سلامتی

حکام نے باجوڑ میں ہلاکت خیز مارٹر حملے پر افغان عسکریت پسندوں کی مذمت کی

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

کے پی اسمبلی کے ایک رکن، انور زیب خان (دائیں) 3 فروری کو باجوڑ ڈسٹرکٹ میں مارٹر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

خار، باجوڑ -- حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے داغے جانے والا ایک مارٹر شیل، اتوار (2 فروری) کو پاک-افغان سرحد کے قریب، باجوڑ ڈسٹرکٹ میں ایک گھر پر گرا جس سے ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہو گئے۔

سینئر پولیس اہلکار گلزار خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ "افغانستان سے داغا جانے والا مارٹر مقامی دیہاتی فضل غنی کے گھر پر گرا۔ وہ اپنی بیوی اور خاندان کے پانچ دیگر افراد کے ساتھ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا"۔

ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین، تین بچے اور خاندان کا سربراہ شامل ہیں۔

یہ واقعہ باتوار بنگرو گاؤں میں پیش آیا جو کہ باجوڑ ڈسٹرکٹ کے مرکزی قصبے، خار سے تقریبا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

image

نارتھ پاکستان آرمی کے سیکٹر کمانڈر برگیڈیر غلام محمد ملک (بائیں) 3 فروری کو سرحد پار سے کیے جانے والے مارٹر حملے کی جگہ کا معائینہ کر رہے ہیں۔ [بہ شکریہ حنیف اللہ]

image

کے پی اسمبلی کے ایک رکن انور زیب خان (بائیں) 3 فروری کو سرحد پار سے کیے جانے والے مارٹر حملے کی جگہ کا معائینہ کر رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

خان نے کہا کہ پولیس اور امدادی حکام نے گاؤں کے رہائشیوں کی اس وقت لاشیں نکالنے میں مدد کی جب وہ جائے واقعہ پر پہنچے۔

خان نے کہا کہ "گھر تباہ ہو گیا تھا"۔

علاقے کے ایک سینئر سرکاری اہلکار انوار الحق نے اس واقعہ اور مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق کی اور کہا کہ مارٹر سرحد پار افغانستان کے کنڑ صوبہ سے داغا گیا تھا۔

حق نے کہا کہ شیل سے گھر کی چھت گر گئی جس سے خاندان کے افراد ہلاک ہو گئے۔

ایک سیکورٹی اہلکار نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ "عسکریت پسندوں نے افغانستان کی طرف سے ایک مارٹر شیل داغا جس نے شام سوا چار بجے فضل غنی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا"۔

اہلکار نے کہا کہ "افغانستان کے کنٹر صوبہ میں بنیاد رکھنے والے عسکریت پسندوں نے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی طرف پر حملے کیے ہیں اور وہ نہ صرف بے گناہ شہریوں بلکہ سیکورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں"۔

پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے والے سیکٹر کمانڈر نارتھ برگیڈیر غلام محمد ملک نے پیر (3 فروری) کو جائے واقعہ کا دورہ کیا۔

غلام نے متاثرین کے اہلِ خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں عسکریت پسندوں کی طرف سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے اس کام کی سخت مذمت کرتا ہوں اور ہم غریب خاندان کا گھر دوبارہ سے بنائیں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ غنی کے بیٹے کو جلد ہی سرکاری ملازمت دی جائے گی۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کے پی اسمبلی کے ایک رکن انوار زیب خان نے اس گولہ باری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "عسکریت پسندوں کی طرف سے ایسے حملے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو تباہ کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "کل میں نے کے پی کے وزیراعلی محمود خان کو فون کیا اور انہوں نے 500,000 روپے (3,200 ڈالر) فی شخص معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے حملوں کی مذمت بھی کی۔

اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے اس وقت طورخم سرحد کو کچھ دیر کے لیے بند کر دیا تھا جب افغانستان سے داغا جانے والا ایک مارٹر پاکستان میں گرا تھا مگر اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔

[باجوڑ سے حنیف اللہ نے اس خبر کی تیاری میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

دونوں طرف پختون شہید ہو رہے ہیں۔ اللہ امن لائے اور اللہ مشرف کو غرق کرے! یہ سب اس کے پھیلائے شر ہیں۔

جواب

حنیف اللہ خان صاحب! آپ کہاں ہیں، برائے مہربانی مجھے بتائیں۔

جواب