۔"

سپیشل پولیس اہلکار

کے پی پولیس نے 26 جنوری کو سالارزئی، باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں جاںبحق ہونے والے لیویز اور خاصہ دارکے سابق رکن اور ایک پولیس افسر واقف اللہ کے اہلِ خانہ کے لیے تلافی شہید پیکج تجویز کیا۔

احمد نے کہا، " نو انضمام شدہ اضلاع میں لیویز اور خاصہ دار اور اب پولیس کی قربانیاں بے مثال ہیں۔"

کے پی کابینہ نے 23 جنوری کے اسی اجلاس میں ان 9,000 سے زائد سپیشل پولیس آفیسرز (SPO’s) کی ملازمت میں توسیع بھی کی جن کو حالیہ برسوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے بھرتی کیا۔

عسکریت پسندی کے عروج کے وقت اہلکاروں کی کمی سے نمٹنے کے لیے ایسے اہلکاروں کو کے پی بھر میں کانسٹیبل بنا دیا گیا۔

ڈی آئی جی پولیس آپریشنز کاشف عالم نے کہا کہ SPOs کی سب سے بڑی تعداد سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں اس وقت بھرتی کی گئی جب وہاں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی