https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/28/feature-03
سیاست

متنازع افغان سیاستدان پاکستان میں تہران کے لیے حمایت بڑھانے میں ناکام

عبدالغنی کاکڑ

image

2017 میں محمّد محقق تہران میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ۔ ان دونوں نے نومبر 2018 میں تہران میں 32 ویں بین الاقوامی اسلامی اتحاد کانفرنس میں دوبارہ ملاقات کی۔ [فائل]

کوئٹہ – دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ – ایران کی پشت پناہی کے حامل ایک افغان سیاست دان کے کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں کے دورہ میں دیکھی گئی – پاکستان میں حمایت حاصل کرنے کی تہران کی کاوشیں شکست کھا رہی ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر انٹیلی جنس عہدیدار کے مطابق، پیپلز اسلامک یونیٹی پارٹی آف افغانستان کے رہنما نے 13 جنوری سے ایک پانچ روزہ دورہٴ پاکستان کے لیے آنے والے دس رکنی وفد کی قیادت کی۔

اس عہدیدار نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پر کہا کہ اس وفد نے "نہ صرف کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں اعلیٰ عہدوں کے حکومتی عہدیداران بلکہ ایسے متعدد نمایاںشعیہ سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں جنہوں نے ہمیشہ ایرانی مفادات کے لیے کام کیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ امریکی معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایران متعدد شعبوں میں بحرانوں کا شکار ہے"، انہوں نے مزید کہا، "داخلی ناچاکیاں خطے میں ایران کے تضویری مفادات کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہیں۔"

image

پیپلز اسلامک یونیٹی پارٹی آف افغانستان کے محمّد محقق (نیچے سے بائیں جانب) نے 15 جنوری کو کوئٹہ میں پاکستانی حکام سے بات چیت کی۔ [فائل]

image

26 نومبر 2017 کو تہران میں محمّد محقق ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف کے ساتھ۔ کئی برسوں سے محقق نے صریحاً ایران کی جانب سے افغان اور پاکستانی شعیہ کو شام عراق اور دیگر مقامات پر تہران کے لیے لڑنے والی ملشیا میں بھرتی کرنے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ [فائل]

image

ایران کی پشت پناہی کے حامل سیاستدان محمّد محقق (بائیں) نے 16 جنوری کو کوئٹہ میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ سے ملاقات کی۔ [فائل]

انہوں نے کہا، "ایرانی کمانڈر میجر جنرل قسیم سلیمانی کے قتلکے بعد حکومتِ ایران اپنے مستقبل کے تضویری اہداف کے لیے اپنے ضمنی جنگی گروہوں کو متحد کرنے پر توجہ سے کام کر رہی ہے، لہٰذا، محقق کی سربراہی میں وفد یہاں گروہ بندی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔"

سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران (IRGC) کی قدس فورس کے کمانڈر، سلیمانی3 جنوری کو عراق میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

اس گروہ کی جانب سے دنیا بھر میں نفرت انگیز اقدامات کی کئی دہائیوں کے بعد، حکومتِ امریکہ نے گزشتہ اپریلIRGC کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

اس عہدیدار نے کہا، "پاکستان اور افغانستان میں دخل اندازی ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک جزوِ لازم ہے۔ ایران مذہبی رواداری اور اسلامی بھائی چارے کی آڑ میں ہماری سیاست میں اپنی جڑیں مستحکم کرنا چاہتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہماری دفاعی اور قومی سلامتی پالیسیاں نہایت شفاف ہیں، اور متعلقہ حکام کسی بھی خارجی رسوخ کو ناکام بنانے کے لیے نہایت توجہ سے کام کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں جس بنیادی وجہ سے اس وفد کو پاکستان بھیجا گیا تھا وہ ہر طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔"

ایران موافق بیانیہ کی حمایت

صوبہ خوست، افغانستان سے ایک کاروباری اور ایک مرتبہ کے افغان پارلیمان کے امّیدوار اختر زمان رئیسی کے مطابق، محقق اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کا کردار افغانستان میں متنازع رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، نومبر 2018 میں افغانستان کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کے طور پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے، محقق نے تہران میں 32 ویں بین الاقوامی اسلامی اتحاد کانفرنس میں شرکت کی، جہاں وہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملے اور کھلے بندوں ایک افغان مخالف بیانیے کی حمایت کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان شام اور عراق میں ایرانی حکومت کی جنگ کی بڑے پیمانے پرحمایت کرتا ہے، اور انہوں نے وہاں تنازع کو "جہاد" قرار دیا، اور اسلامی رہنماؤں پر ایران کے عسکری اہداف کی حمایت کرنے کے لیے زور دیا۔

کانفرنس میں ایک تقریر میں محقق نے سلیمانی اور افغانستان میں ایرانی مداخلت، ہر دو کی تعریف کی۔

انہوں نے ایران کی جانب سےIRGC کی فاطمیون ڈویژن. The کے پرچم تلے شام میں لڑنے کے لیے افغان "جنگجو" بھرتی کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔ شام میں ایرانی عسکری مفادات کے لیے تنخواہ دار سپاہیوں کے طور پر لڑنے کے لیے زینبیون برگیڈ میںIRGC پاکستانی شعیہ کو بھی بھرتی کرتا ہے۔

وائس آف امریکہ کے مطابق، محقق نے کہا، "میں جنگوں میں شرکت کرنے والے ان تمام جنگجوؤں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے عراق، شام، افغانستان، پاکستان اور دنیا کے دیگر حصّوں سے اس جنگ میں معاونت کی۔"

بعد ازاں جنوری 2019 میںصدر اشرف غنی نے محقق کو چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے نائب کے عہدہ سے معذول کر دیا۔

رئیسی نے کہا، "محقق کی زیرِ قیادت جماعت افغان شعیہ جنگجوؤں کی فاطمیون ڈویژن کی سب سے بڑی تسہیل کار ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایران خطے میں اپنی ضمنی جنگوں کے کردار کو بڑھانا چاہتا ہے ۔۔۔ اور افغانستان میں ایران کے کردار کو ہمیشہ شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔"

تہران کی جانب سے گروہ بندی کے خلاف پاکستان میں سردمہری

اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں شعبہٴ علومِ امن و تنازع کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر راشد احمد نے کہا کہ پاکستان کے داخلی امور میں ایران کے رسوخ کا خیرمقدم نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا، "اس دورے کا مقصد بڑے پیمانے پر ناکام ہو چکا ہے کیوں کہ محقق پاکستان میں ایران کے لیے حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔"

احمد نے کہا، "پاکستان نے پہلے ہی اپنے دفترِ خارجہ کے ذریعے اعلان کر دیا ہے کہ وہ تمام علاقائی بحرانوں میں غیر جانبدار رہے گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "اس خطے کا سیاسی منظرنامہ روز بروز بدل رہا ہے، اور علاقائی تنازع کے نتائج تمام ہمسایہ ممالک کے لیے بھاری نقصان کا باعث بنتے ہیں۔"

بیرونِ ملک پاکستانی بلوچ اتحاد کے وائس چیئرمین میرخدابخش ماڑی نے کہا، "بدلتی سیاسی و سلامتی صورتِ حال کی وجہ سے، تمام علاقائی ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں کا از سرِ نو اندازہ لگا رہے ہیں۔" پاکستان اور بیرونِ ملک ابواب کی حامل یہ تنظیم بلوچ علیحدگی پسندی سے لڑنے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا، "محقق کی سربراہی میں وفد کا حالیہ دورہٴ پاکستان ان پیشرفتوں کا جزُ ہو سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "سلامتی کی ایک مستحکم اور بہتر صورتِ حال ہمیشہ سے کسی ملک کی تضویری پالیسی کا ایک اہم جزُ سمجھی جاتی رہی ہے۔ جیسا کہ افغان امن کے عمل میں پاکستان کا ایک کلیدی کردار ہے۔۔۔ ایران ان مزاکرات میں ایرانی مفادات کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے زیرِ کفالت گروہوں کے ذریعے پاکستان میں گروہ بندی کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "معلوم ہوتا ہے کہ محقق کی سربراہی میں یہ حالیہ وفد تمام کاوشوں کے باوجود ایران کے لیے گروہ بندی کرنے میں ناکام رہا ہے۔"o

ماڑی نے کہا کہ خارجی مفادات کے لیے گروہ بندی کرنے والا کوئی بھی گروہ پاکستان میں کامیاب نہیں ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بیانیہ پاکستان میں بآسانی قبول نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا، "پاکستان کسی بھی خارجی مفادات کے لیے کبھی بھی اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 11
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

مسلمانوں کے مابین نفرت بھڑکانے کی غرض سے مکمل طور پر غیر متعلقہ مکالہ اور مصنف شعیہ مسلمانوں کے خلاف کینہ بھی ظاہر کر رہا ہے۔

جواب

میں نے اس ویب سائٹ پر پہلے بھی پڑھا ہے. یہ غیر جانبدار نہیں لکھتے ان کا نصب العین خطرناک معلوم ہوتا ہے. میں اس کو بلاک کرنے جا رہا ہوں فیس بک پر کہ دوبارہ سامنے نہ آ سکے.

جواب

کیا ایران کی خارجہ پالیسی اتنی کمزور ہے کہ پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بقول کاکڑ صاحب کے ایک کمزور اور متنازع افغان سیاستدان کی مدد کا سہارا لیں کیا ایران اپنی خارجہ پالیسی کے کرتا دھرتاؤں سے یہی ڈپلومیسی نہیں کرسکتا

جواب

کیا اس اخبار کو دہشتگردوں کی جانب سے مالیات فراہم کیے جاتے ہیں؟
شرم کرو

جواب

لفافہ خالی پاکر لکھاری کو خوب غصہ چڑھا ھے تبھی کمترین معلومات و بھی غلط سمجھ بوجھ کر قلم جیسی طاقت کا خوب مذاق اڑایا غنی کاکڑ صاحب نے ۔

جواب

نامعروف تجزیہ کار اور پاکستان دشمن لکھاری پاکستان کو برادر ہمسایہ اسلامی ممالک سے دور کرنے کی سازش کے درپے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی دنیا میں تنہا کرنے کی مزموم کوششیں کی جارہی ہیں تا کہ ہمسایہ دشمن ملک پاکستان کو بآسانی نگلنے میں کامیاب ہوجائے۔

جواب

انتہائی بھونڈی تحریر۔ صرف وہ لوگ اس تحریر پر اعتماد کریں گے جنکو افغانستان کی اس بڑی شخصیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ھے

جواب

اس کالم میں تجزیہ نگاری کا ذرہ برابر رنگ نہیں بلکہ نسل پرستی کو نہایت خوب صورت انداز میں دفاع کرنے کی انتہائی ناکام کوشش کی ہے، ایسے پیٹ پرست اور نسل پرست ( انسان دشمن) لکھاریوں کی بھر مار ہیں۔ تعجب کی کوئی بات نہیں۔

جواب

بالکل لغو

جواب

یہ مکالہ حقائق سے دور ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نام نہاد نیوز آؤٹ لیٹ اور اس کے نام نہاد مکالہ نویس امتیازی بیانیہ کے حامل ہیں، جس کی گوہی اس مکالہ میں منتخب ہر لفظ دے رہا ہے۔

واضح طور پر فاطمیوں برگیڈ رضاکاروں پر مشتمل ہیں، نہ کہ تنخواہ دار جنگجوؤں پر، انہیں نہ تو پیسے دیے جاتے ہیں اور نہ کسی قومیت کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

ایشیا نیوز کے لیے دو الفاظ “غلط خبریں”

جواب

وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں لیکن بعد میں پاکستان کے اہلِ تشیعہ کو اپنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاج نہیں کرنا چاہیئے۔ وہ ایران کے لیے کام کرنے گئے تھے، اب اپنا منہ بند کرو اور ان کا انتظار کرو۔

جواب