https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/21/feature-01
صحت

دہشتگردوں کا پراپیگنڈا بچوں کو مسلسل پولیو کے خطرہ کی زد میں لا رہا ہے

اشفاق یوسفزئی

image

18 دسمبر کو پشاور میں ایک ویکسینیٹر ایک بچے کو پولیو کے خلاف ایمیونائز کر رہا ہے۔ [کے پی محکمہٴ صحت]

پشاور – عسکریت پسندوں کی پولیو ویکیسن مخالف کوششوں کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں بچے مسلسل بیمار ہو رہے ہیں۔ 2019 میں دونوں ملکوں میں اس بیماری کے کل 160 واقعات سامنے آئے۔

انسدادِ پولیو کے عالمی اقدام (جی پی ای آئی) کے مطابق، 2019 میں پاکستان اور افغانستان میں وائلڈ ٹائپ پولیو کے بالترتیب 136 اور 28 واقعات رونما ہوئے۔

عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں انسدادِ پولیو کے ترجمان اولیور روزینبائیور نے کہا کہ دہشتگردی دنیا بھر میں انسدادِ پولیو کی راہ میں حائل ہے، اور دونوں ملکوں کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت ہائے عملی وضع کرنے کو کہا گیا ہے کہ تمام بچوں کو ویکسین دی جائے۔

صرف خیبر پختونخوا (کے پی) میں پولیو کے 92 واقعات ہوئے۔

image

یہاں پولیو ویکسینیشن کے حق میں جاری کیا گیا ایک عالمِ دین کا فتویٰ دکھایا گیا ہے، جس سے دسمبر میں ہونے والی گزشتہ مہم کے دوران انکار کے واقعات کی تعداد میں کمی لانے میں مدد ملی۔ [اشفاق یوسفزئی]

انسدادِ پولیو کے لیے پاکستان کے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا، "جیسا کہ ہم پولیو ایمیونائزیشن کے خلاف ہچکچاہٹ کا اظہار کرنے والوں کوآگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا پولیو ویکسینیشن کے خلاف پراپیگنڈا کی انسداد کے لیے ہماری بالکل نئی حکمتِ عملی ہے۔"

پاکستان میں پانچ برس سے کم عمر کے ایسے 39 ملین بچے ہیں جنہیں ویکسینیٹ کیا جانا ہے، تاہم والدین کی جانب سے انکار کی وجہ سے 200,000 ایمیونائزیشن سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ملک میں ایک برس کے دوران ویکسینیشن کی چار مہمات چلائی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم نے علمائے دین، کیمیونیٹی کے عمائدین اور بارسوخ افراد کو مصروفِ کار کیا ہے کہ والدین کو سمجھائیں کہ ویکسینیشن محفوظ ہے اور بچوں کو معذوریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم ایک اور ملک، افغانستان، جہاں پولیو عام ہے، سے معاونت مستحکم کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔"

اس کے علاوہ نائجیریا واحد ملک ہے جہاں پولیو عام ہے۔

صفدر نے کہا کہ طبی عملہ نے ویکسین دیے جانے کو یقینی بنانے کے لیے دسمبر میں سرحد کی دونوں جانب ایک مربوط مہم چلائی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو ردِّ عمل کے منصوبوں اور نئے واقعات سے متعلق آگاہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "آخری مرتبہ [نومبر میں] ہماری افغان ٹیم کے ساتھ ابوظہبی میں آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ ہم پولیو اوورسائیٹ بورڈ [پی او بی] کے حواشی میں ملے، جہاں مسائل اور مزید معاونت سے متعلق بحث ہوئی۔"

پی او بی، جی پی ای آئی کی نگرانی کرتا ہے۔

دہشتگردی کا سامنا کرنے والے ایک اور ملک، افغانستان نے بھی ایسی ہی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔

افغان انسدادِ پولیو پروگرام کے ایک ترجمان میر جان راکیش نے کہا، "والدین کے انکار کی وجہ سے [افغانستان میں] تمام متاثرہ بچوں کو ویکسین نہیں دی گئی تھی۔"

انہوں نے کہا، "ہم پاکستان کے ساتھ معاونت سے 2020 میں میکانزم تشکیل دینے اور ویکسینیشن کے خلاف عسکریت پسندوں کے پراپیگنڈا کو ناکام بنانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔"

راسخ نے کہا کہ ماضی میں پاک افغان سرحد پار کرنے والے بچوں کی ویکسینیشن نہ ہونا بنیادی مسئلہ تھی، جسے حکام نے حل کر دیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اب دونوں ملک سرحد کی دونوں جانب اپنی پولیو ویکسینیشن مہمات کو مربوط کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن سے محروم تقریباً 50,000 بچے بنیادی مسئلہ رہے ہیں، جبکہ طبی عملہ ہر مہم میں 5.6 ملین بچوں کو ہدف بناتا ہے۔ یہ مہمّات ایک برس میں تین مرتبہ چلائی جاتی ہیں۔

"راسخ نے کہا، " اس پراپیگنڈا کی انسداد کے لیےہم نے علمائے دین کی حمایت حاصل کی ہے، تاکہ وہ عوام کو سمجھا سکیں کہ اسلام میں ویکسینیشن کی اجازت ہے اور یہ کہ دہشتگرد بچوں کو معذور کرنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "دہشتگرد بچوں کو معذوریوں کی زد میں لانے اورانہیں تعلیم سے محروم کرنے کے لیے سکولوں اور صحت کی تنصیبات کو تباہ کر رہے ہیں، لیکن ہم ان لوگوں کو جیسے کو تیسا کے مترادف ردِّ عمل دے رہے ہیں جو ہمیں واپس پتھر کے دور میں بھیجنا چاہتے ہیں۔"

انکار سے نمٹنا

کے پی سے تعلق رکھنے والے، پولیو کے لیے ایک فوکل پرسن، ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ پاکستانی حکام نے والدین کی جانب سے پولیو ویکسینیشن سے انکار سے نمٹنے میں پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے کہا، "ایک مقامی عالمِ دین، جو قبل ازاں ویکسینشن کے مخالف تھے، اب ہماری حمایت کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے، جس کے مرہونِ منّت انکار میں نمایاں کمی آئی ہے۔"

جان نے کہا، "پشاور میں والدین کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے 50,000 بچے رہ جایا کرتے تھے، یہ تعداد دسمبر میں چلائی جانے والی گزشتہ مہم میں کم ہو کر صرف 4,000 رہ گئی۔"

19 دسمبر کو مدرسةالکتاب والسنّہ، پشاور کے ڈائریکٹر مولانا محمّد امین نے ایک فتویٰ جاری کیا، جس میں انہوں نے اپنے مقلدین سے اپنے بچوں کو پولیو کے خلاف ویکسینیٹ کرانے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا، "قبل ازاں ہم پولیو ویکسینیشن کے خلاف تھے، لیکن اب طبّی تحقیق اور علمائے اسلام کی جانب سے جاری کیے گئے فتاویٰ کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ یہ قطرے محفوظ ہیں اور بچوں کی ضرورت ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ انہوں نے صوبے بھر میں اپنے ساتھی علماء کو بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

امین نے کہا کہ دہشتگردوں کی جانب سے ویکسینیشن کے خلاف پراپیگنڈا قابلِ مذمت ہے، کیوںکہ اس کا مقصد بچوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام والدین پر اپنے بچوں کی صحت کی نگہداشت واجب کرتا ہے اور ویکسینشن سے انکار کرنے والے دین کی مخالفت کر رہے ہیں۔

امین نے کہا کہ امراض کے خلاف روک تھام کے اقدامات اسلام سے مطابقت میں ہیں۔

کے پی میں پولیو کے خلاف لڑائی کے لیے ہنگامی کاروائیوں کے مرکز کے معاون عبدالباسط نے کہا کہ ذاتی مفادات پر مبنی پولیو سے متعلق پراپیگنڈا اس بیماری کی بیخ کنی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم پولیو ویکسینیشن کے خلاف پراپیگنڈا کی انسداد اور والدین کو اپنے بچوں کو ایمیونائز کرنے کی ترغیب دے کر حکومت کی مدد کرتے ہوئے اس قومی مقصد کی حمایت کرنے کے لیے میڈیا، سول سوسائٹی، متعلقہ محکموں [حکومتی ایجنسیوں] اور معاشرے کے متعلقہ حصّوں کو ترغیب دے رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہعسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے باوجودمہمات چلانے میں اپنی ہمّت پر انسدادِ پولیو کے محاذ پر رہنے والے کارکنان تعریف کے مستحق ہیں۔

انہوں نے پولیو ویکسینز کے ضرر رساں نہ ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اور نیشنل ڈرگ ریگولیٹر نے ان کی تصدیق کی ہے۔

پشاور میں ماتھرا کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ محمّد شاہ نے کہا، "اگست 2019 میں میرے بچوں میں سے ایک میں پولیو کی تشخیص ہوئی کیوں کہ اسے ویکسین نہیں دی گئی تھی۔ گزشتہ چھ ماہ میں میں اپنے دوسرے بیٹے کو ویکسین کرا رہا ہوں تاکہ اس کی اچھی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے علاقے کے متعدد باشندے پچھتا رہے ہیں کیوں کہ انہوں نے افواہوں پر یقین کیا اور اپنے بچوں کو معذوریوں کی زد میں لے آئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)