https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/27/feature-02
معیشت |

اضاخیل میں نئی خشک بندرگاہ پاک-افغان تجارت کو بڑھائے گی

عدیل سید

image

وزیراعظم عمران خان، 10 جنوری کو نوشہرہ ڈسٹرکٹ کے علاقے اضاخیل میں نئی تعمیر شدہ خشک بندرگاہ کے افتتاح کے موقع پر تختی کی نقاب کشائی کر رہے ہیں۔ [پریس اور انفرمیشن کا شعبہ]

پشاور - پاکستانی حکومت نے نوشہرہ ڈسٹرکٹ کے علاقے اضاخیل میں ایک نئی خشک بندرگاہ کا افتتاح کیا ہے جس کا مقصد پاک-افغان تجارت کو فروغ دینا اورایسے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو ابھی تک ایک دہائی تک جاری رہنے والی عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی لہر کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے 10 جنوری کو اس منصوبے کا افتتاح کیا جسے کارکنوں نے 510 ملین روپے ( 3.4 ملین ڈالر) کی لاگت سے تعمیر کیا ہے۔

ریلوے کی وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے تقریب کے موقع پر کہا کہ "اضاخیل خشک بندرگاہ جو کہ 64 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے، ملک میں دوسری بڑی انتہائی جدید خشک بندرگاہ ہے اور یہ کراچی سے سامان کی ملک کے دوسرے علاقوں اور افغانستان تک نقل و حمل کو تیز تر بنائے گی"۔

اس خشک بندرگاہ کی کاروباری برادری نے بہت زیادہ تعریف کی ہے اورانہوں نے اسے ملک کے اندر اور علاقے میں، جس میں افغانستان بھی شامل ہے، تجارت کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایک تاجر اور فرنٹئر کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر، ضیاء الحق نے کہا کہ "پشاور کے سرحدی شہر میں، نئی اور جدید خشک بندرگاہ بنانے سے پاک-افغان تجارت کو فروغ ملے گا اور علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی جس نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران امن و امان کی ناقص صورتِ حال کے باعث بہت زیادہ تنزلی دیکھی ہے"۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) میں نوشہرہ اور دیگر اضلاع کو کئی سالوں تک جاری دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے باعث بڑے پیمانے پر اقتصادی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے شہریوں کی ہجرت کو دیکھنا پڑا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب جب کہ فوجیوں نے علاقے میں امن کو بحال کر دیا ہے اور عارضی طور پر بے گھر ہو جانے والے افراد اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ہیں، توقع ہے کہ اضاخیل خشک بندرگاہ جیسے اقدامات سے مقامی معیشت کو دوبارہ سے بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

'ایک خوش آئند پیش رفت'

سرحدی نے کہا کہ کاروباری برادری نے طویل عرصے سے ایک جدید اور ساز و سامان سے مکمل طور پر لیس خشک بندرگاہ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان کی کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

سرحدی نے کہا کہ پشاور کی موجودہ خشک بندرگاہ پر مناسب سہولیات کے نہ ہونے کے باعث، افغانستان کے ساتھ تجارت -- خصوصی طور پر تازہ سامان جس میں سبزیاں، گوشت اور پولٹری شامل ہے-- کی برآمد پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی خشک بندرگاہ پر موجود سہولیات کے باعث، کاروبار اب زیادہ آزادنہ طور پر ان اشیاء کی درآمد اور برآمد میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا۔

سرحد ایوانِ صنعت و تجارت (ایس سی سی آئی) کے قائم مقام صدر شاہد حسین نے کہا کہ "یہ ایک خوش آئںد پیش رفت ہے اور اس سے علاقے کی معیشت پر مثبت اثرات ہوں گے"۔

حسین جو کہ افغانستان کو سیمنٹ اور دوسرا ساز و سامان برآمد کرتے ہیں نے اتفاق کیا کہ خشل بندرگاہ سے دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان امیدیں بڑھ رہی ہیں۔

حسین نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صارفین پر زیادہ کرایہ لگانے سے اجتناب کرے تاکہ یہ خشک بندرگاہ کامیاب ہو سکے۔

افتتاح کے موقع پر، ریلوے کے وفاقی وزیر احمد نے ایم ایل-ون ریلوے تعمیراتی پراجیکٹ میں پشاور سے جلال آباد تک ریل کی سہولت کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ ایسا کرنے سے مستقبل میں کراچی سے افغانستان اور وہاں سے مشرقِ وسطی کی جمہوریات (سی اے آر ایس) کو ریل کے ذریعے جوڑنا ممکن ہو جائے گا۔

ایم ایل -ون کراچی اور پشاور کے درمیان مرکزی ریلوے سروس ہے۔

بہت سے کاروباری اقدامات کیے جائیں گے

راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر صبور ملک توقع کرتے ہیں کہ نئی خشک بندرگاہ، علاقے بھر میں تجارت کو بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ "اس خشک بندرگاہ سے ملک کی ساری کاروباری برادری کو فائدہ ہو گا اور یہ نوشہرہ کو افغانستان اور سی اے آر ایس کے ساتھ تجارت کا ایک مرکز بنا سکتی ہے"۔

ملک نے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ایک پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم اس بندرگاہ کو موثر طور پر کام کرنے کے قابل بنا لیں تو ہم حیران کن کام کر سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا بہت امکان موجود ہے اور اگر اس سے مناسب طور پر فائدہ اٹھایا جائے تو اس سے سارے ہی علاقے کو فائدہ ہو گا۔

پاکستان-افغانستان ایوانِ صنعت و تجارت (پی سے جے سی سی آئی) کے چیرمین محمد زبیر موتی والا نے 12 جنوری کو ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابلِ تعریف ہیں اور اس سے علاقے میں اقتصادی تیزی شروع ہو سکتی ہے۔

ایک ایسا قدم گزشتہ سال طورخم سرحدی چوکی کو، ہفتہ کے ساتوں دن کھولنا بھی تھا جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان واقع ہے۔

کے پی کے وزیرِ مالیات تیمور جھگڑا نے کہا کہ "پاکستان کی طرف سے طورخم کی سرحدی کراسنگ کو ہفتہ کے ساتوں دن چوبیس گھنٹوں تک کھلا رکھنے کے فیصلےنے اچھے نتائج دکھائے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 32 بلین روپے (210 ملین ڈالر) تک بڑھ گئی ہے اور برآمدی ڈیوٹی 4.4 بلین روپے (3 ملین ڈالر) ہو گئی ہے۔

جھگڑا نے کہا کہ تجارتی سہولیات کو بہتر بنائے جانے اور دیگر اقدامات سے کاروبارں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور پاکستان سے افغانستان کو سالانہ برآمدات کے 77 بلین روپے (500 ملین ڈالر) تک بڑھ جانے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر سے دسمبر 2019 کی چوتھائی میں پہلے ہی پاک-افغان تجارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی