https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/22/feature-01
دہشتگردی |

ٹی ٹی پی کے سرکردہ انتہا پسند ارکان کی گرفتاریاں انتہا پسندی کے خلاف مسلسل کامیابی کا مظہر ہیں

ضیاء الرحمان کے قلم سے

image

کراچی پولیس نے دسمبر 2019 میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔ کراچی میں ٹی ٹی پی کے ایک اہم سربراہ کی حالیہ گرفتاری پاکستانی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ [ ضیاء الرحمان]

کراچی – سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق، کراچی میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک اہم سربراہ کی حالیہ گرفتاری دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیےقانون نافذ کرنے والے صوبائی اداروں کی مسلسل مشترکہ کاوشوں کا مظہر ہے

سندھ رینجرز نے 15 جنوری کو کراچی کے ضلع غربی میں ہونے والی چھاپہ مار کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سوات سے تعلق رکھنے والے دو انتہا پسندوں کو گرفتار کیا۔

نیم فوجی دستے کے ایک ترجمان کے مطابق ‘‘گرفتار ہونے والے انتہا پسند – راشد الیاس خان بابا اور اسماعیل الیاس چپس والا – وادی میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث خیبر پختونخواہ (کے پی) میں سوات پولیس کو مطلوب تھے۔

image

دسمبر 2019 میں سماجی شہری کارکنان نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ٹی ٹی پی کے بہیمانہ قتلِ عام کی پانچویں برسی کے موقع پر ٹی ٹی پی کی سفاکیت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس سانحہ میں 150 سے زائد افراد لقمۂ اجل بنے، جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے تھے۔ [ضیاء الرحمان]

سندھ پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) نے بھی 18 دسمبر کو کراچی کی پرانی سبزی منڈی کے گرد و نواح سے کے پی ضلع بونیر کے ایک اہم ٹی ٹی پی کمانڈر رحمت علی کو گرفتار کیا تھا۔

ایک سینئر سی ٹی ڈی اہلکار، ملک الطاف کے مطابق ‘‘علی نے ٹی ٹی پی کے دیگر انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر اپریل 2009 میں ضلع بونیر میں نیم فوجی سرحدی عسکری فورس کے عملے کی جانب سے چلائی جانے والی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا تھا، جو ایک ماہ تک ان کے قبضے میں رہی تھی۔’’

کے پی کی حکومت نے علی کے سر کی قیمت 2 ملین روپے (12,930 امریکی ڈالرز) مقرر کر رکھی تھی۔

الطاف کے مطابق، چیک پوسٹ کو مالاکنڈ ڈویژن میں ٹی ٹی پی کے خلاف شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد خالی کروا لیا گیا تھا۔ تاہم، ٹی ٹی پی کے دیگر بہت سے سربراہوں کی طرح علی بھی افغانستان فرار ہوگیا تھاتاکہ گرفتاری سے بچ سکے۔

گزشتہ سال ستمبر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضلع بونیر (کے پی) میں دہشت گردی کے خلاف ایک کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا۔

اس کریک ڈاؤن کا آغاز اگست میں ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے کی خبروں کے بعد اس وقت کیا گیا جب عوامی نیشنل پارٹی کے ایک پارلیمانی نمائندے سردار حسین بابک نے انتہا پسندوں کی جانب سے بھیجے گئے دھمکی آمیز خطوط کو آشکار کیا۔

اسی ماہ کے پی کی پولیس سی ٹی ڈی نے ضلع مانسہرہ میں ٹی ٹی پی کے ایک اہم کمانڈر عظیم جان الیاس قاری خاکسار کو گرفتار کیا، جو 2002 میں کراچی میں وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل کے اغواء اور قتل میں ملوث تھا۔

سی ٹی ڈی کی ایک پریس ریلیز کے مطابق ‘‘جان ضلع شانگلہ میں ٹی ٹی پی کا ایک فعال رکن تھا ... وہ کراچی منتقل ہوگیا تھا جہاں وہ دہشت گردوں کا ایک اہم سرغنہ تھا۔’’

نیٹ ورک منتشر ہوچکا ہے

ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل منظرِعام پر آنے کے بعد سے، انتھک فوجی آپریشنز، اس کے سرغنہ افراد کی ہلاکت اور گرفتاریوں اور داخلی ٹوٹ پھوٹ کے باعث ٹی ٹی پی کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

ٹی ٹی پی نے 14 دسمبر 2007 کو منظرِعام پر آنے کے بعد سے دیگر مختلف انتہا پسند گروہوں کے لیے ایک مرکز کا کردار ادا کر رکھا ہے۔

ابتدا میں یہ گروہ کے پی کے حصوں اور ان کے ساتھ ساتھ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) تک مرتکز تھا، لیکن آنے والے برسوں میں اس گروہ کے دائرۂ اثر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ٹی ٹی پی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ایک اہم علامت بن کر ابھری اور شہریوں بشمول اسکول کے بچوں، نمازیوں، انسدادِ پولیو کی ٹیموں اور قانون نافذ کرنے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے لاتعداد حملوں میں ملوث رہی۔

تاہم، ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز نے طالبان کے کنٹرول اور کمانڈ سسٹم کو منتشر کرکے اس کی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوکر بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کا نیٹ ورک کمزور کردیا۔

اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک، پاک انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ امنِ عامہ (پپس) کی جانب سے شائع کردہ ایک سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2019 میں بھی ٹی ٹی پی عدم استحکام کا بنیادی سبب بنی رہی اور دہشت گردی کے 82 حملوں میں اس کے ملوث ہونے کے شواہد ملے۔

ان حملوں میں سے، 69 کے پی میں اور 13 بلوچستان میں رونما ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، اس سب کے باوجود ٹی ٹی پی 2019 میں بڑی تعداد میں اپنے سربراہوں اور ارکان کی ہلاکت اور گرفتاریوں کی صورت میں خاطر خواہ نقصان سے دوچار ہوچکی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی