https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/31/feature-01
سفارتکاری |

جھوٹے نمود میں ایران کا دورہ کرنے والے مذہبی وفد کو توہین کا سامنا

پاکستان فارورڈ

image

گزشتہ فروری لاہور میں لیاقت بلوچ اسلامی جمہوریہ ایران کے یومِ قیام کی تقریب میں حاضرین سے خطاب کر رہے ہیں۔ [فائل]

اسلام آباد – پاکستانی مذہبی جماعتوں کے ایک اتحاد کے ارکان کو اعلیٰ ایرانی عسکری کمانڈر کے قتل پر تعزیت کے لیے دورہٴ تہران کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے۔

سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے کمانڈرمیجر جنرل قسیم سلیمانی 3 جنوری کو بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

سلیمانی آئی آر جی سی اور حکومتِ ایران کے لیے ضمنی جنگی افواج کے طور پر کام کرنے کے لیے تمام تر مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان میں شعیہ ملشیا تشکیل دینے اور تعینات کرنے کے ذمہ دار تھے۔

image

18 جنوری کو لیاقت بلوچ کی قیادت میں ایک وفد مشہد، ایران میں ایرانی مذہبی حکام سے ملاقات کر رہا ہے۔ [لیاقت بلوچ]

image

گزشتہ دسمبر کراچی میں جماعتِ اسلامی کے ارکان شام میں بشارالاسد کی حکومت کی جانب سے جاری خونریزی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ [فائل]

بطورِ خاص سلیمانی صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں شام میں لڑنے کے لیے بھیجے جانے والے پاکستانیوں پر مشتمل ایک ملشیا،زینبیون برگیڈکی پشت پر تھے۔

جماعتِ اسلامی (جے آئی) کے سیکریٹری جنرل اور ملّی یکجہتی کاؤنسل (ایم وائے کے) کے اعلیٰ رہنما لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک وفد نے 14-22 جنوری ایران کا دورہ کیا۔

ایم وائے سی کی پشت پناہی کے حامل ایک باقاعدہ منظورشدہ مشن کے اس وفد، جس سے متعلق لیاقت بلوچ نے ٹویٹر پر متعدد پیغامات بھیجے، نے تہران، مشہد اورقم کا دورہ کیا اور سلیمانی کے قتل پر ایران کے سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں سے اظہارِ تعزیت کیا۔

تاہم، پاکستان میں ایم وائے سی کے متعدد رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئے خود کو اس وفد سے دور رکھا کہ اتحاد نے اس وفد کی منظوری نہیں دی تھی اور یہ کہ الاسد حکومت کو سلیمانی کی حمایت ہزاروں شامی مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بنی۔

روزنامہ امّت کراچی نے 16 جنوری کو خبر دی کہ ایم وائے سی کی تین کلیدی جماعتوں – جمیعت علمائے اسلام (فضل) (جے یو آئی-ایف)، جمیعتِ علمائے اسلام (ایس) (جے یو آئی-ایس) اور جمیعت تحریکِ اہلِ حدیث پاکستان (جے ٹی اے پی) – نے اس وفد کے دورہ پر شدید خدشات کا اظہار کیا۔

1980 کی دہائی میں علمائے دین اور مذہبی رہنماؤں کے قتل کے بعد 1995 میں فرقہ واریت کی انسداد کے لیے مذہبی جماعتوں کے ایک غیر سیاسی اتحاد ایم وائے سی کا قیام عمل میں آیا۔

اگرچہ قیام کے وقت ایم وائے سی 50 سے زائد مذہبی گروہوں پر مشتمل تھا، تاہم ان میں سب سے زیادہ نمایاں جے یو آئی-ایف، جے یو آئی- ایس، جے ٹی اے پی اور جے آئی تھے۔

جے ٹی اے پی کے رہنما اور پاکستانی سینیٹ کے ایک رکن پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ایران اپنے مقاصد کے لیے ایم وائے سی کا پلیٹ فارم استعمال کر رہاے اور اس نے اس فورج کا ایجنڈا مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے، انہوں نے مزید کہا یہ وجہ تھی یہ اس گروہ نے کاؤنسل کو چھوڑ دیا۔

میر نے کہا، "دورہٴ ایران کرنے والا یہ وفد پاکستان اور اس کی مذہبی جماعتوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہ چند مذہبی جماعتوں کے چند افراد کا ایک چھوٹا گروہ ہے۔"

اس کاؤنسل کی سب سے بڑی مذہبی جماعت، جے یو آئی-ایف نے بھی اس وفد کے دورہٴ ایران پر تنقید کی۔

خیبر پختونخوا میں یو آئی-ایف کے سربراہ مولانا عطا الرّحمٰن نے روزنامہ امّت کراچی سے بات کرتے ہوئے کہا، "دورہٴ ایران کرنے والا یہ وفد نہ تو ایم وائے سی کا نمائندہ وفد ہے اور نہ ہی یہ ۔۔۔ پاکستان کے مختلف مکتبہ ہائے فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔"

ایک اور سینیٹر، رحمان نے کہا کہ ایم وائے سی گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال ہے اورایسی نازک صورتِ حال میں ایک وفد کا دورہٴ ایران حیران کن ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی، مشتاق فاروقی، جو مذہبی جماعتوں کو کور کرتے ہیں، نے کہا، "یو آئی-ایف، جے یو آئی-ایس اور جے ٹی اے پی کے غیر دستاویزی طور پر لاتعلق ہونے کے بعد ایم وائے سی گزشتہ کئی برسوں سے ایک غیر فعال مذہبی فورم بن چکا ہے۔"

تاہم، انہوں نے کہا کہ لیاقت بلوچ کے وفد کے دورہٴ ایران کے بعد، یہ اتحاد شدید تنقید کا نشانہ ہے۔

فاروقی نے کہا، "جے آئی سمیت پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ہزاروں مسلمانوں کے قتل پر الاسد کی شامی حکومت کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج منعقد کیے۔ اور سب جانتے ہیں کہ الاسد نے اس خونریزی کے لیے سلیمانی کی زیرِ قیادت ایرانی ملشیا کو استعمال کیا۔"

عدم سلامتی میں ایران کا کردار

کئی برسوں سے ایران خفیہ طور پر شعیہ عسکریت پسند گروہوں، بطورِ خاص سپاہِ محمّد پاکستان اورافغانستان میں طالبانکی حمایت کر رہا ہے۔

ایران سے حمایت اور فراہمیٴ مالیات کے ساتھ، ایس ایم پی پہلی مرتبہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت نمایاں ہوئی جب پاکستان میں فرقہ ورانہ تنازع اپنے عروج پر تھا۔ تب سے یہ گروہ علمائے دین اور پیشہ وران پر فرقہ ورانہ حملوں میں ملوث رہا ہے۔

حکام کے مطابق، اس گروہ کا مقصد ملک کی سنّی اور شعیہ برادریوں اور سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تناؤ پیدا کرنا تھا۔

تہران کی مداخلت اس وقت سامنے آئی جب آئی آر جی سی نے پاکستان شعیہ نوجوانوں، بطورِ خاص زائرین کو – اپنیزینبیون برگیڈکے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کی۔

کئی برسوں کے دوران اس تنظیم میں ملوث ہونے کے الزامات کے تعلق سے پاکستان میں درجنوں شیعہ نوجوان گرفتار ہو چکے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
38
تبصرے 7
تبصرہ کی پالیسی

جنرل سلیمانی داعش کے خلاف اقدامات کرتے تھے لیکن وہ شامی مسلمانوں کے قاتل تھے، یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔

جواب

ناصبی جھوٹے پراہیگنڈے سے عوام کو گمراہ نہیں۔کرسکتے، شہید قاسم سلمانی نے داعش کو نیست ونابود کیا تھا جو لاکھوں مسلمانوں کی قاتل تھی

جواب

آپ کی سعی بجا ہںے۔
قابل ستا ئش ہںے۔
اور شام کے مظلوم مسلمانوں کی آواز ہںے۔
ا

جواب

ٹوٹل جھوٹا پروپیگنڈہ ھے

جواب

JI نے امّت کے لیے اچھا کام کیا ہے۔

جواب

مسلمانوں کو مارنے والے داغیش تھے جو ایڈمن کے نسل سے تملق رکتھے تھے مسلمانو کو بچانے والا سلیمانی تھا لعنت جھوٹوں یذیدیوں پر

جواب

Aur kulbhoshan yadhv kya iran main naan chanay baichnay k liyay baitha huwa tha

جواب