احتجاج

بڑھتے ہوئے داخلی تناؤ میں مسلح افراد نے ایرانی ملشیا کمانڈر کو ہلاک کر دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں جنوری کے اوائل میں تہران میں سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرتے ایرانی احتجاج کنندگان دکھائے گئے ہیں۔ [فائل]

تہران – ریاستی خبر رساں ایجنسی IRNA نے خبر دی کہ خوزیستان کے جنوب مغربی صوبے میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ایران کے باسِج ملشیا کے ایک کمانڈرکے قتل کے بعد ایران کے اندر بدامنی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ عبدالحسین موجادمی کو "ایک کلاشنکوف اور شاٹ گن سے مسلح دو موٹرسائیکل سواروں" نے 22 جنوری کو صوبائی صدرمقام اہواز سے تقریباً 70 کلومیٹر دور اپنے گھر کے باہر قتل کر دیا۔

شدید قدامت پسندوں سے قریب تر فارس نے کہا کہ موجادمی ایرانی انتظامیہ کے ایک وفادار ملشیا، باسِج کا ایک رکن تھے۔

انہوں نے ایک کپتان کے درجہ کے ساتھ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران (IRGC) کی وردی میں ان کی ایک تصویر شائع کی۔

کہا گیا کہ ان کی ہلاکت کا باعث بننے والے "دہشتگردانہ اقدام" کی ذمہ داری کسی نے قبول نہ کی۔

خوزیستان وسط نومبر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے ردِّ عمل میں ہونے والے اس پر تشدد احتجاج کے مراکز میں سے ایک تھا، جو تقریباً 100 قصبوں اور شہروں میں پھیل گیا۔

لندن اساسی حقوقِ انسانی کے گروہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ بدامنی پر کریک ڈاؤن میں 300 سے زائد افراد مارے گئے، جن میں خوزیستان سے 40 افراد شامل تھے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے سفیرِ حقوقِ انسانی (OHCHR) نے بھیایرانی حکومت کی جانب سے غیر مسلح احتجاج کے خلاف وحشیانہ قوت کے استعمال کی تصدیق کی۔

OHCHR نے کہا کہ باسِج ملشیا کے ارکان اور IRGC مظاہرین پر گولیاں چلانے میں ملوث تھے۔

حاںبحق ہونے والوں میں کم از کم 13 خواتین اور 12 بچے شامل تھے۔

بڑھتی ہوئی بدامنی

رواں ماہ کے اوائل میں IRGC کی جانب سے ایک یوکرائنی مسافر بردار طیارہ مار گرائے جانے کے اعتراف کے بعد ایران میں حکومت مخالف احتجاج دوبارہ تیز ہو گیا۔

اس اعتراف اورپردہ ڈالنے کی کوشش میں اس سانحہ سے متعلق IRGC اور اعلیٰ ایرانی عہدیدارن کے جھوٹ کے علمنے ملک بھر میں ایک نئے عوامی غم و غصہ اور بے مثال احتجاج کو بھڑکا دیا۔

بڑھتی ہوئی مخالف آبادی اور ایک تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کا سامنا کرتے ایرانی رہنما حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب کے خلاف سختی دکھا رہے ہیں۔

اگرچہ حالیہ مظاہرے ایران کی جانب سے طیارہ مار گرائے جانے اور اس سانحہ سے نمٹنے میں ایرانی رہنما کی مبینہ نااہلیت کی وجہ سے بھڑکے، تاہمایران کے مستقل معاشی المیوں کی وجہ سے غم و غصہ کی ایک گہری لہر موجود ہے۔

ان معاشی مشکلات اور ان کی وجہ سے داخلی بدامنی نے پچھلی مرتبہ مغرب کے خلاف سختی دکھاتے ہوئےایرانی حکومت کی مغرب کے مدِ مقابل ہونے کی خواہش کو نقصان پہنچایا ہو گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دنیا کی نمائندہ جمہوریتوں کو چاہیئے کہ ایران جیسے عوام مخالف اور غیر جمہوری نظاموں کے خلاف کاروائی کریں اور وہاں جمہوری گروہوں کی حمایت کریں تاکہ جمہوریت پنپ سکے۔

جواب